تہران: ایران جنگ کے ثالثوں نے آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری آمدورفت بحال کرانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کردی ہیں، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے شرائط کی فہرست تیار کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے جمعرات کو تہران میں ایرانی قیادت سے ملاقات کی اور بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں آزادانہ جہاز رانی بحال کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
قطری وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایرانی حکام سے بین الاقوامی قانون کے مطابق آبنائے ہرمز میں آزادیٔ جہاز رانی کا احترام کرنے کی اہمیت پر بات کی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے قطری وزیراعظم سے مذاکرات کو تعمیری قرار دیتے ہوئے امریکا پر زور دیا کہ وہ ایران پر فوجی اور اقتصادی دباؤ ختم کرکے مذاکرات کی جانب واپس آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارت کاری کو دوبارہ بحال کرنا ناممکن نہیں، تاہم اس کے لیے امریکا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ دباؤ مؤثر نہیں۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے بھی کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے شرائط کی فہرست تیار کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران نے عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کے لیے ایک مخصوص راہداری پر اتفاق کیا ہے، جس کا کچھ حصہ عمانی اور کچھ ایرانی سمندری حدود میں ہوگا۔
محسن رضائی کے مطابق اگر امریکا ایران کی شرائط تسلیم کرتا ہے تو بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز میں مخصوص مرکزی راستے سے گزرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ ایران کی سابقہ شرائط میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنا، معاوضہ ادا کرنا اور پابندیاں اٹھانا شامل رہی ہیں۔
دوسری جانب امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے کئی ماہ قبل بچھائی گئی سمندری بارودی سرنگیں صاف کردی ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کے مطابق بین الاقوامی بحری راستے کھلے ہیں اور تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں اضافہ ہورہا ہے۔
تاہم ایران کی دھمکیوں کے باعث بیشتر بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ جمعرات کو صرف 7 مال بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ ایک روز قبل یہ تعداد 17 تھی۔
آبنائے ہرمز سے عالمی تیل کی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد جنگ سے قبل گزرتا تھا۔ موجودہ صورتحال کے باعث خلیجی ممالک نے بھی آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے کے لیے متبادل بندرگاہوں، پائپ لائنز اور دیگر بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری تیز کردی ہے۔