column and article

پہلا پیار

میری بات / روہیل اکبر

کہتے ہیں انسان اپنا پہلا پیار کبھی نہیں بھول سکتا مگر دنیا میں انسان کا سب سے پہلا، سب سے سچا اور سب سے پاکیزہ پیار اگر کوئی ہے تو وہ اس کے والدین ہیں وہ والدین جنہوں نے ہماری زندگی کے پہلے لفظ سے لے کر ہماری کامیابی کی آخری سیڑھی تک ہر قدم پر ہمارا ہاتھ تھاما جنہوں نے ہماری خوشی میں اپنی خوشی تلاش کی ہماری تکلیف میں خود کو بے چین کیا اور ہماری کامیابی پر ایسے مسکرائے جیسے دنیا کی تمام دولت انہیں مل گئی ہو مگر ایک سوال آج بھی دل کو چیر دیتا ہے کہ اگر انسان اپنا پہلا پیار نہیں بھولتا تو پھر اپنے والدین کو کیسے بھول جاتا ہے؟یہ سوال صرف ایک سوال نہیں ہمارے معاشرے کے چہرے پر لگا ہوا وہ آئینہ ہے جس میں ہم سب کو کبھی نہ کبھی اپنا چہرہ ضرور دیکھنا چاہیے ماں وہ ہستی ہے جس نے ہمیں دنیا میں آنے سے پہلے ہی محبت دینا شروع کردی اس نے اپنے وجود میں ہمیں جگہ دی، تکلیف برداشت کی، راتوں کی نیند قربان کی، ہماری بیماری میں جاگتی رہی اور ہماری معمولی سی تکلیف پر بھی پریشان ہوگئی باپ وہ شخص ہے جس نے اپنی خواہشیں چھوٹی اور ہماری ضرورتیں بڑی کر دیں اس نے دھوپ میں محنت کی تاکہ ہم سایہ میں رہ سکیں خود پرانے کپڑے پہن لیے مگر ہماری خواہش پوری کرنے کی کوشش کی خود کم کھایا مگر ہمارے پیٹ بھرنے کی فکر کی ہم بڑے ہوتے گئے اور والدین بوڑھے ہوتے گئے۔ہماری ترجیحات بدلتی گئیں اور ضرورتیں بڑھتی گئیں ہم نے تعلیم حاصل کی، نوکریاں کیں، کاروبار شروع کیے، گھر بنائے، گاڑیاں خریدیں، دنیا گھومی، دوست بنائے، نئے رشتے قائم کیے مگر کہیں نہ کہیں ان دو ہستیوں کو پیچھے چھوڑتے گئے جنہوں نے ہمیں آگے بڑھنے کے قابل بنایا۔کتنی عجیب بات ہے کہ بچپن میں ہمیں ماں کی آواز کے بغیر نیند نہیں آتی تھی اور آج کئی کئی دن اس کی آواز سنے بغیر گزر جاتے ہیں بچپن میں باپ گھر نہ پہنچے تو ہم دروازے کی طرف دیکھتے رہتے تھے اور آج وہ باپ ہمارے فون کی گھنٹی کا انتظار کرتا رہتا ہے بچپن میں ہمیں والدین کے چند لمحوں کی توجہ چاہیے ہوتی تھی آج والدین کو ہماری صرف چند منٹ کی توجہ چاہیے ہوتی ہے فرق صرف اتنا ہے کہ تب ہم محتاج تھے اور آج وہ محتاج ہیں لیکن افسوس! جس وقت والدین کو ہماری سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے اسی وقت ہم ان کے لیے سب سے کم وقت نکالتے ہیں کبھی ہم مصروفیات کا بہانہ بناتے ہیں، کبھی بچوں کی ذمہ داریوں کا، کبھی کاروبار کا، کبھی ملازمت کا اور کبھی یہ سوچ کر مطمئن ہو جاتے ہیں کہ والدین تو گھر میں موجود ہیں جب وقت ملا تب مل لیں گے لیکن وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا چاہے کوئی خاص ہو یا عام اور والدین کی زندگی کی شام کب رات میں ڈھل جائے کسی کو معلوم نہیں ہوتا۔آج ہمارے پاس موبائل فون ہیں، ہزاروں رابطے ہیں، سوشل میڈیا پر سینکڑوں دوست ہیں لیکن بعض گھروں میں والدین کے پاس بات کرنے والا ایک انسان بھی نہیں وہ اولاد جس کے لیے انہوں نے اپنی جوانی قربان کی وہی اولاد چند قدم کے فاصلے پر رہ کر بھی ان سے دور ہوتی جا رہی ہے شائد اسی لیے کچھ والدین اولاد کے ہوتے ہوئے بھی تنہا ہیں یہ تنہائی صرف ایک کمرے کی تنہائی نہیں بلکہ احساس کی تنہائی ہے گھر میں لوگ موجود ہوں لیکن کوئی پوچھنے والا نہ ہو کہ "آپ نے کھانا کھایا؟”، "طبیعت کیسی ہے؟”، "کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟” تو اس سے بڑی محرومی شاید کوئی نہیں ہم والدین کو مہنگے تحفے دے کر سمجھتے ہیں کہ فرض ادا ہوگیا ان کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل کرکے مطمئن ہوجاتے ہیں کہ ہم نے اپنی ذمہ داری پوری کردی یقیناً مالی مدد ضروری ہے مگر والدین کو صرف پیسہ نہیں چاہیے ہوتا انہیں اولاد کی قربت چاہیے، چند لمحے چاہیے، بات کرنے والا کوئی اپنا چاہیے اور اپنے پن کا احساس چاہیے ماں کو شاید دنیا کا سب سے انمول تحفہ بھی اس وقت معمولی لگتا ہو جب اس کا بیٹا یا بیٹی اس کے پاس بیٹھ کر چند منٹ بات نہ کرے اور باپ شاید اپنی ضرورت کبھی زبان پر نہ لائے مگر اس کی آنکھیں اولاد کی راہ ضرور دیکھتی ہیں ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ والدین ہمیشہ ہمارے ساتھ نہیں رہیں گے۔ایک دن وہ کرسی خالی ہوگی جس پر بیٹھ کر ابو اخبار پڑھا کرتے تھے ایک دن وہ آواز نہیں آئے گی جو صبح ہمیں جگایا کرتی تھی ایک دن وہ ہاتھ نہیں ہوگا جو ہمارے سر پر دعا کے لیے اٹھتا تھا اور پھر ایک دن گھر وہی ہوگا، دیواریں وہی ہوں گی، کمرے وہی ہوں گے لیکن گھر کی رونق کہیں چلی جائے گی اور پھر انسان کے پاس صرف یادیں رہ جائیں گی تب شاید ہم سوچیں گے کہ کاش ایک دن مزید ان کے پاس بیٹھ لیتے، کاش ان کی بات سن لیتے، کاش ان کے ساتھ چائے پی لیتے، کاش ان کے کسی گلے کا جواب غصے سے نہ دیتے، کاش مصروفیت کے نام پر ان کی کال نہ کاٹتے لیکن "کاش” دنیا کا سب سے بے بس لفظ ہے کیونکہ یہ گزرے ہوئے وقت کو واپس نہیں لا سکتا ہمیں اپنے بچوں کو بھی یہ سبق دینا ہوگا کہ والدین صرف ہماری ذمہ داری نہیں بلکہ ہماری زندگی کی وہ نعمت ہیں جن کا کوئی نعم البدل نہیں اگر ہم آج اپنے والدین کو نظرانداز کریں گے تو کل ہمارے بچے بھی ہمارے رویوں سے یہی سبق سیکھ سکتے ہیں زندگی ایک دائرہ ہے جو رویہ ہم اپنے والدین کے ساتھ اختیار کرتے ہیں ضروری نہیں کہ بالکل اسی شکل میں مگر اس کا اثر اگلی نسلوں تک ضرور پہنچتا ہے اس لیے ابھی وقت ہے اگر ماں زندہ ہے تو اس سے بات کریں اگر باپ زندہ ہے تو اس کے پاس بیٹھیں اگر دونوں زندہ ہیں تو خود کو خوش قسمت سمجھیں ان کے ہاتھ چومیں، ان کی دعائیں لیں، ان کی بات سنیں ان کے ساتھ اختلاف ہوسکتا ہے مگر ان سے بے تعلقی نہیں ہونی چاہیے ان کی عمر بڑھ رہی ہے ہماری نہیں۔یاد رکھیے دنیا میں بہت سے رشتے ہمیں بعد میں ملتے ہیں بہت سے لوگ زندگی میں آتے اور چلے جاتے ہیں مگر والدین وہ رشتے ہیں جنہیں قدرت ہمارے وجود سے پہلے ہمارے نصیب میں لکھ دیتی ہے اور شاید اسی لیے انسان کو اپنا پہلا پیار کبھی نہیں بھولنا چاہیے کیونکہ وہ پہلا پیار کوئی داستان نہیں ماں کی دعا اور باپ کا سایہ ہے اور جس شخص نے اپنے والدین کو ان کی زندگی میں وقت، عزت اور محبت دے دی اسے بڑھاپے میں پچھتاوے کے آنسو نہیں بہانے پڑتے والدین کی قدر ان کے جانے کے بعد نہیں ان کے ہوتے ہوئے کیجیے انکی زندگی پھولوں کی بہاریں بن جائیں بعد میں قبر پر رکھے پھول خوشبو تو دے سکتے ہیں مگر والدین کی آواز واپس نہیں لا سکتے۔(تحریر۔روہیل اکبر 03004821200 )

جواب دیں