column and article

پاکستان میں سیاسی ہیجان، معاشی چیلنجز اور خارجہ پالیسی کا کڑا امتحان

پاکستان اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں داخلی سیاست کا ابال، معاشی اصلاحات کا دباؤ اور مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال ملکی سلامتی اور استحکام کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر رہی ہے موجودہ سیاسی صورتحال ملکی منظرنامے کی ایک ایسی تصویر پیش کرتی ہیں جس میں ایک طرف سخت معاشی فیصلے عوام کے صبر کا امتحان لے رہے ہیں تو دوسری طرف سیاسی جماعتوں کے احتجاج اور دھرنوں کی کالز نے دارالحکومت کے درجہ حرارت کو بڑھا دیا ہے۔
اس تمام تر صورتحال میں پاکستان کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا وہ اپنی معاشی بقا کو برقرار رکھتے ہوئے داخلی اور خارجی بحرانوں سے نمٹنے میں کامیاب ہو سکے گا؟حالیہ دنوں میں ملکی سیاست کا رخ ایک بار پھر احتجاج اور دھرنوں کی طرف مائل نظر آتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (PTI) کی جانب سے وفاقی دارالحکومت میں بڑے پیمانے پر احتجاج کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے ان مظاہروں کے حوالے سے سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور اسے امن و امان کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔ مشیرِ وزیراعظم رانا ثناء اللہ سمیت حکومتی حلقوں کی جانب سے دعوے کیے جا رہے ہیں کہ ان مظاہروں میں سیاسی کارکنوں کے علاوہ بعض شرپسند عناصر بھی شامل ہو سکتے ہیں جبکہ دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں کا مؤقف ہے کہ پرامن احتجاج ان کا آئینی حق ہے اور حکومت طاقت کے بل بوتے پر عوامی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
سیاسی ہیجان کی اس فضا میں جماعتِ اسلامی بھی پیٹرولیم لیوی اور آزاد پاور پروڈیوسرز (IPPs) کے معاہدوں کے خلاف میدان میں اتر آئی ہے اور ملک گیر لانگ مارچ اور دھرنوں کی دھمکیوں نے حکومت پر عوامی دباؤ میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی بحالی کا خواب دیکھنا ناممکن ہے جبکہ موجودہ حالات ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے تمام راستے مسدود ہو چکے ہیں جو کہ جمہوریت اور ملکی بقا کے لیے ایک فکر انگیز اشارہ ہے معاشی محاذ پر پاکستان کے لیے رواں ماہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کا ایک اعلیٰ سطحی وفد پاکستان کا دورہ کرنے والا ہے تاکہ 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پروگرام (EFF) کا جائزہ لیا جا سکے اگرچہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں حالیہ اضافے کی بدولت کچھ ریلیف ملا ہے اور ذخائر بڑھ کر $18.33 ارب تک پہنچ چکے ہیں لیکن آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد اب بھی حکومت کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بنا ہوا ہے۔عوام کے لیے سب سے بڑی تشویش پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہے۔ حال ہی میں پیٹرول کی قیمت میں مزید ساڑھے تین روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں پانچ روپے سے زائد کا اضافہ کیا گیا ہے جس نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ حکومت کو ایک طرف آئی ایم ایف کے ٹیکس اہداف کو پورا کرنا ہے تو دوسری طرف مہنگائی کی چکی میں پسی ہوئی عوام کا غصہ بھی جھیلنا ہے اس کے علاوہ حکومت نے نئی "آٹو پالیسی 2026” کی منظوری دی ہے جس کا مقصد الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دینا اور معاشی اصلاحات کو آگے بڑھانا ہے لیکن ان طویل مدتی پالیسیوں کے ثمرات عام آدمی تک پہنچنے میں ابھی وقت لگے گا۔ معاشی گورننس میں شفافیت کا نقصان اور ریاستی اداروں میں اصلاحات کی سست روی آئی ایم ایف کے جائزے میں پاکستان کے لیے مشکلات کھڑی کر سکتی ہے۔پاکستان کے داخلی سیکیورٹی چیلنجز میں سب سے سنگین صورتحال صوبہ بلوچستان کی ہے۔ سال 2026 کے دوران بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور یہ صوبہ سیکیورٹی کے لحاظ سے ملک کا سب سے متاثرہ علاقہ بن چکا ہے کالعدم تنظیموں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں اور سیکیورٹی فورسز پر حملے نہ صرف ملکی امن کو برباد کر رہے ہیں بلکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) جیسے اہم معاشی منصوبوں کے لیے بھی خطرہ بنے ہوئے ہیں بلوچستان کے مسائل کا حل صرف فوجی کارروائیوں میں نہیں بلکہ وہاں کے عوام کو سیاسی اور معاشی طور پر بااختیار بنانے اور ان کے جائز مطالبات کو تسلیم کرنے میں پنہاں ہے جب تک صوبے میں گورننس اور سیکیورٹی کی صورتحال کو بہتر نہیں کیا جاتا ملکی استحکام کا خواب ادھورا رہے گا۔عالمی اور علاقائی سطح پر بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی اس وقت انتہائی کٹھن دور سے گزر رہی ہے مشرقِ وسطیٰ میں یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کی تنصیبات پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی انتہا کو پہنچ چکی ہے پاکستان نے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی غیر مشروط حمایت کا اعادہ کیا ہے اور ان حملوں کی شدید مذمت کی ہے تاہم پاکستان نے مکہ دفاعی معاہدے میں مزید ممالک کی شمولیت کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ خطے میں کسی نئی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہتا اس کے ساتھ ہی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگی خطرات اور سفارتی تناؤ نے پاکستان کے لیے سیکیورٹی اور معاشی خدشات بڑھا دیے ہیں وزیراعظم شہباز شریف اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک جا رہے ہیں جہاں وہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگی صورتحال کو روکنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے  پاکستان کے لیے اپنے برادر اسلامی ممالک (سعودی عرب اور ایران) اور عالمی طاقتوں (امریکہ اور چین) کے درمیان توازن برقرار رکھنا ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے آج کے پاکستان کو درپیش بحران کثیر الجہتی ہیں معاشی ناہمواری، سیاسی عدم برداشت، داخلی بدامنی اور بیرونی جیو پولیٹیکل دباؤ نے مل کر ملک کو ایک پیچیدہ صورتحال سے دوچار کر دیا ہے ان تمام مسائل کا واحد حل قومی یکجہتی اور سیاسی استحکام میں ہے حکومت کو چاہیے کہ وہ اپوزیشن کے ساتھ محاذ آرائی کی پالیسی ترک کر کے مذاکرات کا راستہ اختیار کرے جبکہ معاشی محاذ پر صرف آئی ایم ایف کی شرائط کے سہارے رہنے کے بجائے ایسے ٹھوس اور دور رس اقدامات کیے جائیں جن سے عام آدمی کو براہِ راست ریلیف مل سکے پاکستان کے پاس اب مزید غلطیوں کی گنجائش نہیں ہے موجودہ قیادت کو انتہائی دانشمندی اور تدبر کے ساتھ ملکی کشتی کو اس طوفان سے نکالنا ہوگا۔(تحریر۔روہیل اکبر 03004821200 )

جواب دیں