World

اسرائیلی بانڈز کے لیے یورپی دروازہ بند، لکسمبرگ نے منظوری کی تجدید روک دی

لکسمبرگ (رپورٹ): لکسمبرگ نے اسرائیلی بانڈز کے اجرا کی اجازت کی تجدید نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد اسرائیل کے لیے یورپی مالیاتی منڈیوں سے سرمایہ حاصل کرنے کے مستقبل پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔

لکسمبرگ کے وزیر خزانہ گیلس روتھ کے مطابق ملک کے مالیاتی نگران ادارے کمیشن ڈی سرویلنس ڈو سیکٹر فنانسیئر (CSSF) نے مئی میں فیصلہ کیا تھا کہ اسرائیلی بانڈز کے پراسپیکٹس کی منظوری 31 اگست کو مدت ختم ہونے کے بعد مزید ایک سال کے لیے تجدید نہیں کی جائے گی۔

اسرائیلی بانڈز، جنہیں ڈیولپمنٹ کارپوریشن فار اسرائیل (DCI) کے ذریعے جاری کیا جاتا ہے، دراصل اسرائیلی حکومت کے لیے قرض کا ذریعہ ہیں۔ سرمایہ کار ان بانڈز میں سرمایہ کاری کے بدلے سود حاصل کرتے ہیں، جبکہ حاصل ہونے والی رقم اسرائیلی حکومت کے مجموعی مالیاتی وسائل کا حصہ بنتی ہے اور اسے مختلف سرکاری اخراجات، بشمول دفاعی اخراجات، کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

7 اکتوبر 2023 کے بعد اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ کے آغاز کے دوران اسرائیلی بانڈز کی بیرون ملک تشہیر میں بھی اضافہ ہوا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اکتوبر 2023 سے جنوری 2025 کے دوران اسرائیل نے عالمی منڈیوں میں ان بانڈز کے ذریعے تقریباً 4.5 ارب ڈالر حاصل کیے۔

اسرائیلی وزارت خزانہ کے مطابق یورپی یونین میں اسرائیلی بانڈز سے سالانہ تقریباً 2.5 ارب ڈالر حاصل ہوتے ہیں۔

لکسمبرگ کی جانب سے منظوری ختم کیے جانے کے بعد اسرائیل کو یورپی یونین کے کسی دوسرے رکن ملک کو اپنے بانڈز کے پراسپیکٹس کی منظوری دینے پر آمادہ کرنا ہوگا۔ تاہم فی الحال یہ واضح نہیں کہ کون سا ملک یہ ذمہ داری قبول کرے گا۔

اسرائیلی بانڈز کی منظوری کا معاملہ اس وقت اہمیت اختیار کر گیا ہے جب غزہ، لبنان اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے یورپی ممالک پر سیاسی اور سول سوسائٹی کی جانب سے دباؤ بڑھ رہا ہے۔

گزشتہ سال آئرلینڈ نے بھی اسرائیلی بانڈز کے پراسپیکٹس کی منظوری کی تجدید سے انکار کردیا تھا، جس کے بعد لکسمبرگ نے یہ ذمہ داری سنبھالی تھی۔

دوسری جانب لکسمبرگ کے مالیاتی نگران ادارے کا مؤقف ہے کہ مسلسل برسوں تک پراسپیکٹس کی منظوری دوسرے ملک کو منتقل کرنا یورپی قوانین کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہوگا۔ تاہم یورپی سیکیورٹیز اینڈ مارکیٹس اتھارٹی (ESMA) نے کہا ہے کہ متعلقہ قوانین کے تحت ایک قومی مالیاتی نگران ادارہ مسلسل دو سال منظوری کی منتقلی قبول کرسکتا ہے۔

اسرائیل کے لیے یورپی مارکیٹ میں ایک راستہ بند ہونے کے باوجود عالمی سطح پر بانڈز جاری کرنے کے دیگر مواقع موجود ہیں، خصوصاً امریکا میں، جہاں اسرائیلی بانڈز کئی دہائیوں سے فروخت کیے جارہے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جولائی میں لکسمبرگ، آئرلینڈ اور دیگر یورپی ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اسرائیلی بانڈز کی فروخت روکیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ان بانڈز کے ذریعے حاصل ہونے والی رقوم اسرائیلی حکومت کے مالی وسائل میں شامل ہوتی ہیں اور اس لیے یورپی ممالک کو ان کی فروخت کے قانونی اور اخلاقی اثرات پر غور کرنا چاہیے۔

جواب دیں