نوجوان زرعی کاروباری افراد پاکستان کی دیہی معیشت میں تبدیلی کے علمبردار اور ترقی کے محرک
تحریر۔ڈاکٹر محمد حامد نواز خان (سینئر فیکلٹی ممبر، زرعی توسیع و تعلیم کے ماہر، زرعی کاروباری شخصیت، مینٹور اور کاروباری مشیر)

پاکستان کا شعبۂ زراعت ایک ایسے اہم موڑ پر کھڑا ہے جہاں روایتی زرعی طریقۂ کار، پیداواری لاگت میں اضافہ، موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، بے روزگاری اور منڈیوں تک محدود رسائی جدید، جامع اور کاروبار پر مبنی حل کی متقاضی ہے۔ اس بدلتے ہوئے منظرنامے میں نوجوان زرعی کاروباری افراد دیہی معیشت میں تبدیلی لانے اور اسے جدید خطوط پر استوار کرنے کی ایک طاقتور قوت بن سکتے ہیں۔ وہ محض مستقبل کے کسان یا ملازمت کے متلاشی نہیں بلکہ جدت کے علمبردار، کاروباری رہنما، جدید ٹیکنالوجی اپنانے والے، روزگار پیدا کرنے والے اور دیہی برادریوں کو متحرک کرنے والے افراد ہیں، جو زرعی پیداوار، پراسیسنگ، مارکیٹنگ اور دیہی معاش کو نئی سمت دے سکتے ہیں۔ اگر پاکستان اپنے زرعی شعبے کی حقیقی صلاحیت سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تو جامعات، صنعتوں، مالیاتی اداروں اور زرعی توسیعی خدمات کو مشترکہ طور پر نوجوانوں کی قیادت میں زرعی کاروبار کے قیام کی حوصلہ افزائی اور اس میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔کئی دہائیوں سے زرعی تعلیم کا غالب رجحان روایتی ملازمتوں، تکنیکی معلومات اور سرکاری ملازمتوں کے حصول پر مرکوز رہا ہے۔ اگرچہ ان شعبوں کی اپنی اہمیت ہے، تاہم بدلتے ہوئے معاشی حالات اس امر کا تقاضا کرتے ہیں کہ زرعی تعلیم کو وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے، جہاں فارغ التحصیل نوجوان نہ صرف ملازمت حاصل کرنے بلکہ کاروبار قائم کرنے، منڈیاں ترقی دینے اور دوسروں کے لیے روزگار پیدا کرنے کے قابل بھی ہوں۔ زراعت کی ڈگری خود روزگاری، جدت اور کاروباری ترقی کی بنیاد بننی چاہیے۔ نوجوان زرعی گریجویٹس بیجوں کی پیداوار، پودوں کی نرسریوں، جدید زرعی مشینری کی خدمات، زمین اور پانی کے تجزیے، نامیاتی فضلے کی ری سائیکلنگ، مویشی بانی، ڈیری پراسیسنگ، پولٹری فارمنگ، شہد کی مکھیوں کی افزائش، مشروم کی کاشت، باغبانی، خوراک کو محفوظ بنانے، زرعی ای کامرس اور ڈیجیٹل زرعی مشاورت جیسے شعبوں میں کاروبار قائم کرسکتے ہیں۔ ایسے کاروبار نہ صرف معاشی مواقع پیدا کریں گے بلکہ کسانوں اور دیہی برادریوں کے عملی مسائل کے حل میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔نوجوان زرعی کاروباری افراد اس لیے تبدیلی کے علمبردار ہیں کہ وہ نئے خیالات متعارف کروا سکتے ہیں، فرسودہ طریقوں کو چیلنج کرسکتے ہیں اور زرعی برادریوں کو جدید ٹیکنالوجی اور منڈیوں سے جوڑ سکتے ہیں۔ موبائل ایپلی کیشنز، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، مصنوعی ذہانت، موسمیاتی طور پر موافق زرعی ٹیکنالوجیز، جدید آبپاشی نظام اور اعداد و شمار پر مبنی زرعی انتظام کے ذریعے نوجوان پیداوار، وسائل کے مؤثر استعمال اور منافع میں اضافے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ نوجوانوں کے کاروباری کردار کا جائزہ صرف قائم کیے گئے کاروباروں کی تعداد سے نہیں بلکہ اس امر سے بھی لیا جانا چاہیے کہ وہ پیداواری لاگت میں کتنی کمی لاتے ہیں، بعد از برداشت نقصانات کو کس حد تک کم کرتے ہیں، پیداوار کا معیار بہتر بناتے ہیں، قدرتی وسائل کا تحفظ کرتے ہیں اور کسانوں کی منڈی میں سودے بازی کی صلاحیت بڑھاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، پھلوں کی پراسیسنگ کا مقامی یونٹ قائم کرنے والا نوجوان کاروباری شخص روزگار پیدا کرنے، پھلوں کے ضیاع کو کم کرنے، زرعی پیداوار میں قدر کا اضافہ کرنے اور چھوٹے کسانوں کو بہتر منڈیوں سے منسلک کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اسی طرح زرعی مشاورتی خدمات فراہم کرنے والا نوجوان کاروبار کسانوں کو متوازن کھادوں کے استعمال، ضرر رساں کیڑوں کے مؤثر تدارک، پانی کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق پیداوار کے بارے میں بہتر فیصلے کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔پاکستان کی جامعات اس وژن کو عملی شکل دینے میں نہایت اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ بالخصوص زراعت اور اس سے منسلک شعبوں میں تعلیم فراہم کرنے والے اداروں کو محض کلاس روم میں تدریس تک محدود رہنے کے بجائے عملی تجربات، نتائج پر مبنی تعلیم اور کاروباری مہارتوں کی ترقی کو فروغ دینا چاہیے۔ طلبہ کو مقامی زرعی مسائل کی نشاندہی، منڈی کے جائزے، کاروباری منصوبوں کی تیاری، ابتدائی نمونوں کی تیاری، انٹرن شپ اور دورانِ تعلیم آزمائشی کاروبار قائم کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ زرعی تعلیم میں کاروباری صلاحیت، مالی خواندگی، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، کاروباری ابلاغ، زرعی ویلیو چین کی ترقی، خطرات کے انتظام اور منڈی کے تجزیے کو بامقصد انداز میں شامل کیا جانا چاہیے۔ جامعات کے زرعی فارمز، تجربہ گاہیں، تحقیقی سہولیات اور انکیوبیشن مراکز ایسے اختراعی مراکز بن سکتے ہیں جہاں طلبہ اپنے خیالات کو آزمائیں، ماہرین سے رہنمائی حاصل کریں اور تجارتی لحاظ سے قابلِ عمل حل تیار کریں۔ اساتذہ کو بھی طلبہ کے لیے محض لیکچر دینے والے افراد کے بجائے مینٹور، سہولت کار اور کاروباری ترقی کے مشیر کے طور پر کام کرنے کے مواقع ملنے چاہییں، تاکہ تحقیقی نتائج اور تکنیکی علم کو عملی مصنوعات اور خدمات میں تبدیل کیا جاسکے۔
جامعات کو زرعی صنعتوں، زرعی کاروباری کمپنیوں، زرعی مداخل فراہم کرنے والے اداروں، خوراک کی پراسیسنگ کرنے والی کمپنیوں، برآمد کنندگان، خوردہ فروشوں اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کو بھی مضبوط بنانا ہوگا۔ جامعات اور صنعتوں کے درمیان شراکت داری نوجوان کاروباری افراد کو انٹرن شپ، عملی تربیت، آلات تک رسائی، تکنیکی رہنمائی، مارکیٹ کی معلومات اور اپنی مصنوعات آزمانے کے مواقع فراہم کرسکتی ہے۔ زرعی کمپنیوں کو جامعات کے ساتھ اپنے تعلقات صرف بھرتیوں یا کبھی کبھار مالی معاونت تک محدود نہیں رکھنے چاہییں، بلکہ انہیں کاروباری مقابلوں، اختراعی منصوبوں، انکیوبیشن پروگراموں، کاروباری رہنمائی، عملی مظاہروں اور سپلائرز کی ترقی کے اقدامات کے ذریعے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ قائم شدہ کاروباری ادارے نوجوانوں کو معیار کے تقاضوں، صارفین کی ترجیحات، سرٹیفکیشن، تقسیم کے نظام اور زرعی منڈیوں میں مسابقت کی عملی حقیقتوں سے روشناس کروا سکتے ہیں۔ اس طرح علمی اور عملی کاروباری دنیا کے درمیان موجود خلیج کم ہوگی اور زرعی معیشت زیادہ مضبوط اور مسابقتی بن سکے گی۔مالیاتی اداروں اور مائیکروفنانس بینکوں کو بھی اس تبدیلی میں فعال شراکت دار بننا ہوگا۔ سستے اور قابلِ رسائی سرمائے کی کمی نوجوانوں کو ان کے اچھے زرعی کاروباری خیالات کو قابلِ عمل منصوبوں میں تبدیل کرنے سے روکتی ہے۔ بہت سے نوجوان گریجویٹس تکنیکی معلومات اور کاروباری عزم رکھتے ہیں، لیکن ان کے پاس کاروبار شروع کرنے کے لیے ضمانت، سابقہ قرضوں کی تاریخ، کاروباری روابط اور ابتدائی سرمایہ موجود نہیں ہوتا۔ روایتی قرضوں کی شرائط بالخصوص ان نوجوانوں کے لیے مشکل ہوسکتی ہیں جن کے کاروبار موسمی آمدنی، موسمیاتی خطرات اور ابتدائی غیر یقینی حالات سے وابستہ ہوں۔ اس لیے بینکوں اور مائیکروفنانس اداروں کو نوجوانوں کے لیے مخصوص زرعی مالیاتی پروگرام متعارف کروانے چاہییں، جن میں آسان طریقۂ کار، مناسب ضمانتی شرائط، زرعی آمدنی کے دورانیے کے مطابق اقساط اور کاروبار شروع کرنے کے لیے رہنمائی شامل ہو۔ جہاں ممکن ہو، ان پروگراموں میں بلا سود مالی معاونت، بالخصوص اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ مالیاتی طریقے، شفاف شرائط کے ساتھ سستے مالیاتی متبادل اور خطرات میں شراکت کے مناسب نظام شامل کیے جائیں۔ حکومتی ضمانتیں، مشترکہ مالی معاونت، ابتدائی سرمایہ اور کاروباری گرانٹس بھی مالیاتی اداروں کو نوجوانوں کے کاروبار میں سرمایہ کاری کی ترغیب دے سکتی ہیں۔ بلا سود مالی معاونت کے پروگرام بھی پائیدار بنیادوں پر تشکیل دیے جائیں، جن میں اہلیت کے واضح معیار، کاروباری منصوبے کی جانچ، شفاف معاہدے اور ذمہ دارانہ ادائیگی کے انتظامات موجود ہوں۔مقصد صرف قرضے تقسیم کرنا نہیں بلکہ پائیدار کاروباری ادارے قائم کرنا ہونا چاہیے۔ مالیاتی ادارے جامعات، زرعی توسیعی محکموں، کاروباری انکیوبیشن مراکز اور صنعتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر قابلِ عمل کاروباری خیالات کی نشاندہی کرسکتے ہیں، ان کی تجارتی صلاحیت کا جائزہ لے سکتے ہیں اور قرض یا سرمایہ فراہم کرنے سے پہلے مالی خواندگی کی تربیت دے سکتے ہیں۔ نوجوان کاروباری افراد کو بجٹ سازی، نقد رقوم کے بہاؤ، حساب کتاب، قیمتوں کے تعین، ٹیکس، بیمہ، مارکیٹ کے خطرات اور قرض کی واپسی کے بارے میں رہنمائی درکار ہوتی ہے۔ مالی معاونت کو تکنیکی مدد، مینٹورشپ اور منڈیوں تک رسائی کے ساتھ منسلک کرنے سے کاروبار کی بقا اور ترقی کے امکانات بہتر ہوسکتے ہیں۔ دیہی نوجوانوں، زرعی سرگرمیوں میں مصروف خواتین، چھوٹے کسان خاندانوں اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے گریجویٹس کو خصوصی توجہ دی جانی چاہیے، کیونکہ ان کے پاس قابلِ عمل کاروباری خیالات ہونے کے باوجود وسائل اور معاونت تک رسائی محدود ہوسکتی ہے۔زرعی توسیع و تعلیم کے ماہرین (Agricultural Extension Educationists) اس کاروباری تبدیلی کو عملی، جامع اور کمیونٹی کی ضروریات سے ہم آہنگ بنانے میں مرکزی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ زرعی توسیع کا مطلب محض تکنیکی سفارشات کی ترسیل نہیں، بلکہ آگاہی، سماجی متحرک سازی، صلاحیت سازی، سہولت کاری اور شراکتی تعلیم کا ایک مسلسل عمل ہے۔ زرعی توسیع و تعلیم کے ماہرین نوجوانوں کو مقامی کاروباری مواقع پہچاننے، کسانوں کی ضروریات سمجھنے، زرعی ویلیو چین میں موجود خلا کی نشاندہی کرنے اور سائنسی معلومات کو کاروباری سرگرمیوں سے جوڑنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ کسانوں کے عملی تربیتی اسکولوں، نوجوانوں کے تعلیمی گروپس، کاروباری ورکشاپس، کھیتوں میں مظاہروں، شراکتی دیہی جائزوں، کاروباری ترقی کے تربیتی پروگراموں اور ڈیجیٹل ابلاغی پلیٹ فارمز کے ذریعے وہ نوجوانوں کو خیالات سے باخبر فیصلوں اور فیصلوں سے عملی اقدامات کی طرف لے جاسکتے ہیں۔زرعی توسیع کے ماہرین کا کردار اس بات کو یقینی بنانے میں بھی اہم ہے کہ نوجوانوں کے کاروبار کسانوں اور دیہی برادریوں کی حقیقی ضروریات پوری کریں، نہ کہ منڈی کی مناسب تحقیق کے بغیر کاروباری سرگرمیاں شروع کردی جائیں۔ یہ ماہرین نوجوان کاروباری افراد کو کسانوں، مویشی پالنے والوں، زرعی سرگرمیوں میں مصروف خواتین، مقامی تاجروں، پراسیسنگ کرنے والوں اور ویلیو چین کے دوسرے متعلقہ فریقوں سے براہِ راست رابطے میں لاسکتے ہیں۔ اس رابطے کے ذریعے کھیتوں میں مشاورتی خدمات، موسمیاتی طور پر موافق زراعت، زرعی مداخل کے مؤثر استعمال، قابلِ تجدید توانائی، پانی کے انتظام، برداشت کے بعد کی ٹیکنالوجیز اور مقامی سطح پر زرعی پیداوار میں قدر کے اضافے کے مواقع سامنے آسکتے ہیں۔ زرعی توسیع کے ماہرین شراکتی طریقوں کو بھی فروغ دے سکتے ہیں، جن میں کسان صرف نئی ٹیکنالوجی کے وصول کنندہ نہ ہوں بلکہ مسائل کی نشاندہی، حل کی آزمائش اور نتائج کے جائزے میں فعال شراکت دار ہوں۔ اس طرح زرعی کاروبار علم کے تبادلے، اعتماد سازی اور کمیونٹی کی ترقی کا مشترکہ عمل بن سکتا ہے۔ڈیجیٹل زرعی توسیع نوجوانوں کے کاروبار کے لیے مزید امکانات پیدا کرتی ہے۔ نوجوان ڈیجیٹل مشاورتی خدمات قائم کرسکتے ہیں، تعلیمی ویڈیوز تیار کرسکتے ہیں، آن لائن کسان برادریوں کو منظم کرسکتے ہیں، منڈی کی معلومات فراہم کرسکتے ہیں اور ایسی رابطہ کاری کے ذرائع بنا سکتے ہیں جو زرعی پیداوار کرنے والوں کو خریداروں اور خدمات فراہم کرنے والوں سے جوڑیں۔ تاہم ڈیجیٹل جدت کے ساتھ عملی تربیت، قابلِ اعتماد معلومات، ڈیجیٹل خواندگی اور مقامی زبانوں اور انٹرنیٹ کی سہولیات سے متعلق رکاوٹوں کا ادراک بھی ضروری ہے۔ زرعی توسیع و تعلیم کے ماہرین اس بات کو یقینی بنانے میں مدد دے سکتے ہیں کہ ڈیجیٹل خدمات سائنسی بنیادوں پر قائم، دیہی برادریوں کے لیے قابلِ رسائی اور بالخصوص خواتین اور چھوٹے کسانوں کی متنوع ضروریات کے مطابق ہوں۔حکومت کا کردار بھی اتنا ہی اہم ہے۔ وفاقی اور صوبائی اداروں کو زرعی کاروبار کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا چاہیے، جس میں شفاف معاونتی پروگرام، کاروبار کی رجسٹریشن میں آسانی، ہدفی تربیت، ٹیکنالوجی تک رسائی، انکیوبیشن کی سہولیات اور تحقیقی اداروں و منڈیوں کے درمیان مضبوط روابط شامل ہوں۔ سرکاری زرعی محکموں، جامعات، فنی تربیتی اداروں اور نجی تنظیموں کو اپنے پروگرام الگ الگ اور عارضی بنیادوں پر چلانے کے بجائے باہمی رابطے اور تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔ زرعی کاروبار کو نوجوانوں کے روزگار، دیہی ترقی، موسمیاتی موافقت اور قومی غذائی تحفظ کی حکمت عملیوں کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ ان اقدامات کی کامیابی کو کاروباروں کے قیام اور ان کی بقا، پیدا ہونے والے روزگار، خواتین اور دیہی نوجوانوں کی شمولیت، ٹیکنالوجی کے استعمال، زرعی پیداوار میں قدر کے اضافے، آمدنی میں بہتری اور قدرتی وسائل کے تحفظ جیسے قابلِ پیمائش اشاریوں سے جانچا جانا چاہیے۔ایک مؤثر حکمت عملی یہ ہے کہ مقامی سطح پر ایسے زرعی کاروباری نظام تشکیل دیے جائیں جن میں جامعات علم اور جدت فراہم کریں، صنعتیں منڈیوں اور عملی مہارت سے فائدہ پہنچائیں، مالیاتی ادارے موزوں سرمایہ فراہم کریں اور زرعی توسیعی خدمات آگاہی، سماجی متحرک سازی، تربیت اور شراکت داری کو فروغ دیں۔ مقامی حکومتیں اور کمیونٹی تنظیمیں کاروباری مواقع کی نشاندہی اور نوجوانوں کو ان برادریوں سے جوڑنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں جن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے یہ کاروبار قائم کیے جارہے ہیں۔ ایسے مشترکہ نظام انفرادی کاروباری خیالات کو قابلِ عمل منصوبوں میں تبدیل کرسکتے ہیں اور کامیاب ماڈلز کو مختلف اضلاع اور زرعی ویلیو چینز میں وسعت دینے کے مواقع پیدا کرسکتے ہیں۔پاکستان کا زرعی مستقبل صرف پیداوار بڑھانے سے وابستہ نہیں بلکہ منافع بخش، موسمیاتی خطرات کے مقابلے میں مضبوط، وسائل کے مؤثر استعمال پر مبنی اور منڈیوں سے مربوط زرعی نظام تشکیل دینے سے بھی جڑا ہوا ہے۔ نوجوان کاروباری افراد اپنی توانائی، تخلیقی صلاحیت، ڈیجیٹل مہارت اور نئے تجربات کرنے کے جذبے کے ذریعے اس تبدیلی کو ممکن بنا سکتے ہیں۔ تاہم نوجوانوں سے یہ توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں کہ وہ مالی معاونت، عملی تعلیم، رہنمائی، ٹیکنالوجی اور منڈیوں تک رسائی کے بغیر زراعت کو تبدیل کردیں گے۔ ان کی کاروباری صلاحیت کو ایسے اداروں کی مدد درکار ہے جو علم بانٹنے، رکاوٹیں کم کرنے اور ذمہ دارانہ جدت کے مواقع پیدا کرنے کے لیے تیار ہوں۔اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کی جامعات، زرعی صنعتیں، مالیاتی ادارے، مائیکروفنانس بینک، سرکاری محکمے اور زرعی توسیعی ادارے نوجوانوں کی قیادت میں زرعی کاروبار کو ایک ضمنی سرگرمی کے بجائے قومی ترقی میں ایک اہم سرمایہ کاری سمجھیں۔ نوجوانوں کو صرف ملازمتیں تلاش کرنے کے بجائے کاروبار قائم کرنے، صرف ٹیکنالوجی اپنانے کے بجائے مسائل کے حل تیار کرنے اور دیہی ترقی میں محض شریک ہونے کے بجائے اس کی قیادت کرنے کے قابل بنایا جائے۔ جب علمی مہارتوں کو صنعتی تجربے، قابلِ رسائی مالی معاونت، پیشہ ورانہ رہنمائی اور شراکتی زرعی توسیع سے منسلک کیا جائے گا تو نوجوان زرعی کاروباری افراد حقیقی معنوں میں تبدیلی کے علمبردار بن سکیں گے۔ وہ کھیتوں کو کاروباری اداروں، گریجویٹس کو روزگار پیدا کرنے والوں، مقامی وسائل کو معاشی مواقع اور دیہی برادریوں کو پائیدار ترقی کے مراکز میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔پاکستان کو آج اپنے نوجوان زرعی کاروباری افراد میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی تاکہ کل ایک پیداواری، جدت پسند، جامع اور خوشحال زرعی معیشت تشکیل دی جاسکے۔ علم کے ذریعے تبدیلی اور مؤثر عملی اقدامات کے ذریعے اس تبدیلی کا نفاذ نوجوانوں کی صلاحیت کو ایک دیرپا قومی ترقی میں بدل سکتا ہے۔