PakistanPolitics

پاکستان پیپلز پارٹی ورکرز (پی پی پی ڈبلیو) کا خيبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی شدید مذمت؛ جمہوری و آئینی حقوق کی بحالی کا مطالبہ

​اسلام آباد(این ایل آئی)پاکستان پیپلز پارٹی ورکرز (پی پی پی ڈبلیو) کے صدر ڈاکٹر صفدر علی عباسی، سابق رکن قومی اسمبلی ناہید خان، سینئر نائب صدور فیاض علی خان، ایڈووکیٹ امجد بلوچ، فرح اسلم خان، جنرل سیکرٹری کنور زاہد، ہاشم خان بابر، ساجدہ میر، ملک مظہر، نوید صادق، رانا عثمان اور دیگر جماعتی عہدے داروں نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ نیز وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں قائم منتخب صوبائی حکومت کی معطلی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔​پی پی پی ڈبلیو کا ماننا ہے کہ منتخب صوبائی وزیراعلیٰ اور ان کی کابینہ کی برطرفی، انتظامی اختیارات کی گورنر کو منتقلی اور صوبائی قانون سازی کے اختیارات کی پارلیمان کو تفویض، جمہوریت، صوبائی خودمختاری اور خیبر پختونخوا کے عوام کے آئینی حقوق پر سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے۔​دہشت گردی کے خلاف جنگ کو ہرگز جمہوری اداروں کو کمزور کرنے یا عوام کے انتخابی مینڈیٹ کی پامالی کا بہانہ نہیں بننا چاہیے۔ دہشت گردی ایک سنگین قومی چیلنج ہے جو وفاقی و صوبائی حکومتوں، حساس اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مابین مؤثر تعاون کا تقاضا کرتا ہے سیاسی اختلافات کو منتخب حکومتوں کو معزول کرنے کے بجائے باہمی مکالمے اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔​پی پی پی ڈبلیو ان الزامات پر خصوصی تشویش کا اظہار کرتی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ صوبائی قيادت دہشت گردوں کی معاونت یا افغانستان میں معاندانہ مفادات کو سہولت فراہم کر رہی ہے۔ اس نوع کے سنگین الزامات کو قابلِ اعتماد اور قابلِ تصدیق شواہد سے ثابت کیا جانا چاہیے اور قانونی تقاضوں کے مطابق نمٹایا جانا چاہیے۔ مستند شواہد کے بغیر سیاسی اختلاف کو دہشت گردی میں سہولت کاری سے تعبیر کرنا یا اسے سیاسی مخالفین کی کردار کشی کے لیے استعمال کرنا کسی طور مناسب نہیں۔

​پی پی پی ڈبلیو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، پی ٹی آئی رہنماؤں اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاری یا گرفتاریوں کے خدشات نیز مجوزہ احتجاج کے تناظر میں حبسِ بے جا کی دھمکیوں سے متعلق اطلاعات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ کسی بھی گرفتاری کی قانونی بنیاد ہونی چاہیے اور ہر شہری کو قانون کے مطابق عمل درآمد (due process) اور پرامن سیاسی اظہار کا آئینی حق حاصل ہونا چاہیے۔ عوامی نظم و ضبط کے قیام کے لیے اجتماعیت پر مبنی سزا، خوف و ہراس اور بلا امتیاز گرفتاریوں کے حربوں سے گریز کیا جائے۔

​آئین کے آرٹیکل 232-1 اور 234 کا نفاذ غیر معمولی آئینی اثرات کا حامل ہوتا ہے۔ اس لیے پی پی پی ڈبلیو ان اقدامات کی قانونی وجوہات میں مکمل شفافیت، تمام آئینی تقاضوں کی سختی سے پاسداری، اور بروقت پارلیمانی توثیق و جائزے کا مطالبہ کرتی ہے۔ وفاقی حکومت کو حاصل کردہ اختیارات کی حدود و قیود، صوبائی اسمبلی کی قانونی حیثیت اور صوبائی امور چلانے کے نظام کی مکمل وضاحت کرنی چاہیے۔

​پاکستان کا جمہوری استحکام عوامی مینڈیٹ کے احترام، اختیارات کی آئینی تقسیم، اور تمام صوبوں کا اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے نظامِ حکومت چلانے کے حق سے مشروط ہے۔ غیر معمولی اقدامات کو سیاسی مفاہمت کا متبادل نہیں بننا چاہیے اور نہ ہی انہیں نمائندہ اداروں کو کمزور کرنے کے لیے بطورِ نظیر استعمال کیا جانا چاہیے۔

​پی پی پی ڈبلیو وفاقی حکومت پر زور دیتی ہے کہ وہ خیبر پختونخوا کی قیادت کے ساتھ مذاکرات کی راہ اپنائے، بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے اور قانونی طور پر جلد از جلد معمول کی جمہوری و آئینی حکمرانی کو بحال کرے۔

​جمہوریت، آئین کی بالادستی، صوبائی خودمختاری اور قانون کی حکمرانی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ناقابلِ تنسیخ اصول رہنے چاہئیں۔

جواب دیں