غزہ میں اسرائیلی حملے، ایک ہی خاندان کے تین افراد جاں بحق
غزہ: غزہ میں جمعہ کے روز اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق ہوگئے، فلسطینی حکام کے مطابق جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق خان یونس کے مشرق میں واقع علاقے القرارہ میں اسرائیلی حملوں کے بعد 3 افراد کی لاشیں ٹکڑوں کی صورت میں برآمد ہوئیں۔ خان یونس کے ناصر اسپتال نے جاں بحق افراد کی شناخت کرتے ہوئے بتایا کہ تینوں کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا، جن میں دو کی عمریں 42 سال جبکہ ایک کی عمر 28 سال تھی۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ واقعے سے متعلق معلومات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
فلسطینی سول ڈیفنس کے مطابق جمعرات کو بھی اسرائیلی حملوں میں 3 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ حملے میں حماس کے دو ارکان کو نشانہ بنایا گیا جو اسرائیلیوں کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
ادھر غزہ کے لیے بورڈ آف پیس کے نمائندے نکولے ملاڈینوف نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ مہلک اسرائیلی حملوں کے باعث غزہ کے عوام کے لیے جنگ بندی کو محسوس کرنا مشکل ہوگیا ہے، تاہم ان کے مطابق جنگ بندی اب بھی برقرار ہے۔
ملاڈینوف نے کہا کہ فوری خطرے کا جواب نہ دینے والی طاقت کا ہر استعمال اور ہر ایسا واقعہ جسے تنازعات سے بچاؤ کے طریقہ کار کے ذریعے حل نہ کیا جائے، امن عمل کو نقصان پہنچاتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ حماس نے جنگ بندی معاہدے کے تحت اپنے تمام وعدے پورے نہیں کیے، جن میں اسلحہ چھوڑنا بھی شامل ہے۔
دوسری جانب اسرائیل نے غزہ سے پتنگیں اڑائے جانے پر بھی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے خبردار کیا کہ غزہ سے پتنگ اڑانا بھی دہشت گردی کی کارروائی تصور کیا جائے گا اور اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔