چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے 11 سالہ بیٹی کی بازیابی کیلئے ماں کی درخواست پر وہاڑی پولیس سے رپورٹ طلب کرلی،حفیظاں بی بی نے موقف اپنایا کہ بچی کا والد عرفان سعودی حکومت کا ملازم تھا جو فوت ہوگیا ،سسر 11 سالہ بچی مہوش کو چھین کر لے گیا ،دادا مرحوم شوہر کی سعودی حکومت سے ملنے والی پینشن ہتھیاناچاہتا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس محمد راحیل کامران شیخ نے استعفیٰ دے دیا ،صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے نام اپنے استعفے میں انھوں مؤقف اپنایا کہ وہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 206 کے تحت فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو رہا ہوں، لاہور ہائیکورٹ میں خدمات انجام دینا میرے لئے اعزاز اور باعثِ فخر رہا، جہاں میں نے اپنے حلف اور ضمیر کے مطابق نظامِ انصاف کی بہتری کے لیے کردار ادا کیا،انہوں نے اپنے استعفے میں کہا کہ عدالتی منصب پر گزارے گئے سال پیشہ ورانہ زندگی کے سب سے زیادہ نتیجہ خیز اور اطمینان بخش سال رہے، تاہم گہری اور مسلسل غوروفکر کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ بطور قانون دان مزید پیشہ ورانہ ترقی اور قانون کی حکمرانی و انصاف تک رسائی کے لیے صلاحیتوں کا بہتر استعمال قانونی تحقیق، پالیسی سازی اور تقابلی عدالتی نظام کے وسیع میدان میں ہو سکتا ہے،
جسٹس راحیل کامران شیخ نے اپنے سینئر ساتھی ججوں کی رہنمائی اور دانش مندی کو سراہتے ہوئے عدالتی عملے کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ آئین اور قانون کی حکمرانی سے اپنی دائمی وابستگی کے ساتھ منصب چھوڑ رہے ہیں، جسٹس راحیل
وہ 7مئی 2021 میں لاہور ہائیکورٹ کے جج مقرر ہوئے تھے،
لاہور ہائیکورٹ کے مستعفی جسٹس راحیل کامران شیخ نے سگریٹ، پان اور تمباکو کی تشہیر سے متعلق آخری فیصلہ جاری کر دیا،عدالت نے تمباکو اور پان کی تشہیر کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت کا تشہیر پر پابندی سے متعلق نوٹیفکیشن درست قرار دے کر درخواست خارج کر دی،آل پاکستان مرکزی یونین پان سگریٹ کی درخواست پرعدالت نے ریمارکس دیئے کہ حکومت کے مطابق تمباکو، سگریٹ اور پان کی تشہیر سے منفی نتائج سامنے آئیں گے، عوامی صحت کا تحفظ اور صحت مند ماحول کا قیام آئینی تقاضہ ہے،فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تمباکو مصنوعات کی تشہیر کا کوئی مستقل آئینی حق موجود نہیں، اشتہارات پر پابندی سے غیر قانونی تجارت کا خدشہ موجود نہیں،عدالت نے مشترکہ مفادات کونسل سے رجوع نہ کرنے کا آئینی اعتراض مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی نوٹیفکیشن میں غیر قانونی چیز نہیں پائی گئی، ہر شہری کو کاروبار اور تجارت کرنے کا آئینی حق حاصل ہے، حکومت نے نان اسموکر ہیلتھ آرڈیننس 2002ء کے مطابق نوٹیفکیشن جاری کیا، قومی وزارتِ صحت نے 2010ء میں تمباکو اور سگریٹ کی تشہیر پر پابندی عائد کی، درخواست گزار کے مطابق حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے، درخواست گزار کے مطابق نان اسموکر ہیلتھ آرڈیننس 2002ء میں تمباکو کے معاملے پر کمیٹی فیصلہ کرے
گی۔
لاہور ہائیکورٹ میں 26 نئی عدالتوں پر مشتمل بلاک تیار،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم 5 ستمبر کو افتتاح کریں گی،لاہور ہائیکورٹ کے سکیورٹی ایس پی محمود الحسن، انٹیلیجنس افسر محمد انیس سمیت سپیشل برانچ و پولیس حکام سکیورٹی کا جائزہ لیا،9 فلور اور دو بیسمنٹ پر مشتمل نئی بلڈنگ لاہورہائیکورٹ کے اندر بنائی گئی ہے،لاہور ہائیکورٹ کی انتظامی کمیٹی کا میٹنگ آفس بھی تیار کیا گیا ہے،اس بلڈنگ کے پہلے چار فلور میں دس نئی لگژری عدالتیں قائم کی گئی ہیں،بلڈنگ میں باقی فلور پر لاہورہائیکورٹ کے انتظامی افسز اور ایڈیشنل رجسٹراروں کے افس قائم کئے گئے ہیں۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے بیٹے کی بازیابی کیلئے ماں کی درخواست پر کیس ملتان سے لاہور ٹرانسفر کرنے کرنیکی استدعا منظور کرلی،صفیہ بی بی نے موقف اپنایا کہ چوہنگ پولیس بیٹے عابد رضا کو اٹھا کر لے گئی، لاہور پولیس نے بیٹے عابد رضا کو ملتان پولیس کے حوالے کردیا ،بیٹے کی بازیابی کا کیس ملتان میں زیر التوا ہے، درخواست گزار ملتان میں بیٹے کے کیس کی پیروی کرنے سے قاصر ہے ۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امیر عجم ملک نے چار بچے والد سے لے کر ماں کے حوالے کر دیئے، کمسن بچے والد کی جدائی میں روتے رہے، الفت بی بی نے موقف اپنایا کہ شوہر اصغر علی نے مار پیٹ کر گھر سے نکال دیا ۔
لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس شیریں عمران نےایس ایچ او سمیت نو افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے فیصلے کے خلاف درخواست پرفریقین کو 17 ستمبر کے لیے نوٹس جاری کر دئیے،عدالت نے ماتحت عدالت کا مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ معطل کر دیا،ایڈیشنل سیشن جج پھالیہ نے مقصود بیگم کی درخواست پرپولیس اور سوکن کے خلاف مقدمہدرج کرنیکا حکم دیا تھا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس وحید خان نے تصور اقبال اور شبیر حسین کی بازیابی کی درخواست پرڈی پی او شیخوپورہ کو آج ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا، آئی جی پنجاب اور سی سی ڈی کی رپورٹ میں عدالت کو بتایا گیا کہ ملزمان ان کی حراست میں ہیں،ڈی پی او شیخوپورہ کی رپورٹ کے مطابق ملزمان کے حوالے سے کوئی علم نہیں۔
ایڈیشنل سیشن جج نصرت صدیقی کی عدالت میں اداکارہ مومنہ اقبال کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور دھمکیاں دینے کے مقدمے کی سماعت،این سی سی آئی اے رپورٹ کی روشنی میں ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ سمیرا نے اپنی عبوری ضمانت کی درخواستیں واپس لے لیں، وکیل این سی سی آئی اے نے موقف اپنایا کہ اگر ضرورت محسوس ہوئی تو کیس میں دوبارہ تفتیش کی جائے گی، تاہم فی الحال ملزمان کی فوری گرفتاری مطلوب نہیں ہے،تفتیشی نے ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ سمیرا کو بیگناہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انکی گرفتاری مطلوب نہیں،تفتیشی افسر نے بتایا کہ این سی سی آئی اے نے مقدمے کی تفتیش تبدیل کرکے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی، وکیل مومنہ اقبال نے موقف اپنایا کہ این سی سی آئی اے نے ہمیں اطلاع دیے بغیر مقدمے کی تفتیش تبدیل کی، نئے تفتیشی افسر نے مکمل تحقیقات کیے بغیر ملزمان کو کیسے کلیئر قرار دے دیا؟
سیشن کورٹ ،ٹک ٹاکر عائشہ جٹ سے مبینہ زیادتی کے الزام میں رجب بٹ ودیگر ملزمان کے خلاف فرد جرم عائد نہ ہوسکی، سماعت 19 ستمبر تک ملتوی ہوگئی، ایڈیشنل سیشن جج ٹریننگ پر چلے گئے،ملزمان سلمان حیدر، عبدالرحمان، جہانگیر، جواد کیخلاف تھانہ نواب ٹاؤن میں مقدمہ درج ہے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ ضلع کچہری نعیم وٹو نے صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کی جعلی ویڈیو وائرل کے مقدمے کی گذشتہ سماعت کا تحریری حکم جاری کردیا، عدالت نےفریقین کو جرح کے لیے 12 ستمبر کو طلب کرلیا،عدالت نے شریک ملزم شہاب الدین پر فردم جرم عائد کردی، تحریری حکم کیمطابق دوران سماعت فریقین اور وکلاء کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا ، فریقین کو یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ عدالت کا تقدس برقرار رکھیں،اوپن کورٹ تک رسائی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عدالتی کارروائی میں خلل ڈالا جائے ،اگر آئندہ کسی فریق کی جانب سے ایسی حرکت کی گئی تو عدالت سی ار پی سی کے سیکشن 352 کے تحت پابندی عائد کرے گی ،دوران سماعت عظمیٰ بخاری نے غلط رپورٹنگ کی نشان دہی کی تھی ،صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری نے بیان قلمبند کروا تے ہوئے استدعا کی کہ ملزمہ فلک جاوید کمرہ عدالت میں موجود ہو، ملزمان کی جانب سے کیس کو لمبا کرنے کے لیے تاخیری حربے استعمال کیے جاسکتے ہیں ،عظمی بخاری نے بیان ریکارڈ کرانے کے بعد استدعا کی فوری جرح کی جائے ،فلک جاوید کے وکیل علی اشفاق نے بھی ملزمہ کو عدالت پیش نہ کرنے کا اعتراض اٹھایا اور استدعا کی کہ ہم پہلی بار التوا مانگ رہے ہیں ۔
لاہور ہائیکورٹ ،شادمان میں موٹر سائیکل سوار کو ہاتھ کے اشارہ کرکے دھکا دینے کے واقعے کی انکوائری اور ریکارڈ کو محفوظ کرنے کے لیے درخواست دائر،ناصر چوہان ایڈووکیٹ نے نے موقف اپنایا کہ 26 اگست کو شادمان کے قریب نوجوان موٹر سائیکل سوار گر کر جاں بحق ہوا ،موٹر سائیکل سوار کو ٹریفک اہلکار نے روکنے کا اشارہ کیا ،پنجاب میں ٹریفک وارڈنز کو زبردستی شہریوں کو روکا جائے ،سیف سٹی کیمرہ ٹریفک رولز کی خلاف ورزی پر چالان کررہے ہیں ،استدعا ہے کہ عدالت پنجاب بھر میں مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے احکامات جاری کرے ،عدالت شہری زین کی موت کا ریکارڈ محفوظ کرنے اور اسکی انکوائری کرنے کا حکم دے ۔