مذاق میں دی گئی طلاق مؤثر ہوگی یا نہیں؟ اہم عدالتی فیصلہ آگیا

لاہور(این ایل آئی) لاہور ہائیکورٹ نے شوہر کی جانب سے بیوی کو مذاق میں دی گئی طلاق کے مؤثر ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے اہم فیصلہ جاری کر دیا۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس انوار حسین نے طلاق سے متعلق کیس کا 13 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا جس میں شوہر کا مذاق میں طلاق دینے کا مؤقف مسترد کیا گیا۔راحیل احمد نامی شخص نے عدالت کو بتایا کہ بیوی کو مذاق میں طلاق دی، تاہم لاہور ہائیکورٹ نے اس کی یونین کونسل (یو سی) کے فیصلے کے خلاف درخواست خارج کر دی۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ شوہر طلاق کی اطلاع یو سی کو نہ دے تو بیوی خود یونین کونسل کو آگاہ کر سکتی ہے، خاتون کو ازدواجی حیثیت کے بارے میں غیر یقینی میں نہیں رکھا جا سکتاعدالت نے یونین کونسل کا طلاق مؤثر ہونے کا سرٹیفکیٹ برقرار رکھا اور حکومت کو طلاق کے قانون میں ترمیم کیلیے غور کی سفارش کر دی۔ عدالت نے فیصلے کی نقل پنجاب کی تمام فیملی کورٹس کو رہنمائی کیلیے بھجوانے کا حکم بھی دیا۔فیصلے میں کہا گیا کہ شوہر اپنی قانونی غلطی کا فائدہ اٹھا کر طلاق کا عمل نہیں روک سکتا، فیملی کورٹ طلاق ہونے کا تعین کرنے سے انکار نہیں کر سکتی، شوہر نے یونین کونسل کو طلاق کی اطلاع نہیں دی، بیوی کی درخواست پر کارروائی ہوئی۔اس میں مزید کہا گیا کہ راحیل احمد نے ای میل کے ذریعے اپنی بیوی کو طلاق بھیجی، خاتون نے سامان جہیز اور دیگر مطالبات کیلیے فیملی کورٹ سے رجوع کیا، فیملی کورٹ نے باقی ایشوز پر فیصلہ دیتے ہوئے طلاق کے مؤثر ہونے پر یو سی سے رجوع کرنے کی ہدایت کی۔’یونین کونسل نے خاوند راحیل احمد کے پیش نہ ہونے پر طلاق مؤثر قرار دے دی۔ خاوند کے تاخیری حربوں کے سبب خاتون کو غیر یقینی صورتحال میں نہیں رکھا جا سکتا۔‘