column and article

دنیا بدل رہی ہے کیا ہم بھی بدلیں گے؟

میری بات/ روہیل اکبر

آج پاکستان سمیت پوری دنیا ایسے ہی دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف جنگوں کے بادل، معاشی دباؤ، سیاسی کشیدگی اور سفارتی محاذ آرائیاں ہیں تو دوسری طرف عام انسان کی زندگی پہلے سے زیادہ مشکل ہوتی جا رہی ہے سوال یہ نہیں کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے اصل سوال یہ ہے کہ ان بدلتے حالات میں ہم اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے کیا کر رہے ہیں؟پاکستان میں عوام کی سب سے بڑی پریشانی اب بھی مہنگائی، روزگار، بجلی، گیس اور بنیادی ضروریات زندگی کی قیمتیں ہیں۔ حکومت کی جانب سے معاشی بہتری اور اصلاحات کے دعوے اپنی جگہ لیکن عام آدمی کی زندگی میں بہتری کا اصل پیمانہ اس کی قوت خرید ہے۔ جب ایک مزدور دن بھر محنت کرنے کے باوجود اپنے بچوں کی ضروریات پوری نہ کر سکے تو معاشی ترقی کے بڑے بڑے اعدادوشمار اس کے لیے محض کاغذی حقیقت بن کر رہ جاتے ہیں جبکہ عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ معاشی اصلاحات کا معاملہ بھی پاکستان کی پالیسیوں کا اہم حصہ ہے توانائی کے شعبے میں نقصانات کم کرنے، وصولیوں میں بہتری اور گیس کے گردشی قرضے جیسے مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت مسلسل اجاگر کی جا رہی ہے تاہم اصلاحات کا مقصد صرف مالیاتی اہداف پورے کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان کا فائدہ عام شہری تک پہنچنا بھی ضروری ہے اگر معیشت کے اعدادوشمار بہتر ہوں لیکن غریب کی زندگی مزید دشوار ہو جائے تو ترقی کے تصور پر سوال اٹھنا فطری ہے۔پاکستان کو اس وقت ایک اور اہم چیلنج اپنی مغربی سرحد پر درپیش ہے۔ افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف پاکستانی کارروائیوں کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے پاکستان کا مؤقف ہے کہ کارروائیوں میں دہشت گردوں کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا یہ صورتحال اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ دہشت گردی کا مسئلہ کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتا۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف طویل قربانیاں دی ہیں اور اپنے شہریوں کے تحفظ کا حق رکھتا ہے لیکن سرحدی تنازعات میں انسانی جانوں کا تحفظ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ سکیورٹی اقدامات کے ساتھ سفارتی رابطے بھی جاری رہیں۔ ہمسایہ ممالک کے درمیان مستقل کشیدگی کا نقصان بالآخر دونوں طرف کے عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔بھارت اور پاکستان کے درمیان بھی ایک نیا تنازع سامنے آیا ہے بھارتی زیر انتظام کشمیر میں ایک مبینہ عسکریت پسند کی ہلاکت کے بھارتی دعوے کے بعد پاکستان کی فوج نے ایک سابق پاکستانی فوجی محمد آصف کو پیش کیا جس نے اپنی ہلاکت کی خبر کی تردید کی۔ بھارتی حکام کی جانب سے اس معاملے پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا ایسے حساس معاملات میں ضروری ہے کہ دعووں کی جانچ مستند شواہد سے کی جائے کیونکہ غلط معلومات اور غیر ذمہ دارانہ بیانات پہلے سے کشیدہ ماحول کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔عالمی منظرنامے پر نظر ڈالیں تو مشرق وسطیٰ ایک بار پھر شدید بے یقینی کا شکار ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکراتی کوششوں کے باوجود کشیدگی برقرار ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی تازہ پیشکش کو ناکافی قرار دیا ہے اور مستقبل میں فوجی کارروائیوں کے امکان کا ذکر بھی کیا ہے آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاع نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں تشویش بڑھا دی ہے یہ محض دو ممالک کا تنازع نہیں بلکہ پوری دنیا کی معیشت سے جڑا ہوا معاملہ ہے تیل کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک کے لیے مزید معاشی مشکلات پیدا کر سکتا ہے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہنے کا دباؤ پہلے ہی توانائی کی فراہمی اور قیمتوں کے حوالے سے خدشات کو بڑھا رہا ہے دوسری طرف روس اور یوکرین کی جنگ بھی انسانی المیے کی صورت اختیار کیے ہوئے ہے یوکرینی صدر نے روسی حملوں میں شہری تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے الزامات عائد کیے ہیں جبکہ روس شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کی تردید کررہا ہے جنگوں کے ان تمام محاذوں پر ایک حقیقت مشترک ہے سیاسی فیصلوں کی قیمت عام شہری اپنی جان، گھر، روزگار اور مستقبل کی صورت میں ادا کرتے ہیں ان عالمی حالات کے درمیان پاکستان کے لیے سب سے اہم سوال اپنی داخلی مضبوطی کا ہے ہم کب تک اپنے مسائل کا حل صرف بیرونی امداد، قرضوں اور عالمی حالات کی بہتری میں تلاش کرتے رہیں گے؟ ہمیں اپنی زراعت، صنعت، تعلیم، صحت اور انسانی وسائل پر سنجیدگی سے توجہ دینا ہوگی۔ نوجوانوں کو روزگار، کسانوں کو منصفانہ معاوضہ اور کاروباری طبقے کو مستحکم پالیسیوں کی فراہمی کے بغیر معاشی خودمختاری کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا یہ وقت ایک دوسرے کو الزام دینے کا نہیں بلکہ قومی ترجیحات کا ازسرنو تعین کرنے کا ہے۔ حکومت، اپوزیشن، اداروں اور عوام سب کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مضبوط پاکستان صرف بلند عمارتوں، بڑے منصوبوں اور اعدادوشمار سے نہیں بنتا بلکہ انصاف، تعلیم، معاشی مواقع اور شہریوں کے اعتماد سے تشکیل پاتا ہے۔دنیا بدل رہی ہے، حالات بدل رہے ہیں، طاقت کے مراکز تبدیل ہو رہے ہیں ہمارے لیے اصل کامیابی تب ہوگی جب ان تبدیلیوں کے درمیان پاکستان کا عام شہری خود کو محفوظ، باعزت اور خوشحال محسوس کرے گا کیونکہ کسی بھی ملک کی ترقی کا سب سے معتبر پیمانہ اس کے عوام کے چہروں پر اطمینان اور ان کے گھروں میں خوشحالی ہے۔(تحریر۔روہیل اکبر 03004821200)

جواب دیں