column and article

سرکاری وردی عزت کی علامت ہے کمائی کا لائسنس نہیں؟

تحریر: روہیل اکبر

آج کل سرکاری ملازمین کی گرفتاریوں کی خبریں کچھ اس تواتر سے آ رہی ہیں کہ لگتا ہے سرکاری محکموں میں کام کی رفتار تو شاید وہی پرانی ہے مگر پیسے اکھٹے کرنے کی رفتار نے موٹر وے پکڑ لی ہے۔ خاص طور پر پولیس کے شیر جوانوں کی کارکردگیاں دیکھ کر کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ ان کے لیے ایک نیا محکمہ بنا دیا جائے، نام ہو "محکمہ فوری وصولی”۔پنجاب میں اینٹی کرپشن والے کہیں سب انسپکٹر رشوت لیتے پکڑ رہے ہیں، کہیں کانسٹیبل، کہیں افسر اور کہیں کوئی دوسرا سرکاری اہلکار۔ خبر پڑھ کر پہلے تو حیرت ہوتی ہے، پھر خیال آتا ہے کہ شاید ہمارے بعض سرکاری ملازمین نے ڈیوٹی کی تعریف ہی تبدیل کرلی ہے۔ ان کے نزدیک قانون نافذ کرنے کا مطلب شاید یہ رہ گیا ہے کہ قانون کی جیب بھی دیکھی جائے اور شہری کی جیب بھی۔پولیس کا کام شہریوں کی حفاظت، جرائم کی روک تھام اور قانون کی پاسداری کروانا ہے مگر بعض اہلکاروں کی سرگرمیاں دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ ان کی ڈیوٹی لسٹ میں ایک اضافی خانہ بھی موجود ہے:
"آج کتنے پیسے اکھٹے کیے؟”
اگر کوئی شہری تھانے جائے تو پہلے اسے اپنی شکایت بتانی پڑتی ہے پھر شاید یہ بھی سمجھانا پڑتا ہے کہ بھائی صاحب! میں شکایت لے کر آیا ہوں چندہ دینے نہیں آیا۔ہمارے ہاں عجیب نظام ہے۔ غریب آدمی کی چوری ہو جائے تو پہلے چوری کا دکھ، پھر پولیس کے چکر اور آخر میں جیب کا دکھ۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انصاف تک پہنچنے کے راستے میں کئی چھوٹے چھوٹے ٹول پلازے قائم ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں رسید نہیں ملتی اور مزے کی بات یہ ہے کہ ہر سرکاری ملازم ایسا نہیں۔ بہت سے افسر اور اہلکار ایمانداری سے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں کم وسائل میں بھی عوام کی خدمت کرتے ہیں اور عزت کے ساتھ ریٹائر ہوتے ہیں۔ اصل مسئلہ وہ کالی بھیڑیں ہیں جو پورے ادارے کی وردی پر داغ لگا دیتی ہیں۔اب ذرا اینٹی کرپشن والوں کو بھی داد دینی چاہیے وہ بھی شاید سوچتے ہوں گے کہ ہمارا کام ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا ایک کو پکڑو، دوسرا سامنے آ جاتا ہے۔ ایک کیس ختم ہونے سے پہلے دوسرا تیار۔ یوں لگتا ہے جیسے رشوت خوروں کی باقاعدہ نرسری چل رہی ہو۔کبھی کبھی تو خیال آتا ہے کہ سرکاری دفاتر میں سالانہ کارکردگی رپورٹ کے ساتھ ایک اور رپورٹ بھی شروع کر دینی چاہیے:”اس سال آپ نے کتنے عوامی مسائل حل کیے؟”اور نیچے دوسرا سوال:”اور کتنے عوام کو مالی طور پر ہلکا کیا؟”اگر دوسرا خانہ پہلے سے بڑا ہو تو سمجھ لینا چاہیے کہ افسر صاحب ترقی کے مستحق ہیں!اصل المیہ یہ ہے کہ رشوت صرف ایک اہلکار کی جیب نہیں بھرتی یہ پورے معاشرے کا اعتماد خالی کرتی ہے جب ایک شہری کو یقین ہو جائے کہ بغیر پیسے کام نہیں ہوگا تو وہ قانون، ادارے اور نظام تینوں سے بدظن ہو جاتا ہے پھر ایماندار اہلکار بھی اسی بداعتمادی کی زد میں آ جاتا ہے۔خاص طور پر پولیس کے بارے میں عوام کا تاثر پہلے ہی بہت حساس ہے۔ پولیس کا ایک ایماندار اہلکار پورے محکمے کی عزت بڑھا سکتا ہے اور ایک رشوت خور اہلکار کئی اچھے اہلکاروں کی محنت پر پانی پھیر دیتا ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ رشوت لینے والوں کے خلاف کارروائی صرف خبر بننے تک محدود نہ رہے گرفتاری، تفتیش، مقدمہ اور سزا کا عمل بھی اسی رفتار سے آگے بڑھے جس رفتار سے رشوت کی رقم جیب میں جاتی ہے ورنہ کل کو حالات یہ ہو سکتے ہیں کہ تھانے کے باہر بورڈ لگا ہو "عوام کی خدمت ہمارا فرض ہےاور باقی تفصیل اندر آ کر طے ہوگی!”یہ مذاق شاید ہنسا دے مگر حقیقت میں یہ ہمارے معاشرے کے لیے انتہائی سنجیدہ خطرے کی گھنٹی ہے۔ سرکاری وردی عزت کی علامت ہے کمائی کا لائسنس نہیں۔ پولیس کا اصل شیر وہ ہے جو رشوت کی پیشکش ٹھکرا دے، مظلوم کی مدد کرے اور قانون کو اپنی جیب سے زیادہ عزیز سمجھے اور اگر واقعی ہم نے پولیس کے ان شیر جوانوں کو صرف پیسے اکھٹے کرنے کا ماہر بنا دیا تو پھر ایک دن عوام بھی پوچھے گی "جناب! قانون پر عمل کروانے وبلے تو بہت ہیں لیکن قانون کہاں ہے؟”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے