health & Food

امریکا میں نوجوانوں میں کافی کے بجائے ٹھنڈے مشروبات کا رجحان بڑھ گیا

امریکا میں نوجوان صارفین کے درمیان روایتی گرم کافی کے بجائے مختلف ذائقوں اور انداز میں تیار کیے جانے والے ٹھنڈے مشروبات کی مقبولیت تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس سے کافی شاپس اور فاسٹ فوڈ چینز بھی اپنی مصنوعات اور مارکیٹنگ حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور ہوگئی ہیں۔

نیویارک اور کیلیفورنیا کے درمیان وقت گزارنے والی 21 سالہ ایلین لنگ کا کہنا ہے کہ وہ کافی کے لیے مقامی کیفے کو ترجیح دیتی ہیں، جبکہ Starbucks سے زیادہ تر ٹھنڈے مشروبات لینے جاتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں اسٹاربکس کی کافی زیادہ میٹھی لگتی ہے اور وہ وہاں جانے کی صورت میں عموماً ’ریفریشر‘ پینا پسند کرتی ہیں۔

اسٹاربکس، جس نے پانچ دہائیوں سے زائد عرصہ قبل کافی شاپ کے طور پر کام شروع کیا تھا، کے مطابق اب اس کے فروخت ہونے والے ہر چار مشروبات میں سے تین ٹھنڈے ہوتے ہیں۔ ان میں برف والی فروٹ ڈرنکس، پروٹین شیکس اور مختلف ذائقوں، سیرپس اور جوس سے تیار کیے جانے والے مشروبات شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق 1997 سے 2012 کے درمیان پیدا ہونے والی نسل جن زی (Gen Z) روایتی کافی کے بجائے ایسے ٹھنڈے مشروبات کو ترجیح دے رہی ہے جنہیں وہ اپنی پسند کے مطابق تبدیل کرسکے۔

یورومونیٹر انٹرنیشنل کے گلوبل انسائٹ مینیجر ٹرسٹن ہوور کے مطابق نوجوان صارفین مشروبات کو صرف ایک چیز کے طور پر نہیں بلکہ مخصوص وقت یا ضرورت کے مطابق اپنی مرضی سے تیار کی جانے والی مصنوعات کے طور پر دیکھتے ہیں۔

ان کے مطابق مشروب میں اپنی پسند کے ذائقے، سائز اور دیگر اجزا شامل کرنے کی سہولت نوجوانوں کو اختیار اور کنٹرول کا احساس دیتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوان قیمت کے معاملے میں حساس ضرور ہیں، لیکن اگر مشروب منفرد، بڑا، خوبصورت یا کسی عملی فائدے کا حامل محسوس ہو تو وہ اس کے لیے زیادہ قیمت ادا کرنے پر بھی تیار ہوجاتے ہیں۔

IHL گروپ کے تجزیہ کار جیری شیلڈن کے مطابق ٹھنڈے مشروبات نوجوانوں کے لیے خود اظہار کا ایک ذریعہ بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق نوجوان جس طرح لباس یا بالوں کے انداز کے ذریعے اپنی شناخت ظاہر کرتے ہیں، اسی طرح اپنے مشروب کے ذریعے بھی اپنی شخصیت کا اظہار کرتے ہیں۔

وینڈربلٹ یونیورسٹی کی مارکیٹنگ پروفیسر کیلی گولڈ اسمتھ کا کہنا ہے کہ صارفین بعض اوقات کپ کے اندر موجود مشروب سے زیادہ اس کی ظاہری شکل اور برانڈ امیج کے لیے ادائیگی کرتے ہیں۔

ان کے مطابق اسٹاربکس نے برسوں تک ایک ایسی برانڈ امیج قائم رکھی ہے جس نے اسے اپنی مصنوعات کے لیے نسبتاً زیادہ قیمت وصول کرنے میں مدد دی۔

سوشل میڈیا خصوصاً ٹک ٹاک بھی نوجوانوں میں نئے مشروبات کی مقبولیت بڑھانے میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔

اسٹاربکس کا یونیکورن فریپچینو اس کی ایک مثال ہے، جس کی ٹک ٹاک پر بڑے پیمانے پر تشہیر ہوئی۔ محدود مدت کے لیے دستیاب اس شوخ رنگوں والے مشروب نے کمپنی کی جانب صارفین کی توجہ حاصل کی اور تجزیاتی ادارے Placer.ai کے مطابق اس کی مختصر مدت کی دستیابی کے دوران اسٹاربکس کے اسٹورز پر آمدورفت میں 44 فیصد اضافہ ہوا۔

دوسری جانب Dunkin’ بھی نوجوان صارفین کی اس پسند کو مدنظر رکھتے ہوئے پروٹین سے بھرپور اور اپنی مرضی کے مطابق تیار کیے جانے والے ٹھنڈے مشروبات متعارف کرا رہا ہے۔

کمپنی نے محدود مدت کے مشروبات کی تشہیر کے لیے کائلی جینر سمیت مختلف معروف شخصیات کے ساتھ بھی شراکت کی ہے۔

ٹک ٹاک فوڈ اینڈ ڈرنک کریئیٹر نٹالی لڈوگ کے مطابق کائلی جینر کے ساتھ ڈنکن کی مہم نوجوان صارفین کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش ہے، اور اگر یہ مہم کامیاب رہی تو ممکن ہے کہ یہ نوجوان صارفین مستقل گاہک بن جائیں۔

یہ رجحان صرف امریکا تک محدود نہیں۔ برطانیہ کے اعدادوشمار بھی نوجوانوں میں ٹھنڈے مشروبات کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ورلڈ پینل بائی نیومیراٹر کی کنزیومر انسائٹ ڈائریکٹر ازابیلا ریو کے مطابق گھر سے باہر مشروبات خریدنے والے 25 سال سے کم عمر افراد کی 60 فیصد سے زائد خریداری ٹھنڈے مشروبات پر مشتمل ہوتی ہے، جبکہ 55 سال یا اس سے زائد عمر کے صارفین میں یہ شرح تقریباً 30 فیصد ہے۔

ان کے مطابق ٹھنڈے مشروبات صرف موسم گرما تک محدود نہیں رہے اور 70 فیصد سے زائد افراد انہیں پورا سال خریدتے ہیں۔

یونیورسٹی آف گیلف کے مارکیٹنگ پروفیسر ترِتھا دھر کے مطابق ٹھنڈے مشروبات اسٹاربکس کے لیے آمدنی کے لحاظ سے ایک اہم شعبہ بن چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ فوم، مختلف ذائقوں اور پروٹین سمیت مشروبات میں تقریباً لامحدود تبدیلیاں کرنے کی سہولت کمپنی کے لیے منافع کا اہم ذریعہ ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق امریکا میں اسٹاربکس کی مشروبات کی فروخت میں ٹھنڈے مشروبات کا حصہ 70 فیصد سے زیادہ ہوچکا ہے۔ کمزور فروخت کے ایک دور کے بعد یہ رجحان کمپنی کی کاروباری بحالی کی حکمت عملی کا بھی اہم حصہ بن گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق نوجوان نسل کی بدلتی ہوئی پسند، سوشل میڈیا کا اثر، ذاتی نوعیت کے مشروبات اور خوبصورت پیشکش نے ٹھنڈے مشروبات کو محض موسم گرما کی چیز کے بجائے ایک طرزِ زندگی اور خود اظہار کے رجحان میں تبدیل کردیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے