دریائے سندھ کے پانی پر بھارت کو پاکستان کی سخت وارننگ
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے حصے کا پانی روکنے یا اس سے محروم کرنے کی کسی بھی کوشش کے علاقائی امن و سلامتی پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مشترکہ پانی کو سیاسی دباؤ یا مفادات کے حصول کے لیے بطور ہتھیار استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کے زیر اہتمام ’’سندھ طاس معاہدہ: جنوبی ایشیائی سلامتی ایک دوراہے پر‘‘ کے عنوان سے سیمینار سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر ’’زیر التوا‘‘ رکھنے کے باوجود سندھ طاس معاہدہ بدستور مؤثر اور پابند ہے۔
انہوں نے کہا کہ 1960 میں طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ صرف پانی کی تقسیم کا معاہدہ نہیں بلکہ دریائے سندھ کے پانی کے انتظام اور تنازعات کے حل کے لیے ایک جامع قانونی فریم ورک ہے، جس نے گزشتہ چھ دہائیوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان علاقائی استحکام میں اہم کردار ادا کیا۔
اسحاق ڈار کے مطابق معاہدے کے تحت دریائے راوی، بیاس اور ستلج بھارت کے لیے مختص ہیں، جبکہ دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے پانی پر پاکستان کے حقوق تسلیم کیے گئے ہیں، تاہم بھارت کو معاہدے میں طے شدہ مخصوص استعمال کی اجازت حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے میں مستقل انڈس کمیشن سمیت اختلافات اور تنازعات کے حل کے لیے مختلف طریقہ کار موجود ہیں، جن میں حکومتی سطح پر مذاکرات، نیوٹرل ایکسپرٹ اور ضرورت پڑنے پر ثالثی عدالت سے رجوع کرنے کے طریقے شامل ہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ اپریل 2025 میں بھارت کا معاہدے کو ’’زیر التوا‘‘ رکھنے کا یکطرفہ فیصلہ سندھ طاس معاہدے کی کسی شق پر مبنی نہیں۔ ان کے مطابق معاہدے میں کسی ایک فریق کو یکطرفہ طور پر اسے معطل یا ختم کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ معاہدہ بدستور مؤثر، پابند اور قابلِ عمل ہے، جبکہ اس کے تحت طے شدہ کارروائیاں بھی جاری رہی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بین الاقوامی معاہدوں کو یکطرفہ سیاسی فیصلوں کے ذریعے نظرانداز کرنے سے عالمی سطح پر بین الاقوامی قانون اور معاہدوں کی ساکھ متاثر ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کا نظام پاکستان کے لیے زندگی کی حیثیت رکھتا ہے اور ملک کی زراعت، غذائی تحفظ، توانائی، روزگار اور معاشی ترقی اس سے گہری وابستہ ہیں۔ ان کے بقول پاکستان کی آبی سلامتی براہ راست معاشی، غذائی اور قومی سلامتی سے جڑی ہوئی ہے۔
اسحاق ڈار نے موسمیاتی تبدیلی کے باعث بڑھتے ہوئے آبی مسائل، گلیشیئرز کے پگھلاؤ، سیلاب، خشک سالی اور بارشوں کے بدلتے ہوئے انداز کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان حالات میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تعاون، شفاف ڈیٹا شیئرنگ اور تکنیکی روابط مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اختلافات کا حل یکطرفہ اقدامات یا محاذ آرائی نہیں بلکہ مذاکرات، تکنیکی روابط اور معاہدے میں موجود قانونی طریقہ کار کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔
نائب وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان پرامن حل، باہمی احترام اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری پر یقین رکھتا ہے، تاہم سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے جائز آبی حقوق سلب کرنے کی کوئی بھی کوشش علاقائی امن و سلامتی کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ’’یکطرفہ پسندی پر قانون، محاذ آرائی پر مذاکرات اور جبر پر تعاون‘‘ کو ترجیح دیتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مشترکہ پانی کو تنازع کا ذریعہ بنانے کے بجائے اقوام کے درمیان تعاون اور استحکام کا پل بنایا جانا چاہیے۔