column and article

بلاول کی منگنی: سوشل میڈیا نے شادی بھی کروا دی!

خالد منصور

پاکستان میں سیاست کی گرمی کا اندازہ لگانے کے لیے اب پارلیمنٹ، جلسے یا پریس کانفرنس دیکھنے کی ضرورت نہیں، بس سوشل میڈیا کھول لیجیے۔ وہاں ہر وقت کوئی نہ کوئی حکومت بن رہی ہوتی ہے، کوئی گر رہی ہوتی ہے، کسی کی گرفتاری ہو رہی ہوتی ہے اور کسی کی شادی!

اب کی بار سوشل میڈیا کے ’’خبر سازوں‘‘ نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو اپنا نشانہ بنایا اور ایسی پھرتی دکھائی کہ نہ صرف بات پکی کردی بلکہ منگنی اور شادی تک بھی پہنچا دیا۔

یعنی بلاول صاحب کو شاید خود بھی اتنی جلدی نہیں تھی جتنی جلدی سوشل میڈیا کو تھی۔

ایک افواہ چلی کہ بلاول بھٹو کی منگنی ہوگئی ہے۔ پھر افواہ نے ذرا زور پکڑا تو ممکنہ دلہن کا نام بھی سامنے آگیا۔ خاندان، ملاقاتیں، آسٹریا، ویانا اور شادی کی ممکنہ تاریخ تک کی کہانیاں گردش کرنے لگیں۔ یوں محسوس ہونے لگا جیسے سوشل میڈیا پر بیٹھے حضرات نے صرف خبر نہیں بلکہ پورا شادی کارڈ بھی چھپوا لیا ہو۔

بس ایک چھوٹی سی کمی رہ گئی تھی کہ بارات کا روٹ اور ولیمے کا مینیو بھی جاری ہو جاتا!

پھر بلاول بھٹو زرداری خود میدان میں آئے اور سوشل میڈیا کی اس ’’تیز رفتار صحافت‘‘ پر پانی پھیر دیا۔ انہوں نے صاف الفاظ میں کہا کہ نہ بات پکی ہوئی ہے، نہ منگنی ہوئی ہے۔ ان کے بقول سوشل میڈیا نے تو ان کی شادی بھی کروا دی، حالانکہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوا۔

یہاں بلاول صاحب کو شاید یہ بھی کہنا چاہیے تھا کہ بھائیو! کم از کم مجھے بھی تو بتا دیتے، میں بھی شادی میں شریک ہوجاتا۔

لیکن مذاق اپنی جگہ، معاملہ خاصا سنجیدہ ہے۔

ہمارے ہاں سوشل میڈیا نے خبر کو اتنا تیز کردیا ہے کہ اب تصدیق بیچاری پیچھے رہ گئی ہے۔ پہلے خبر آتی تھی، پھر تصدیق ہوتی تھی اور اس کے بعد اخبار میں چھپتی تھی۔ اب پہلے خبر وائرل ہوتی ہے، پھر تبصرے آتے ہیں، پھر یوٹیوب پر دس ویڈیوز بنتی ہیں اور آخر میں کہیں جا کر کوئی پوچھتا ہے کہ ’’بھائی، خبر کی تصدیق کس نے کی؟‘‘

جواب ملتا ہے: ’’سب لوگ کہہ رہے ہیں!‘‘

بس جناب، یہی ہماری نئی صحافت کا سب سے بڑا حوالہ بن چکا ہے: سب لوگ کہہ رہے ہیں۔

بلاول بھٹو کی منگنی کی افواہ بھی اسی ’’سب لوگ کہہ رہے ہیں‘‘ والے اصول کے تحت پھیلی۔ کسی نے ایک پوسٹ کی، دوسرے نے اسے خبر سمجھا، تیسرے نے اس میں اپنی طرف سے دو ملاقاتیں شامل کردیں، چوتھے نے شادی کی تاریخ نکال لی اور پانچویں نے پوری کہانی کو حتمی سچ بنا کر پیش کردیا۔

یوں ایک شخص کی نجی زندگی چند گھنٹوں میں عوامی تفریح بن گئی۔

پاکستانی معاشرے میں ویسے بھی شادی کوئی معمولی موضوع نہیں۔ یہاں بچے کی پیدائش سے زیادہ فکر اس کی شادی کی ہوتی ہے اور شادی سے زیادہ فکر اس کے بعد بچوں کی ہوتی ہے۔ محلے میں کسی نوجوان کی عمر 25 سال ہو جائے تو پڑوسیوں کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے قومی اسمبلی کی کوئی نشست خالی پڑی ہو اور اسے فوری طور پر پُر کرنا ضروری ہو۔

اگر نوجوان سیاست دان ہو تو پھر عوامی دلچسپی کی انتہا نہیں رہتی۔

بلاول بھٹو چونکہ ایک بڑے سیاسی خاندان کے وارث اور ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں، اس لیے ان کی نجی زندگی میں دلچسپی فطری ہو سکتی ہے۔ لیکن فطری دلچسپی اور غیر مصدقہ خبر سازی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

کسی کے گھر میں منگنی ہو تو مبارکباد دی جاتی ہے، لیکن اگر منگنی ہوئی ہی نہ ہو تو مبارکباد دینے والے مشکل میں پڑ جاتے ہیں۔

اب سوال یہ بھی ہے کہ اس افواہ نے اتنی تیزی کیوں پکڑی؟

اس کا ایک جواب ہماری سیاسی نفسیات میں چھپا ہے۔ ہم سیاسی شخصیات کو صرف سیاست دان نہیں سمجھتے، بلکہ ان کی زندگی کا ہر پہلو جاننے کے خواہش مند رہتے ہیں۔ کون کہاں گیا، کس سے ملا، کس نے کس سے ہاتھ ملایا، کس نے کس کے ساتھ کھانا کھایا اور اب کس کی شادی ہونے والی ہے، یہ سب ہمارے لیے سیاسی تجزیے جتنا ہی اہم بن جاتا ہے۔

اور پھر سوشل میڈیا ہے، جسے ہر خبر میں مصالحہ ڈالنے کا اختیار حاصل ہے۔یہاں ایک تصویر کافی ہے، دو جملے کافی ہیں اور اگر ساتھ ’’ذرائع کے مطابق‘‘ لکھ دیا جائے تو خبر کو مستند بنانے کے لیے گویا آخری کیل بھی ٹھونک دی۔ یہ’’ذرائع‘‘ آخر ہیں کون؟ یہ سوال پوچھنا اب شاید بدتمیزی سمجھا جاتا ہے۔

بلاول بھٹو نے اپنی تردید میں یہ بھی کہا کہ سوشل میڈیا کا یہ تماشا اصل مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ہے۔ یہ بات اپنی جگہ سیاسی مؤقف ہو سکتی ہے، مگر اس میں ایک تلخ حقیقت ضرور موجود ہے۔

ہمیں قومی مسائل پر بحث کے لیے وقت کم ملتا ہے، لیکن کسی سیاست دان کی شادی کی افواہ پر گھنٹوں بحث کرنے کے لیے وقت ہمیشہ موجود ہوتا ہے۔مہنگائی پر دس منٹ کی بحث شاید بور کردے، لیکن ’’بلاول کی شادی کس سے ہوگی؟‘‘ کے عنوان سے ایک گھنٹے کی لائیو نشریات بھی کامیاب ہوسکتی ہیں۔ یہ ہماری ترجیحات کا مسئلہ ہے۔

میڈیا کے لیے بھی یہ ایک امتحان ہے۔ ریٹنگ، کلکس اور ویوز اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن صحافت کا بنیادی اصول اب بھی وہی ہے: پہلے تصدیق، پھر خبر۔

اگر کسی معروف شخصیت کی نجی زندگی سے متعلق خبر کی تصدیق نہ ہو تو اسے افواہ ہی رہنے دینا چاہیے۔ اسے خبر بنا کر پیش کرنا نہ صرف صحافتی اصولوں کے خلاف ہے بلکہ متعلقہ فرد کی نجی زندگی میں غیر ضروری مداخلت بھی ہے۔

بلاول بھٹو کی منگنی کی افواہ شاید چند دن بعد لوگوں کو یاد بھی نہ رہے۔ سوشل میڈیا پر اگلی خبر آچکی ہوگی، اگلا اسکینڈل گردش میں ہوگا اور کسی اور کی ’’بات پکی‘‘ ہو رہی ہوگی۔لیکن اصل سوال باقی رہے گا:

کیا ہم خبر پڑھ رہے ہیں یا صرف افواہوں کی رفتار دیکھ رہے ہیں؟

سوشل میڈیا نے بلاول بھٹو کی منگنی تو نہیں کروائی، لیکن اس نے ایک بار پھر ہماری صحافت کی ایک عادت ضرور بے نقاب کردی ہے، ہمیں خبر سے زیادہ ’’خبر بنانا‘‘ پسند ہے۔

اور جہاں تک بلاول صاحب کا تعلق ہے، فی الحال انہیں مبارکباد دینے کی جلدی نہ کیجیے۔کیونکہ سوشل میڈیا نے اگرچہ ان کی منگنی اور شادی دونوں کروا دی ہیں، مگر دولہا صاحب خود ابھی اس تقریب میں پہنچے ہی نہیں!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے