وینس بینالے میں سعودی فنکارہ شلمار شربتلی کی 15 نئی پینٹنگز اور مجسمہ نمائش کے لیے پیش
وینس: سعودی بصری فنکارہ شلمار شربتلی نے وینس بینالے میں اپنی 15 نئی پینٹنگز اور ایک مجسمہ نمائش کے لیے پیش کردیا۔ ’’ہارمنی شلمار‘‘ کے عنوان سے نمائش میں عصری فن، مصنوعی ذہانت اور حرکت کے باہمی تعلق کو اجاگر کیا گیا ہے۔
یہ نمائش 61ویں وینس انٹرنیشنل آرٹ بینالے کے ساتھ جاری عصری فن کی نمائش کا حصہ ہے، جو 18 ستمبر تک جاری رہے گی۔ نمائش میں دیگر فنکاروں ڈیوِی مان اور روزا مونڈی کے فن پارے بھی شامل ہیں۔
شلمار شربتلی نے پہلی بار اپنے ’’شلاشَم‘‘ منصوبے کے تحت ایک نیا مجسمہ بھی پیش کیا ہے، جسے وہ اپنی ’’موونگ آرٹ‘‘ پریکٹس کے ساتھ آگے بڑھا رہی ہیں۔ ان کے مطابق مجسمہ سازی کی جانب پیش رفت تحقیق اور تجربات پر مبنی ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے۔
شلمار نے کہا کہ وینس بینالے میں سعودی فنکارہ کی شرکت عالمی فنون کے مرکز میں عرب اور بالخصوص سعودی بصری فن کی موجودگی کا اہم اعتراف ہے۔ ان کے مطابق نمائش کو ملنے والی توجہ اور پذیرائی سعودی عرب کے بڑھتے ہوئے عالمی فنکارانہ کردار کی عکاسی کرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فنکار کو کسی ایک طرز تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اظہار کے لیے نئے ذرائع اور امکانات تلاش کرتے رہنا چاہیے۔ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے وہ روایتی فن کو نئے ڈیجیٹل تجربات سے جوڑ رہی ہیں۔
شلمار کے مطابق وینس میں شرکت کے بعد انہیں آئندہ بین الاقوامی نمائشوں اور فنون سے متعلق تقریبات میں شرکت کی دعوتیں بھی ملی ہیں۔ اٹلی میں ایک ورثہ عجائب گھر کے لیے روایتی اطالوی گونڈولا کی عکاسی پر مبنی فن پارہ تیار کرنے کی دعوت بھی دی گئی ہے، جبکہ بعض اطالوی لیدر کمپنیوں نے ان کی مصنوعات پر فن پارے تخلیق کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
نمائش کے افتتاح کے موقع پر وینس کے پلازو ڈونا ڈال اورو میں تقریب منعقد ہوئی، جس میں فنون، میڈیا اور کاروباری شعبوں سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔ شلمار شربتلی کی شرکت سعودی فنکاروں کی عالمی ثقافتی اور عصری فنون کے بڑے پلیٹ فارمز پر بڑھتی ہوئی موجودگی کی بھی عکاس ہے۔