World

دہلی میں احتجاج کے دوران تشدد، بی جے پی حامی کے بیان پر سیاسی حلقوں کا ردعمل

نئی دہلی: جنتر منتر پر ایک احتجاج کے دوران مظاہرین پر مبینہ تشدد کے حوالے سے بی جے پی سے وابستہ ایک ہندوتوا حامی کے بیان پر بھارت میں سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق بی جے پی حامی سوتنتر بھردواج نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ احتجاج کے دوران ایک مظاہرین کے والد پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں انہیں شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کرنا پڑا اور 60 ٹانکے لگے۔

بھردواج کے مطابق ملزم کے خلاف اقدامِ قتل کی دفعہ 307 کے تحت مقدمہ درج ہونے کے باوجود وہ رات بھر آزاد گھومتا رہا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دہلی حکومت میں بی جے پی کے وزیر کپل مشرا کی ایک فون کال کے بعد ملزم کو ریلیف ملا۔

اس بیان پر صحافیوں، سماجی کارکنوں اور کانگریس رہنماؤں نے دہلی پولیس سے کارروائی اور مبینہ سیاسی اثرورسوخ کی وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔

سی جے پی کے رہنما ابھیجیت دیپکے نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ڈی سی پی سے ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا، تاہم پولیس نے جواب دیا کہ ’’ہم لوگوں کو رینڈملی گرفتار نہیں کرسکتے۔‘‘

صحافیوں رویش کمار، نہا بورا اور دیگر نے بھی معاملے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر حملہ اتنا سنگین تھا تو ملزمان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوئی اور کیا سیاسی روابط قانون کے نفاذ پر اثرانداز ہو رہے ہیں؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے