کچھ شاعروں کو تاریخ اپنے زخموں سے تراشتی ہے۔ وہ الفاظ کے ساتھ ساتھ اپنے عہد کی دھول، لوگوں کے آنسو، بچھڑنے والوں کی صدائیں اور اجڑتے موسموں کی اداسی بھی لے آتے ہیں۔ احمد راہی ایسے ہی شاعر تھے، شاعری ان کے ہاں زندگی کا نوحہ بھی ہے اور مکالمہ بھی۔ 2 ستمبر احمد راہی کی وفات کا دن ہے، آج ان کی 24ویں برسی منائی جا ری ہے۔ امرتسر کی مٹی میں 1923ء میں جنم لینے والا یہ بچہ آگے چل کر پنجابی شاعری کا ایسا معتبر نام بنا جس کے لفظوں میں پنجاب کی مہک اور اس کی تاریخ کا لہو تھا۔ اصل نام غلام احمد تھامگر اس نے اپنے لیے ”احمد راہی“ چنا۔ راہی یعنی مسافر، شاید اسے خود بھی معلوم نہ ہو کہ یہ نام اس کی پوری زندگی کا استعارہ بن جائے گا۔وہ واقعی ایک راہی تھا، امرتسر سے لاہور تک، شاعری سے فلم تک، محبت سے محرومی تک، شہرت سے گوشہ نشینی تک اور یاد سے تاریخ تک۔
بچپن اور نوجوانی امرتسر میں گزرے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب برصغیر کی گلیاں سیاست، آزادی اور تہذیبی بیداری کی آوازوں سے بھری ہوئی تھیں۔ اسی ماحول میں سعادت حسن منٹو، سیف الدین سیف اور اے حمید جیسے لوگ مل گئے۔ یہ معمولی بات نہیں کہ ایک ہی شہر، ایک ہی عہد اور ایک ہی تعلیمی فضا نے ایسے لوگوں کو اکٹھا کیا جنہوں نے آگے چل کر اردو، پنجابی اور برصغیر کی ادبی تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے۔سیاست میں سرگرمیوں کے باعث پڑھائی چھوڑنا پڑی۔ تعلیم کا راستہ رکا تو زندگی نے ایک اور راستہ دکھایا۔ والد کے ساتھ کاروبار شروع کیا لیکن جس شخص کے اندر لفظوں کی آگ جل رہی ہو، وہ کب تک بازار کے ترازو میں اپنے خواب تول سکتا ہے؟
پھر ملک تقسیم ہوا، یہ تقسیم انسانوں، گھروں، رشتوں، یادوں اور خوابوں کی تقسیم بھی تھی۔ احمد راہی نے اس المیے کو کسی تاریخ کی کتاب میں نہیں پڑھا بل کہ اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنی روح پر جھیلا۔ شاید اسی لیے اس کی شاعری میں ہجرت ایک انسانی المیے میں بدل جاتی ہے۔اسکی کتاب ”ترنجن“ شائع ہوئی تو پنجابی شاعری کے منظرنامے میں ایک نئی آواز سنائی دی۔ احمد راہی نے ”ترنجن“ کے ذریعے ثابت کیا کہ زبان کی نزاکت الفاظ میں کم، احساس کی گہرائی میں زیادہ ہوتی ہے۔”ترنجن“ میں تقسیم کے فسادات کا دکھ، عورت کے دکھ کی صورت سامنے آیا۔ ایک ایسی عورت جس کے لیے نہ سہرے والا آیا، نہ بھائی ڈولی لے کر پہنچا۔ فسادات میں اس کا وجود چھن گیا اور اس کا دکھ کسی سرکاری دستاویز میں درج نہ ہوا۔ وہ پنجاب دھرتی کے اجڑنے اور عورت کی بے بسی کا رونا یوں روتا ہے:
کِیویں کتّاں کِیویں تُماں درداں والیے مائے
اج ترنجنی پھوڑیاں وِچھیاں
چُوڑے دے چھنکارے
لُٹ لے گئے ونجارے
اس کی شاعری کا بڑا کمال یہ ہے کہ وہ اجتماعی المیے کو ذاتی دکھ بنا دیتاہے اور ذاتی دکھ کو اجتماعی احساس۔
”ترنجن“ کا ایک اور دلچسپ حوالہ سعادت حسن منٹو سے جڑا ہوا ہے۔ اس مجموعے کا فلیپ احمد راہی کی فرمائش پر منٹو نے پنجابی میں لکھا تھا۔ یوں منٹو کی پنجابی نثر کا یہ ایک نہایت اہم اور یادگار حوالہ بن گیا۔ احمد راہی کے بیٹے سلمان نے بتایا تھا کہ منٹو، احمد راہی کے تایا کے بیٹے تھے۔ یعنی دو بھائی، دو دوست، دو مختلف زبانوں کے ادیب اور ایک ایسی تاریخ جس نے دونوں کو اپنے اپنے انداز میں زخمی کیا۔احمد راہی پردہ سیمیں کے بھی شاعر تھے۔ سعادت حسن منٹو کے اصرار اور رفاقت نے انہیں فلمی دنیا تک پہنچایا۔ فلم ”بیلی“ سے اس کے فلمی سفر کا آغاز ہوا، جس کی کہانی منٹو نے لکھی اور ہدایت کار مسعود پرویز تھے۔ بعد میں احمد راہی نے پنجابی اور اردو فلموں کے لیے کہانیاں، مکالمے، منظرنامے اور گیت لکھے،اس کی اصل پہچان ان کے گیت بنے۔ اس نے فلمی گیتوں میں پنجاب کی بولی، مٹی کی خوشبو، عورت کی آرزو، جدائی کا دکھ، محبت کی بے قراری اور دیہی زندگی کے رنگ بھر دیے۔
فلم ”ہیر رانجھا“ کے گیت ہوں یا دوسری فلموں کے نغمے، احمد راہی کے لفظ جب موسیقی سے ملے تو پنجاب کی دھڑکن بن گئے۔ جب ملکہ ترنم نور جہاں کی آواز میں ان کا یہ شاہکار گیت گونجا تو دلوں کے تار چھیڑ گیا:
سُن ونجلی دی مٹھڑی تان وے
میں توں ہو گئی قربان وے
راہی کے گیت سادہ دکھائی دیتے ہیں، مگر دل میں اُترنے کے بعد دیر تک وہیں ٹھہرجاتے ہیں۔ یہی کسی بڑے نغمہ نگار کی پہچان ہے۔ گلوکارہ افشاں کا گایانغمہ جسے احمد راہی نے لکھا، یہ نغمہ پنجاب کے دیہی حسن اور بچھڑ جانے والے محبوب کی یاد سے پیدا ہونے والی اضطرابی کیفیت کی کمال عکاسی ہے:
رکھ ڈولدے تے اکھ نہیں لگدی
نمی نمی وا ء وگدی
سانوں ٹھگ گئی یاد اک ٹھگ دی
نمی نمی واء وگدی
شہرت نے احمد راہی کو کبھی اپنے سامنے جھکنے نہیں دیا۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جو فن کو روزگار تو بنا سکتے ہیں، مگر روزگار کے لیے فن کی توہین نہیں کر سکتے۔ سیکڑوں یادگار گیت لکھنے کے باوجود انہوں نے کبھی فلم سازوں کے دروازوں پر جا کر کام نہیں مانگا۔جب فلمی دنیا بدلنے لگی تو موضوعات بدلے، ذوق بدلا، فلمی مزاج میں سطحیت آنے لگی جسے احمد راہی قبول نہیں کر سکے، چنانچہ وہ اس سے دور ہوتے چلے گئے۔زندگی کے آخری برسوں میں ایک حادثے نے ان کی تنہائی کو اور گہرا کر دیا۔ گھر میں لگنے والی آگ نے علمی و ادبی ذخیرہ اور بہت سا سامان خاک کر دیا۔ ایک شاعر اپنے کاغذات، کتابیں اور یادیں جلتے دیکھے تو اسے اپنی زندگی کے قیمتی برس راکھ ہوتے محسوس ہوتے ہیں۔ وہ پہلے ہی اندر سے تھک چکے تھے،اس حادثے کے بعد گوشہ نشین ہو گئے۔
پروین ملک نے احمد راہی سے ایک انٹرویو میں ان سے گزری ہوئی زندگی کے رنگوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مختصر سا جواب دیا: ”گزر گئی بس، اب اس کے بارے میں کیا سوچنا۔“یہ جملہ پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ایک پوری خودنوشت پانچ لفظوں میں سمٹ گئی ہو۔کیا کچھ گزرا تھا، امرتسر گزرا تھا، بچپن گزرا تھا، دوست بچھڑے تھے، تقسیم گزری تھی۔ لاہور آیا تھا، ”ترنجن“ شائع ہوئی تھی، فلموں کی چکاچوند گزری تھی۔ بے شمار گیت لوگوں کی زبانوں پر آئے تھے، شہرت آئی تھی، پھر شہرت بھی گزر گئی۔ دوست ایک ایک کرکے کم ہوتے گئے اور آخر میں شاعر اپنے ہی اندر اترتا چلا گیا۔2 ستمبر 2002ء کو احمد راہی کا سفر تمام ہوا، مگر راہی کہاں ختم ہوتے ہیں؟ وہ تو اپنے لفظوں میں چلتے رہتے ہیں۔اب بھی جب کوئی پرانی فلم چلتی ہے اور اس کا کوئی گیت اچانک دل کے دروازے پر دستک دیتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ احمد راہی ابھی مرا نہیں۔ وہ کسی ریڈیو کی مدھم آواز میں، کسی بوڑھی یاد میں، کسی پرانے محبت کے قصے میں، کسی جدا ہوتے شخص کی آنکھ میں اور کسی ماں کی خاموشی میں موجود ہے۔
احمد راہی نے بہت اچھے گیت لکھے اور جدید پنجابی نظم کو ایک نئی سمت دی۔ انہوں نے پنجاب کے ان جذبات کو زبان دی جنہیں اکثر بڑے بیانیوں میں جگہ نہیں ملتی۔ عورت کے دکھ کو سنا، عاشق کی شکست کو سمجھا، ہجرت کے زخم کو محسوس کیا اور مٹی سے بچھڑنے والے انسان کی کسک کو لفظوں میں محفوظ کر دیا۔ احمد راہی شاعر تو تھا ہی، وہ اپنے عہد کا گواہ بھی تھا، جس نے تاریخ کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ محسوس بھی کیا۔کچھ آوازیں وقت کے ساتھ مدھم نہیں ہوتیں بل کہ وقت انہیں اور گہرا کر دیتا ہے۔ احمد راہی بھی ایسی آواز ہیں جو خود تو چلے گئے مگر اپنے لفظوں کو ہمارے لیے چھوڑ گئے۔ اب وہ لفظ ہی ان کا گھر ہیں۔ جب تک پنجابی بولی جاتی رہے گی، اس گھر میں دیا جلتا رہے گا۔