
جب بندہ سب کچھ نہیں سمجھتا، مگر اپنے رب پر بھروسہ کرتا ہےانسان کی زندگی کا شاید سب سے مشکل مرحلہ وہ نہیں جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے، بلکہ وہ لمحہ ہے جب وہ تکلیف کی حکمت نہیں سمجھ پاتا۔ہم اکثر پوچھتے ہیں:یہ میرے ساتھ ہی کیوں ہوا؟یہ کام اتنا دیر سے کیوں ہوا؟جس چیز کی مجھے سب سے زیادہ ضرورت تھی، وہ مجھے کیوں نہیں ملی؟ان سوالات کے پیچھے ایک انسانی کمزوری ہے: ہم واقعہ دیکھتے ہیں، اللہ تعالیٰ پورا انجام جانتے ہیں۔اسی حقیقت کو اللہ تعالیٰ کے دو عظیم نام ہمارے سامنے رکھتے ہیں:
اَلْعَلِیْمُ — سب کچھ جاننے والا۔
اَلْحَکِیْمُ — کامل حکمت والا۔
قرآنِ کریم میں یہ دونوں نام بارہا ساتھ آئے ہیں۔ سورۃ البقرۃ میں فرشتے جب اپنی علمی حد کا اعتراف کرتے ہیں تو کہتے ہیں:
> ﴿سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ﴾
> (البقرۃ: 32)
> ﴿أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ﴾
> (الملک: 14)
> ﴿إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ﴾
> (یوسف: 83)
> ﴿وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾
> ﴿فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا﴾
حضرت فخر الدین رازی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ «اَلْعَلِیْمُ» علم کی انتہائی وسعت پر دلالت کرتا ہے؛ کامل اور محیط علم اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔
حکمت کا معنی:
حضرت ابن القیم رحمہ اللہ نے فرمایا:
«اَلْحِكْمَةُ: وَضْعُ الشَّيْءِ فِي مَوْضِعِهِ»
یعنی حکمت یہ ہے کہ کسی چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھا جائے۔حضرت امام غزالی رحمہ اللہ نے «المقصد الأسنى»میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ حقیقی معنوں میں حکیم اس لیے ہے کہ اس کا علم کامل ہے۔
نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ»
(صحیح بخاری و مسلم)
اور فرمایا:
«إِنَّ اللهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ»
*(صحیح مسلم: 1955)*
خلاصہ:
بعض اوقات زندگی ہمیں وہ نہیں دیتی جو ہم مانگتے ہیں، کیونکہ ہمارا علم صرف ضرورت تک پہنچتا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کا علم انجام تک پہنچا ہوا ہے۔اسی لیے مومن کا سب سے خوبصورت اطمینان شاید یہ ہے:
’’یَا اَللهُ! مُجْھے سب کچھ سمجھ نہیں آتا، مگر مجھے اتنا یقین ہے کہ تُو سب کچھ جانتا ہے۔ مجھے ہر فیصلے کی حکمت معلوم نہیں، مگر مجھے یقین ہے کہ تُو حَکِیْم ہے۔‘‘