بٹگرام چیئر لفٹ ریسکیو آپریشن پر مبنی ڈاکومنٹری رواں سال پاکستان میں ریلیز ہوگی
اسلام آباد: بٹگرام چیئر لفٹ ریسکیو آپریشن پر مبنی ڈاکومنٹری فلم ’ہینگنگ بائی اے وائر‘ رواں سال پاکستان بھر کے سینما گھروں میں ریلیز کی جائے گی۔
ڈاکومنٹری فلم میں وادی الائی کی پسماندگی، ناقص انفراسٹرکچر اور مشکل حالات میں مقامی افراد کی جرات و بہادری کو اجاگر کیا گیا ہے۔
فلم کے پروڈیوسر، ہدایتکار اور رائٹر محمد علی نقوی المعروف مو نقوی نے بتایا کہ فلم بنانے کا مقصد مقامی افراد کی بہادری اور ریسکیو آپریشن میں ان کے کردار کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا تھا۔
مو نقوی کے مطابق بٹگرام چیئر لفٹ حادثہ اس لحاظ سے منفرد تھا کہ پاک فوج، مقامی افراد اور انتظامیہ نے مل کر لفٹ میں پھنسے 8 افراد کی جان بچانے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پسماندہ علاقے کے مقامی افراد نے جس مہارت اور جرات کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلم کے ذریعے دنیا کو پاکستانیوں کی ہمت اور بہادری دکھانے کے ساتھ ساتھ ان بچوں کے مسائل بھی اجاگر کرنا مقصود ہے جو روزانہ چیئر لفٹس کے ذریعے تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں۔
مو نقوی کا کہنا تھا کہ فلم کے ذریعے غیر سرکاری تنظیموں کے تعاون سے ایسے منصوبے شروع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جن سے علاقے کا انفراسٹرکچر بہتر بنایا جاسکے۔
ڈاکومنٹری میں استعمال ہونے والی بیشتر فوٹیج واقعے کے وقت مقامی افراد کی جانب سے ریکارڈ کی گئی تھی۔ مو نقوی کے مطابق ڈرون فوٹیج مقامی جیولری شاپ کے مالک فیصل نے بنائی، جبکہ دیگر مقامی افراد نے بھی اپنی ریکارڈ کی گئی ویڈیوز فلم سازوں کو فراہم کیں تاکہ ان کی کوششیں اور مشکلات دنیا کے سامنے آسکیں۔
فلم کے پروڈیوسر و رائٹر بلال سمی نے کہا کہ پاکستان کے مقامی ہیروز کی ایسی کہانیاں عموماً عالمی سطح پر سامنے نہیں آتیں، اسی لیے انہوں نے اور مو نقوی نے اس واقعے کو دستاویزی شکل دینے کا فیصلہ کیا تاکہ دنیا پاکستان کا مثبت چہرہ پیش کرنے والے ان ہیروز کو جان سکے۔
’ہینگنگ بائی اے وائر‘ ان دنوں برطانیہ اور امریکا کے سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔ فلم سنڈینس فلم فیسٹیول میں بھی پیش کی جا چکی ہے، جہاں اسے شائقین کی جانب سے پذیرائی ملی۔
یاد رہے کہ 23 اگست 2023 کو خیبرپختونخوا کے ضلع بٹگرام میں چیئر لفٹ کی دو تاریں ٹوٹنے کے بعد 8 افراد تقریباً 900 فٹ کی بلندی پر ایک تار کے سہارے پھنس گئے تھے۔
پاک فوج کے اہلکاروں نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ایک بچے کو بحفاظت نکال لیا تھا، جبکہ باقی افراد کو بچانے کے لیے زپ لائن ماہرین سمیت مقامی افراد نے اہم کردار ادا کیا۔ تقریباً 12 گھنٹے جاری رہنے والے ریسکیو آپریشن کے بعد تمام افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔
مقامی افراد کے مطابق حادثے کے باوجود علاقے کے انفراسٹرکچر میں خاطر خواہ بہتری نہیں آسکی اور آج بھی وہاں چیئر لفٹس کا نظام ناقص صورتحال سے دوچار ہے۔