column and article

عالمی یومِ خوراک / پاکستان میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کیلیے کسان کو مرکزِ نگاہ بنایا جائے

تحریر:ڈاکٹر محمد حامد نواز خان(فیکلٹی ممبر، شعبۂ زرعی توسیع تعلیم، فیکلٹی آف ایگریکلچر اینڈ انوائرمنٹ، دی اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور، پاکستان)

عالمی یومِ خوراک ہر سال 16 اکتوبر کو اس عزم کی تجدید کے لیے منایا جاتا ہے کہ دنیا کے ہر انسان کو محفوظ، معیاری، غذائیت سے بھرپور اور قابلِ استطاعت خوراک میسر ہو۔ سال 2026ء میں یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عالمی سطح پر بھوک میں بعض علاقوں میں کمی کے باوجود غذائی تحفظ کے حصول میں پیش رفت غیر یقینی اور کمزور ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، سیلاب، خشک سالی، شدید گرمی، پانی کی قلت، مہنگائی، زرعی مداخل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، معاشی ناہمواری، فصلوں کی کم پیداوار اور خوراک کے ضیاع جیسے مسائل نے دنیا بھر میں غذائی تحفظ کو ایک سنگین چیلنج بنا دیا ہے۔ پاکستان جیسے زرعی ملک کے لیے یہ صورتِ حال خصوصی اہمیت رکھتی ہے، جہاں زراعت لاکھوں خاندانوں کے روزگار، ملکی معیشت، صنعتوں کے لیے خام مال اور عوام کی غذائی ضروریات کی تکمیل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اس لیے عالمی یومِ خوراک محض ایک رسمی تقریب نہیں بلکہ حکومت، زرعی جامعات، تحقیقی اداروں، محکمہ ہائے زراعت، زرعی توسیع کے ماہرین، کسانوں، دیہی خواتین، نوجوانوں اور نجی شعبے کے لیے عملی اقدامات کا پیغام ہے۔

پاکستان میں غذائی تحفظ کا مسئلہ صرف خوراک کی پیداوار بڑھانے تک محدود نہیں، بلکہ اس کا تعلق خوراک کی دستیابی، قوتِ خرید، منصفانہ تقسیم، غذائیت، زرعی وسائل کے پائیدار استعمال اور کسانوں کی معاشی حالت سے بھی ہے۔ اگرچہ ملک میں گندم، چاول اور دیگر فصلیں پیدا کی جاتی ہیں، لیکن بڑھتی ہوئی مہنگائی اور کم آمدنی کے باعث بہت سے خاندان متوازن اور غذائیت سے بھرپور غذا حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ ایک صحت مند معاشرے کے لیے صرف پیٹ بھرنا کافی نہیں، بلکہ سبزیوں، پھلوں، دالوں، دودھ، انڈوں اور دیگر غذائیت بخش غذاؤں تک رسائی بھی ضروری ہے۔ دوسری جانب کسانوں کو مہنگی کھاد، بیج، ڈیزل، بجلی، زرعی ادویات، آبپاشی اور مزدوری کے اخراجات کے ساتھ ساتھ موسمیاتی خطرات، غیر یقینی منڈیوں اور فصلوں کی مناسب قیمت نہ ملنے جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ان حالات میں پاکستان کو ایسی مربوط زرعی حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت ہے جو پیداوار میں اضافے کے ساتھ کسانوں کی آمدنی، غذائیت، ماحولیاتی تحفظ اور صارفین کی قوتِ خرید کو بھی اہمیت دے۔

غذائی تحفظ کی بنیاد کسان ہے، اس لیے ہر زرعی منصوبہ بندی کا آغاز کسان کی بات سننے سے ہونا چاہیے۔ کسان محض زرعی پالیسیوں پر عمل کرنے والا فرد نہیں بلکہ اپنے تجربے، مقامی معلومات اور عملی مہارت کے باعث زرعی ترقی کا اہم شراکت دار ہے۔ اس کے مسائل، ضروریات، مالی وسائل، زمین کی نوعیت، پانی کی دستیابی، موسمی حالات اور منڈی تک رسائی کو سمجھے بغیر کوئی بھی زرعی منصوبہ مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ روایتی یک طرفہ نظامِ زرعی توسیع کی جگہ شراکتی طریقۂ کار کو فروغ دیا جائے، جس میں کسان مسائل کی نشاندہی، حل کی تیاری، نئی ٹیکنالوجی کے تجربات، عملی سرگرمیوں اور نتائج کی جانچ میں فعال کردار ادا کرے۔ اس طریقۂ کار میں ماہرین صرف ہدایات دینے والے نہیں بلکہ کسانوں کے ساتھ مل کر سیکھنے، سکھانے اور مسائل حل کرنے والے معاون بن جاتے ہیں۔

پاکستان کی زرعی جامعات کو اس سلسلے میں قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ جامعات کا کام صرف تدریس، امتحانات، لیبارٹری تجربات اور تحقیقی مقالے شائع کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ انہیں دیہی آبادیوں کے ساتھ براہِ راست روابط قائم کرکے علمی تحقیق کو عملی میدان تک پہنچانا چاہیے۔ فیکلٹی ممبران، محققین اور طلبہ کسانوں کے ساتھ مل کر دیہات میں زرعی مسائل کا جائزہ لیں، تربیتی ضروریات معلوم کریں، فصلوں کے پیداواری مسائل کی نشاندہی کریں اور مقامی حالات کے مطابق قابلِ عمل حل تجویز کریں۔ جامعات کو چاہیے کہ وہ منتخب دیہات میں شراکتی زرعی تحقیق، نمائشی پلاٹ، کسانوں کے مطالعاتی گروپ، فیلڈ ڈے، تربیتی ورکشاپس اور کسانوں سے براہِ راست مشاورت کا اہتمام کریں۔ طلبہ کو بھی عملی تربیت، انٹرن شپ، دیہی سروے، زرعی مشاورتی خدمات اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ منصوبوں میں شامل کیا جائے تاکہ ان کی تعلیم حقیقی زرعی ضروریات سے منسلک ہو اور کسانوں کو جدید علم اور مہارتوں سے فائدہ پہنچے۔

زرعی تحقیقی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کے مختلف زرعی اور ماحولیاتی خطوں کے لیے موزوں ٹیکنالوجیز اور طریقۂ کاشت تیار کریں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں گرمی اور خشک سالی برداشت کرنے والی اقسام، پانی کے مؤثر استعمال، بارش کے پانی کو محفوظ کرنے، زمین کی زرخیزی برقرار رکھنے، متوازن کھاد کے استعمال، مربوط انسدادِ ضرر رساں کیڑوں، فصلوں کے تنوع اور پائیدار لائیوسٹاک مینجمنٹ پر تحقیق کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ تحقیق صرف تجربہ گاہوں اور تحقیقی مراکز تک محدود نہ رہے، بلکہ اس کے نتائج کسانوں کے کھیتوں میں عملی تجربات اور مظاہروں کے ذریعے جانچے جائیں۔ کسانوں کی شمولیت سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ کوئی نئی ٹیکنالوجی مقامی حالات میں کتنی مؤثر، قابلِ برداشت اور قابلِ عمل ہے۔ اس طرح تحقیقی ادارے کسانوں کے تجربات سے بھی سیکھ سکیں گے اور کسان سائنسی معلومات سے بھی فائدہ اٹھا سکیں گے۔

دنیا کے مختلف ممالک میں شراکتی زرعی توسیع، کسان فیلڈ اسکول، کسان سے کسان تک تربیت، موسمیاتی طور پر بہتر زراعت، کمیونٹی سیڈ پروگرام، ڈیجیٹل زرعی مشاورت اور مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے جیسے طریقے غذائی تحفظ کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ کمبوڈیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق زراعت اور کسان فیلڈ اسکولوں کے ذریعے کاشتکاروں کو فصلوں کی پیداوار بہتر بنانے اور بدلتے موسموں سے مطابقت پیدا کرنے میں مدد دی جاتی ہے۔ تنزانیہ میں کمزور اور بے گھر آبادیوں کے لیے خوراک کی دستیابی اور متبادل ذرائع معاش پر توجہ دی جاتی ہے، جبکہ نکاراگوا میں گھریلو خوراک کی پیداوار، بچت اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ پاکستان ان بین الاقوامی تجربات سے رہنمائی حاصل کرکے اپنے زرعی، معاشی اور ثقافتی حالات کے مطابق پروگرام ترتیب دے سکتا ہے۔ اصل سبق یہ ہے کہ پائیدار ترقی اسی وقت ممکن ہے جب مقامی آبادی کو منصوبہ بندی، عمل درآمد اور نتائج کی جانچ میں حقیقی شراکت دی جائے۔

پاکستان میں اس مقصد کے لیے جامعہ سے گاؤں تک غذائی تحفظ اور موسمیاتی طور پر بہتر زراعت کا شراکتی پروگرام شروع کیا جا سکتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت زرعی جامعات، تحقیقی ادارے، محکمہ ہائے زراعت، مقامی حکومتیں اور کسان تنظیمیں باہمی مشاورت سے منتخب دیہات میں کام کریں۔ پہلے مرحلے میں کسانوں کی ضروریات، زرعی اخراجات، پانی کی دستیابی، مٹی کی حالت، فصلوں کی پیداوار، منڈیوں تک رسائی اور گھریلو غذائی تحفظ کا جائزہ لیا جائے۔ اس کے بعد کسانوں کی ترجیحات کے مطابق تربیت، عملی مظاہروں اور تحقیقی سرگرمیوں کا منصوبہ بنایا جائے۔ کھیتوں میں بہتر بیج، متوازن کھاد، پانی کی بچت، مٹی کے تحفظ، کیڑوں کے مربوط تدارک، فصلوں کے تنوع اور مویشیوں کی بہتر نگہداشت کے طریقے متعارف کرائے جائیں۔ کسانوں کے ساتھ باقاعدہ ملاقاتیں کرکے پیش رفت کا جائزہ لیا جائے اور ضرورت کے مطابق پروگرام میں تبدیلیاں کی جائیں۔

پنجاب کے مختلف زرعی علاقوں میں ان سرگرمیوں کو مقامی ضروریات کے مطابق ترتیب دینا ضروری ہے۔ آبپاشی والے علاقوں میں پانی کے مؤثر استعمال، مٹی کی زرخیزی، متوازن کھاد اور بہتر منڈی کاری پر توجہ دی جائے۔ بہاولپور اور چولستان سے ملحقہ خشک اور نیم خشک علاقوں میں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے، خشک سالی برداشت کرنے والی فصلوں، چارے کی دستیابی، مویشیوں کی صحت اور قدرتی وسائل کے پائیدار انتظام کو ترجیح دی جائے۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں موسمیاتی خطرات سے نمٹنے، فصلوں کے تنوع، زمین کی بحالی اور زرعی انفراسٹرکچر کی بہتری کے منصوبے تشکیل دیے جائیں۔ دی اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور سمیت زرعی تعلیم اور تحقیق سے وابستہ ادارے مقامی کسانوں، متعلقہ محکموں اور تحقیقی مراکز کے ساتھ تعاون کرکے ایسے اقدامات میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

دیہی خواتین کو غذائی تحفظ کے منصوبوں کا مرکزی حصہ بنانا بھی ناگزیر ہے۔ خواتین فصلوں کی کاشت، مویشیوں کی دیکھ بھال، بیجوں کے انتخاب، کچن گارڈننگ، خوراک کی تیاری اور گھریلو غذائیت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، لیکن انہیں اکثر تربیت، مالی وسائل، زرعی معلومات اور فیصلہ سازی کے مساوی مواقع میسر نہیں ہوتے۔ زرعی جامعات اور محکمہ ہائے توسیع کو خواتین کسانوں کے لیے الگ تربیتی گروپ، عملی مظاہرے اور مقامی ضروریات کے مطابق مشاورتی سرگرمیاں ترتیب دینی چاہییں۔ کچن گارڈننگ، پولٹری، مویشیوں کی غذائیت، خوراک کو محفوظ کرنے، دودھ اور زرعی مصنوعات کی پراسیسنگ، مالی خواندگی اور چھوٹے کاروبار کی تربیت خواتین کی آمدنی اور گھریلو غذائیت بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ اسی طرح دیہی نوجوانوں کو ڈیجیٹل زراعت، نرسریوں، زرعی مشینری کی خدمات، فوڈ پراسیسنگ، ای کامرس، مارکیٹنگ اور زرعی کاروبار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ جامعات کے انکیوبیشن مراکز، انٹرن شپ اور عملی تربیتی پروگرام نوجوانوں کو خود روزگاری کی طرف راغب کر سکتے ہیں۔

خوراک کے ضیاع اور فصلوں کے بعد ہونے والے نقصانات میں کمی بھی پاکستان کی غذائی حکمتِ عملی کا بنیادی حصہ ہونی چاہیے۔ نامناسب برداشت، خشک کرنے، ذخیرہ کرنے، پیکنگ اور نقل و حمل کے باعث بہت سی زرعی مصنوعات اپنی غذائی اور تجارتی قدر کھو دیتی ہیں۔ اس لیے کسانوں کو مناسب وقت پر برداشت، محفوظ ذخیرہ، نمی کے انتظام، درجہ بندی، معیاری پیکنگ، کولڈ چین، پراسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کی تربیت دی جائے۔ جامعات، تحقیقی ادارے، تاجر اور پراسیسنگ انڈسٹری مل کر ایسے کم لاگت طریقے متعارف کرائیں جن سے خوراک محفوظ رہے اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہو۔ پھلوں، سبزیوں، دودھ، اناج اور دیگر زرعی مصنوعات کی مناسب پراسیسنگ سے مقامی روزگار کے مواقع بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ خوراک کا ضیاع کم کرنا دراصل پہلے سے پیدا کی گئی خوراک سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے، پانی اور توانائی بچانے اور غذائی تحفظ بہتر بنانے کا مؤثر طریقہ ہے۔

ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ اور ترقیاتی ابلاغ بھی زرعی معلومات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ موبائل فون، آن لائن زرعی مشاورت، سوشل میڈیا، ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے ذریعے کسانوں کو موسم، فصلوں کی بیماریوں، کیڑوں کے تدارک، آبپاشی، منڈی کے نرخوں اور جدید زرعی طریقوں کے بارے میں بروقت معلومات فراہم کی جا سکتی ہیں۔ ریڈیو پاکستان سمیت عوامی ابلاغ کے اداروں کو زرعی ماہرین، محققین، کسانوں، غذائیت کے ماہرین اور زرعی کاروباری افراد پر مشتمل انٹرایکٹو پروگرام نشر کرنے چاہییں۔ ایسے پروگراموں میں کسانوں کے سوالات، مقامی مسائل اور عملی تجربات کو جگہ دی جائے۔ معلومات اردو، پنجابی، سرائیکی اور دیگر متعلقہ مقامی زبانوں میں فراہم کی جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد فائدہ اٹھا سکیں۔ ڈیجیٹل ذرائع کو براہِ راست زرعی مشاورت، فیلڈ مظاہروں اور کسانوں سے ملاقاتوں کا متبادل بنانے کے بجائے ان کی معاونت کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

ان تمام کوششوں کو مؤثر بنانے کے لیے پاکستان میں بارہ ماہ پر مشتمل ایک واضح عملی منصوبہ شروع کیا جا سکتا ہے۔ پہلے ماہ میں کسانوں سے مشاورت، زرعی مسائل کی نشاندہی اور بنیادی معلومات جمع کی جائیں۔ دوسرے اور تیسرے ماہ میں کسانوں کے سیکھنے کے گروپ اور نمائشی پلاٹ قائم کیے جائیں۔ چوتھے سے چھٹے ماہ تک موسمیاتی طور پر بہتر زراعت، پانی اور مٹی کے تحفظ، خواتین کی تربیت اور نوجوانوں کے زرعی کاروبار پر توجہ دی جائے۔ ساتویں سے نویں ماہ میں خوراک کے ضیاع میں کمی، پراسیسنگ، منڈیوں تک رسائی اور غذائیت سے متعلق آگاہی کو فروغ دیا جائے۔ آخری تین ماہ میں کسانوں کی شمولیت سے نتائج کا جائزہ لے کر کامیاب سرگرمیوں کو مزید دیہات تک وسعت دینے کی منصوبہ بندی کی جائے۔ اس پروگرام میں زرعی جامعات تحقیق اور تربیت کی ذمہ داری سنبھالیں، تحقیقی ادارے موزوں ٹیکنالوجیز تیار کریں، توسیعی محکمے کسانوں سے مسلسل رابطہ رکھیں، مقامی حکومتیں رابطہ کاری میں مدد دیں اور کسان تنظیمیں ترجیحات کے تعین اور نتائج کی جانچ میں حصہ لیں۔

عملی منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ کارکردگی کی جانچ بھی ضروری ہے۔ کامیابی کا معیار صرف منعقد ہونے والی ورکشاپس، سیمینارز یا تربیتی نشستوں کی تعداد نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہ دیکھا جائے کہ کتنے کسانوں نے بہتر زرعی طریقے اپنائے، پیداواری اخراجات میں کیا تبدیلی آئی، پانی کی بچت کتنی ہوئی، فصلوں کے بعد نقصانات میں کتنی کمی آئی، کسانوں کی آمدنی میں کیا بہتری آئی اور خواتین و نوجوانوں کی شرکت کس حد تک بڑھی۔ گھریلو سطح پر متنوع اور غذائیت سے بھرپور خوراک تک رسائی میں تبدیلیوں کا جائزہ بھی لیا جا سکتا ہے۔ ان نتائج کو ابتدائی سروے سے حاصل ہونے والی معلومات کے ساتھ موازنہ کرکے جانچا جائے۔ کسانوں سے باقاعدہ رائے لی جائے اور حاصل شدہ نتائج کو شفاف انداز میں عوام اور متعلقہ اداروں کے سامنے پیش کیا جائے۔ اس طرح زرعی وسائل کا بہتر استعمال، اداروں کی جواب دہی اور عوامی اعتماد کو فروغ مل سکتا ہے۔

حکومتِ پاکستان، صوبائی محکمہ ہائے زراعت، زرعی جامعات، تحقیقی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سول سوسائٹی کو چاہیے کہ وہ غذائی تحفظ کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کریں۔ زرعی تحقیق کے لیے مناسب وسائل، مؤثر توسیعی خدمات، کسان تنظیموں کی مضبوطی، دیہی انفراسٹرکچر، زرعی قرضوں اور بیمہ تک رسائی، بہتر ذخیرہ گاہوں، منڈیوں کی ترقی اور غذائیت سے بھرپور خوراک کی قابلِ استطاعت فراہمی کو ترجیح دی جائے۔ عوامی و نجی شراکت داری کے ذریعے ٹیکنالوجی کی منتقلی، پراسیسنگ اور منڈی کاری کو فروغ دیا جا سکتا ہے، تاہم چھوٹے کسانوں کے مفادات، ماحولیاتی تحفظ اور مساوی مواقع کو ہر منصوبے کا لازمی حصہ بنایا جانا چاہیے۔

آخرکار، عالمی یومِ خوراک کی اصل کامیابی تقریبات، تقاریر اور نعروں میں نہیں بلکہ ان عملی تبدیلیوں میں پوشیدہ ہے جو کسانوں، دیہی خاندانوں اور معاشرے کی زندگیوں میں بہتری لائیں۔ پاکستان کو ایسے زرعی نظام کی ضرورت ہے جہاں کسان کی آواز سنی جائے، تحقیق اس کے مسائل کا حل پیش کرے، جامعات اپنے علمی وسائل کو دیہی ترقی کے لیے استعمال کریں، توسیعی کارکن مسلسل رہنمائی فراہم کریں اور پالیسی ساز عوامی ضروریات کے مطابق فیصلے کریں۔ غذائی تحفظ صرف زیادہ خوراک پیدا کرنے کا نام نہیں؛ یہ ہر فرد کو مناسب قیمت پر معیاری غذا فراہم کرنے، کسانوں کو باعزت روزگار دینے، قدرتی وسائل کی حفاظت کرنے اور دیہی آبادی کو فیصلہ سازی میں شریک کرنے کا عزم ہے۔

اس عالمی یومِ خوراک پر پاکستان کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ وہ کسانوں کو محض پالیسیوں کا ہدف نہیں بلکہ زرعی ترقی کا حقیقی شراکت دار بنائے گا۔ جب تحقیق کسان کے کھیت تک پہنچے گی، جامعات دیہات سے جڑیں گی، زرعی توسیع شراکتی بنیادوں پر استوار ہوگی اور ادارے نتائج کے لیے جواب دہ ہوں گے، تب ہی پائیدار غذائی تحفظ کی بنیاد مضبوط ہو سکے گی۔

جواب دیں