column and article

نثار عثمانی صحافت کا روشن باب

میری بات/ روہیل اکبر

صحافت کی آبرو نثار عثمانی کی 4 ستمبر کو 32 ویں برسی تھی جو پاکستان کے نامور صحافی، آزادیٔ اظہار کے علم بردار اور صحافیوں کے حقوق کے بے باک سے لڑنے والوں میں سرفہرست ہیں ۔نثار عثمانی 1930ء میں موضع سید سرواں، ضلع الٰہ آباد میں پیدا ہوئے۔

قیام پاکستان کے بعد بہاول نگر اور پھر لاہور کو اپنا مسکن بنایا۔ عملی زندگی کا آغاز تدریس سے کیا اور 1956ء میں صحافت کے میدان میں قدم رکھا۔ خبررساں ایجنسی یو پی پی، روزنامہ آزاد ڈھاکا اور روزنامہ ڈان کے لاہور بیورو سے وابستہ رہے اور اپنی غیر معمولی رپورٹنگ کے باعث صفِ اول کے صحافیوں میں شمار ہوئے۔لیکن نثار عثمانی کی اصل پہچان صرف ایک بہترین رپورٹر کی نہیں تھی بلکہ وہ صحافت کے اصولوں کے محافظ اور آزادیٔ اظہار کے سپاہی تھے۔

انہوں نے صحافیوں کے بنیادی معاشی حقوق، آزادیٔ اظہار اور اخبارات میں یونین سازی کے حق کے لیے بھرپور جدوجہد کی۔ ہر دور حکومت میں صحافیوں کے حقوق کی آواز بلند کی آمریت ہو یا جمہوریت، طاقت کے ایوانوں کے سامنے حق بات کہنے سے کبھی گریز نہیں کیا۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سیکریٹری جنرل اور صدر کی حیثیت سے انہوں نے صحافیوں کی نمائندگی کا حق ادا کیا۔ انسانی حقوق کمیشن کے بانیوں میں بھی شامل رہے اور 1990ء سے 1993ء تک اس کے نائب صدر کی ذمہ داریاں نبھائیں۔نثار عثمانی کی صحافت کا سب سے بڑا وصف بے خوفی اور دیانت تھا۔ وہ خبر کو خبر سمجھتے تھے کسی کی خوشنودی کا ذریعہ نہیں ان کے نزدیک صحافی کا قلم کسی طاقتور شخصیت کی جاگیر نہیں بلکہ عوام کے حقِ معلومات کی امانت تھا اسی لیے ان کے سوالات میں وہ جرات نظر آتی تھی جو آج کے دور میں کم ہی دکھائی دیتی ہے وہ جانتے تھے کہ ایک صحافی کی اصل طاقت اس کا قلم، اس کی ساکھ اور اس کا کردار ہے۔

اسی لیے انہوں نے کبھی اپنے قلم کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال نہیں کیا ان کے نزدیک صحافت میں کامیابی کا مطلب عہدہ، مراعات یا دولت نہیں بلکہ اپنے اصولوں پر قائم رہنا تھاان کی زندگی نوجوان صحافیوں کے لیے ایک مکمل درس گاہ تھی وہ رپورٹنگ کے ساتھ اخلاقیات، انسانیت، پیشہ ورانہ دیانت اور ذمہ داری کو بھی صحافت کا لازمی حصہ سمجھتے تھے ان کا یقین تھا کہ اگر صحافی خود اپنے قلم کی حرمت قائم نہیں کرے گا تو معاشرہ بھی اس کے قلم پر اعتماد نہیں کرے گا۔

نثار عثمانی انتہائی سادہ زندگی گزارتے تھے لباس سادہ، خوراک سادہ اور رہن سہن میں کوئی نمود و نمائش نہیں مگر کردار انتہائی بلند تھا بڑے سے بڑے حکمران کے سامنے بھی ان کا لہجہ نہیں بدلتا تھا اور مشکل سے مشکل حالات میں بھی ان کے قدم نہیں ڈگمگاتے تھے۔آزادیٔ اظہار کے لیے ان کی جدوجہد آسان نہیں تھی انہیں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں، مگر انہوں نے اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا آمریت کے سخت ترین دور میں بھی ان کی آواز خاموش نہیں ہوئی وہ جانتے تھے کہ صحافت اگر سوال کرنا چھوڑ دے تو وہ صحافت نہیں رہتی ان کی شخصیت کا ایک اور خوبصورت پہلو نئے لوگوں کی حوصلہ افزائی تھا۔

وہ نوجوان صحافیوں اور فوٹوگرافروں کی رہنمائی کرتے ان کی صلاحیتوں کو پہچانتے اور انہیں آگے بڑھنے کا موقع دیتے ان کے نزدیک صحافت صرف آج کی خبر نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی تربیت بھی تھی۔4 ستمبر 1994ء کو لاہور میں نثار عثمانی کا انتقال ہوا انہیں میانی صاحب کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا مگر ان کا نام صحافت کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گیا ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے بعد از وفات 14 اگست 1997ء کو انہیں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی عطا کیا انسانی حقوق کمیشن نے ان کے نام سے ایوارڈ جاری کیا جو قلم کے ذریعے جدوجہد کرنے والے مصنفین کو دیا جاتا ہے لاہور پریس کلب نے اپنے مرکزی ہال کو بھی نثار عثمانی کے نام سے منسوب کرکے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا

آج جب صحافت کئی طرح کے دباؤ، مفادات اور آزمائشوں سے گزر رہی ہے نثار عثمانی کی زندگی پہلے سے کہیں زیادہ اہم دکھائی دیتی ہے وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ صحافت کا اصل حسن سچ، دیانت، جرات اور آزادی میں ہے۔نثار عثمانی نے ہمیں یہ سبق دیا کہ قلم کی طاقت اس وقت تک قائم رہتی ہے جب تک قلم فروش نہ ہو۔صحافی کی اصل دولت اس کی دیانت، اصل پہچان اس کی ساکھ اور اصل طاقت اس کا بے خوف سوال ہے۔

نثار عثمانی جسمانی طور پر ہم میں موجود نہیں، مگر ان کا کردار آج بھی زندہ ہے ان کا نام آج بھی ان صحافیوں کے لیے مشعلِ راہ ہے جو سمجھتے ہیں کہ قلم کسی حکمران، جماعت یا طاقتور شخصیت کے لیے نہیں بلکہ سچ اور عوام کے لیے ہوتا ہے۔نثار عثمانی کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ ہم ان کے نام کو صرف یاد نہ کریں بلکہ ان کے اصولوں کو بھی زندہ رکھیں۔نثار عثمانی جیسے لوگ تاریخ میں صرف نام نہیں چھوڑتے، وہ صحافت کے لیے معیار چھوڑ جاتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے