Pakistan

اسلام آباد پولیس کا بااثر ملزمان پر ’’نرم ہاتھ‘‘؟ صحافی پر مبینہ تشدد، کمزور ایف آئی آر نے سوالات اٹھا دیے

اسلام آباد (نیوز ڈیسک): وفاقی دارالحکومت میں قانون سب کے لیے برابر ہے یا بااثر افراد کے لیے الگ معیار ہے؟ تھانہ آبپارہ کی حدود میں میلوڈی مارکیٹ کے قریب ایف آئی اے دفتر کے باہر صحافی پر مبینہ تشدد اور حملے کے واقعے پر درج ایف آئی آر نے پولیس کی تفتیش اور مقدمے کے اندراج کے طریقہ کار پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق متاثرہ صحافی احتشام عباسی، سکنہ سیکٹر G-6/1-3، نے پولیس کو دی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ 30 اگست 2026 کو رات تقریباً 10 بج کر 15 منٹ پر وہ اپنے کام کے سلسلے میں ایف آئی اے دفتر کے باہر موجود تھا، جہاں اس کی ملاقات اپنے بھائی نعمان عباسی، تصور عباسی اور دیگر افراد سے ہوئی۔

درخواست کے مطابق اسی دوران منور اختر عباسی مبینہ طور پر ایف آئی اے دفتر سے باہر آیا، گالم گلوچ کی اور مدعی پر حملہ کردیا۔ صحافی کا الزام ہے کہ منور اختر عباسی کے ہمراہ موجود تقریباً پانچ دیگر افراد نے بھی اسے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا۔

متاثرہ صحافی کے مطابق ایف آئی اے دفتر کے باہر نصب کیمروں کی CCTV فوٹیج میں واقعے کے اہم شواہد موجود ہیں، جن کا جائزہ لے کر واقعے کی حقیقت اور مبینہ حملہ آوروں کی شناخت کی جاسکتی ہے۔

مدعی کے مطابق پولیس نے طبی معائنے کے لیے اسے پمز ہسپتال منتقل کیا، تاہم وہاں بھی منور اختر عباسی اور اس کے ساتھی مبینہ طور پر پہنچ گئے۔ متاثرہ صحافی کا دعویٰ ہے کہ ہسپتال میں بھی اس پر دوبارہ حملہ کیا گیا اور اسے جان سے مارنے کی کوشش کی گئی۔

اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو واقعے کی نوعیت اور اس کے قانونی پہلو مزید سنگین ہوسکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے حتمی حقائق کا تعین پولیس کی تفتیش اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر ہی کیا جاسکتا ہے۔

متاثرہ شہری کا کہنا ہے کہ اس نے جان سے مارنے کی کوشش، سنگین تشدد اور دیگر الزامات کے تحت کارروائی کی درخواست دی، تاہم تھانہ آبپارہ پولیس نے مبینہ طور پر نسبتاً کم نوعیت کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا۔

دستیاب تفصیلات کے مطابق ایف آئی آر نمبر 570/26 میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 341، 148، 149 اور 506 شامل کی گئی ہیں۔

متاثرہ صحافی کا مؤقف ہے کہ مقدمے میں مبینہ طور پر سنگین نوعیت کے الزامات، بالخصوص پمز ہسپتال میں ہونے والے مبینہ دوسرے حملے اور اقدامِ قتل کے پہلو کو شامل نہیں کیا گیا، جس کے باعث ایف آئی آر کے اندراج اور تفتیشی عمل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

اس معاملے میں اہم سوال یہ ہے کہ اگر ایف آئی اے دفتر کے باہر واقعے کی CCTV فوٹیج موجود ہے تو پولیس اسے تحویل میں لے کر فرانزک بنیادوں پر جائزہ کیوں نہیں لیتی؟ فوٹیج سے حملہ آوروں کی تعداد، واقعے کی نوعیت اور مبینہ تشدد کے تسلسل سمیت کئی اہم حقائق سامنے آسکتے ہیں۔

شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر پولیس کے پاس CCTV فوٹیج، میڈیکل ریکارڈ اور دیگر شواہد دستیاب ہیں تو شفاف اور غیر جانب دارانہ تفتیش کے ذریعے اصل حقائق سامنے لانا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے۔

متاثرہ صحافی نے آئی جی اسلام آباد، ڈی آئی جی آپریشنز اور دیگر اعلیٰ پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ایف آئی آر کا قانونی طور پر ازسرنو جائزہ لیا جائے، CCTV فوٹیج اور میڈیکل شواہد کو تفتیش کا حصہ بنایا جائے اور تحقیقات کے دوران اگر سنگین دفعات کے شواہد سامنے آئیں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

اب معاملے کا اصل امتحان تھانہ آبپارہ پولیس اور اعلیٰ پولیس حکام کا ہے کہ وہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر غیر جانب دارانہ تحقیقات کرتے ہیں اور قانون کی بالادستی یقینی بناتے ہیں یا ایف آئی آر کے اندراج اور تفتیش کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات بدستور برقرار رہتے ہیں۔

نوٹ: خبر میں نامزد افراد کے خلاف عائد الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی، جبکہ نامزد فریق کا مؤقف سامنے آنے کی صورت میں اسے بھی شامل کیا جانا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے