World

امریکی حقوقِ نسواں کی رہنما گلوریا اسٹینم 92 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں

نیویارک: امریکا کی معروف مصنفہ، صحافی اور حقوقِ نسواں کی رہنما گلوریا اسٹینم 92 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ ان کے فاؤنڈیشن کے مطابق وہ بدھ کو نیویارک میں واقع اپنے گھر میں پُرامن طور پر انتقال کر گئیں، جہاں ان کے قریبی لوگ ان کے ساتھ موجود تھے۔

گلوریا اسٹینم امریکی خواتین کی آزادی کی تحریک کی نمایاں آواز تھیں۔ انہوں نے 50 سال سے زائد عرصہ قبل خواتین کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے کے لیے ’ویمنز ایکشن الائنس‘ کی بنیاد رکھی، جبکہ 1972 میں ’مس میگزین‘ بھی مشترکہ طور پر شروع کیا، جو خواتین کے مسائل پر توجہ دینے والے ابتدائی نمایاں رسائل میں شمار ہوتا ہے۔

1970 کی دہائی میں وہ خواتین کے تولیدی حقوق، مساوی تنخواہوں اور برابری کی بھرپور حامی رہیں۔ انہوں نے ہم جنس شادی کو قانونی حیثیت دینے، سزائے موت اور خواتین کے اعضا کی غیر ضروری کٹائی کے خلاف بھی آواز اٹھائی۔

اسٹینم نے 22 برس کی عمر میں لندن میں غیر قانونی اسقاط حمل کروایا تھا۔ بعدازاں انہوں نے 1973 میں امریکی سپریم کورٹ کے ’رو بنام ویڈ‘ فیصلے کا خیرمقدم کیا، جس کے تحت اسقاط حمل کو آئینی حق قرار دیا گیا تھا، تاہم تقریباً نصف صدی بعد اس فیصلے کی منسوخی بھی دیکھی۔

25 مارچ 1934 کو اوہائیو میں پیدا ہونے والی گلوریا اسٹینم نے 1950 کی دہائی کے آخر میں بھارت میں تحقیقی اسکالرشپ پر دو سال گزارے، جہاں انہوں نے دیہی خواتین کو پُرامن احتجاج منظم کرنے میں بھی مدد دی۔ بعد ازاں نیویارک منتقل ہوکر صحافت کا آغاز کیا اور خواتین کے حقوق کی تحریک کی اہم رہنما بن گئیں۔

2013 میں سابق امریکی صدر براک اوباما نے انہیں امریکا کا اعلیٰ ترین شہری اعزاز ’پریزیڈنشل میڈل آف فریڈم‘ دیا۔

ان کے انتقال پر سابق امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن سمیت متعدد شخصیات نے خراجِ عقیدت پیش کیا۔ کلنٹن نے اسٹینم کو خواتین کی مساوات کی جدوجہد کے ڈھانچے کے اہم معماروں میں سے ایک قرار دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے