column and article

مویشی پال سے ملکی معیشت تک — لائیو سٹاک کی نئی کروٹ

ڈاکٹر وقار علی گِل

کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کا اندازہ صرف بلند و بالا عمارتوں، نئی شاہراہوں اور بڑے صنعتی منصوبوں سے نہیں لگایا جا سکتا۔ اصل ترقی وہاں دکھائی دیتی ہے جہاں عام آدمی کی آمدن میں اضافہ ہو، دیہی معیشت مضبوط ہو، روزگار کے مواقع بڑھیں اور زراعت سے وابستہ شعبے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے قومی پیداوار میں اپنا کردار ادا کریں۔ پاکستان جیسے زرعی ملک میں لائیو سٹاک اسی معاشی تصویر کا ایک نہایت اہم حصہ ہے۔

حالیہ اعداد و شمار اس حقیقت کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔ لائیو سٹاک کا قومی جی ڈی پی میں 14.60 فیصد حصہ اور زرعی شعبے میں 62.5 فیصد حصہ اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ مویشی محض دیہی گھرانوں کا اثاثہ نہیں بلکہ قومی معیشت کا ایک بڑا ستون ہیں۔ لائیو سٹاک کی 3.75 فیصد شرحِ نمو بھی اس شعبے کی معاشی اہمیت اور اس میں موجود امکانات کی نشاندہی کرتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں لائیو سٹاک کے روایتی تصور کو بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ صوبائی وزیر زراعت و لائیو سٹاک پنجاب سید عاشق حسین کرمانی نے حالیہ میڈیا بریفنگ میں درست طور پر اس تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ لائیو سٹاک ڈیپارٹمنٹ اب روایتی ادارہ نہیں رہا بلکہ جدید سروس ڈیلیوری کا ماڈل بن چکا ہے۔

یہ تبدیلی صرف ایک دعویٰ نہیں بلکہ اعداد و شمار سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔

2021-22 کے مقابلے میں لائیو سٹاک ڈیپارٹمنٹ کے بجٹ میں 78 فیصد جبکہ ترقیاتی بجٹ میں 170 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ اس سرمایہ کاری کا اصل مقصد محض سرکاری عمارتیں تعمیر کرنا نہیں بلکہ اس شعبے کو ایسی جدید بنیاد فراہم کرنا ہے جس کے نتیجے میں فارمر کی پیداوار، آمدن اور جانوروں کی صحت بہتر ہو۔

فارمر کی دہلیز تک سرکاری سہولت

پاکستان کے دیہی علاقوں میں ایک بڑے مویشی پال کے لیے بھی جانور کو علاج کے لیے دور لے جانا مشکل ہے اور چھوٹے فارمر کے لیے تو یہ مسئلہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔ ایسے میں موبائل ویٹرنری ڈسپنسری کا تصور ایک بنیادی تبدیلی ہے۔

پنجاب میں پہلے سے فعال 206 موبائل ویٹرنری ڈسپنسریز کے علاوہ مزید 47 موبائل یونٹس کا افتتاح کیا گیا ہے، جبکہ مستقبل میں ان کی تعداد 400 تک بڑھانے کا ہدف ہے۔ ان موبائل یونٹس میں ایکسرے، الٹراساؤنڈ اور خون کے ٹیسٹ جیسی سہولیات کی فراہمی اس بات کی علامت ہے کہ ویٹرنری سروس اب صرف روایتی علاج تک محدود نہیں رہی۔

مزید اہم بات یہ ہے کہ ان یونٹس کے روٹس، ڈرائیورز اور فیلڈ سرگرمیوں کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ موجودہ کوریج 17 فیصد سے بڑھا کر 81 فیصد تک لے جانے کا ہدف دراصل اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ سرکاری سہولت دفتر میں بیٹھے فارمر کا انتظار نہیں کرے گی بلکہ فارمر تک پہنچے گی۔

9211 — علاج سے ڈیجیٹل نگرانی تک

آج کے دور میں صرف سروس فراہم کرنا کافی نہیں، اس سروس کا ریکارڈ، معیار اور نتیجہ بھی قابلِ نگرانی ہونا چاہیے۔

پنجاب کا 9211 ڈیجیٹل سسٹم اسی سوچ کی عملی مثال ہے۔ 2025 میں 5 کروڑ 38 لاکھ جانوروں کا علاج کیا گیا اور ان خدمات کا ریکارڈ ڈیجیٹل نظام پر درج کیا جا رہا ہے۔ ویکسین کی ہر خوراک کے بعد فارمر سے فیڈ بیک لینے کا نظام شفافیت اور جواب دہی کی طرف ایک اہم قدم ہے۔

یہی ڈیجیٹلائزیشن موبائل ویٹرنری ڈسپنسریز کی کارکردگی اور فیلڈ سرگرمیوں کی نگرانی میں بھی استعمال ہو رہی ہے۔ یوں لائیو سٹاک کا محکمہ محض علاج کرنے والا ادارہ نہیں بلکہ ڈیٹا پر مبنی جدید سروس ڈیلیوری سسٹم کی طرف بڑھ رہا ہے۔

بیماری کے خلاف جنگ، معیشت کے تحفظ کی جنگ

مویشی کی بیماری صرف ایک جانور کی بیماری نہیں ہوتی۔ اس کا اثر براہِ راست فارمر کی آمدن، دودھ اور گوشت کی پیداوار اور بالآخر ملکی معیشت پر پڑتا ہے۔

فٹ اینڈ ماؤتھ ڈیزیز (FMD) کے کنٹرول کے لیے پنجاب میں 8 کمپارٹمنٹس قائم کیے گئے ہیں، جن میں 7 نئے کمپارٹمنٹس شامل ہیں، جبکہ 45 ہزار جانوروں کی ٹیگنگ اور ویکسی نیشن مکمل کی جا چکی ہے۔

یہ اقدامات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مستقبل کی ویٹرنری سروس صرف بیمار جانور کا علاج نہیں بلکہ بیماری کو پیدا ہونے سے پہلے روکنے کی حکمت عملی بھی ہے۔

ویکسین کی مقامی تیاری — خود انحصاری کی طرف قدم

کسی بھی ملک کی معاشی خود مختاری کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات کے لیے غیر ضروری طور پر درآمدات کا محتاج نہ ہو۔

ویٹرنری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (VRI) میں ویکسین کی مقامی تیاری اسی سمت میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ اب تک 26 کروڑ ویکسین ڈوزز تیار کی جا چکی ہیں۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق اگر یہی ویکسین درآمد کی جاتیں تو تقریباً 17 ارب روپے خرچ ہوتے، جبکہ مقامی پیداوار سے 16 ارب 16 کروڑ روپے کی بچت ہوئی۔

لمپی اسکن ڈیزیز کی ویکسین کی قیمت کا فرق بھی قابلِ توجہ ہے۔ جو ویکسین پہلے تقریباً 300 روپے میں دستیاب تھی، وہ اب پنجاب میں مقامی طور پر 30 روپے میں فراہم کی جا رہی ہے۔

یہ صرف قیمت میں کمی نہیں؛ یہ مقامی تحقیق، مقامی پیداوار اور قومی وسائل کے بہتر استعمال کی ایک مثال ہے۔

نسل کی بہتری، پیداوار میں اضافہ

پاکستان کے پاس دنیا کی بہترین مقامی مویشی نسلوں میں شمار ہونے والی ساہیوال، نیلی راوی اور دیگر قیمتی نسلیں موجود ہیں۔ تاہم صرف اچھی نسل کا ہونا کافی نہیں، اس کی سائنسی بنیادوں پر بہتری اور درست افزائش بھی ضروری ہے۔

مصنوعی نسل کشی میں 35.2 فیصد اضافہ اسی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ اعلیٰ نسل کے جانوروں کی افزائش کے لیے جرلینڈو نسل کے سیمن اور ایمبریوز کی فراہمی اور ہیرڈ ٹرانسفارمیشن پروگرام کا آغاز اس شعبے کو زیادہ پیداواری بنانے کی کوشش ہے۔

اس پروگرام کے تحت 8 لاکھ 40 ہزار جانوروں کو شامل کرنے کا ہدف ہے۔

اعلیٰ نسل کے سیمن اسٹرا پر سبسڈی بھی فارمر کی معاشی معاونت کی ایک مثال ہے۔ 5,600 سیمن اسٹراز فراہم کیے گئے، جن پر فی اسٹرا 3,900 روپے سبسڈی دی گئی، جس کے بعد 5,600 روپے مالیت کا اسٹرا فارمر کو صرف 1,700 روپے میں دستیاب ہوا۔

یہاں اصل سوال صرف سبسڈی کا نہیں؛ اصل مقصد بہتر نسل، زیادہ دودھ، زیادہ گوشت اور زیادہ آمدن ہے۔

قرض سے کاروبار تک

لائیو سٹاک کی ترقی کے لیے صرف جانوروں کا علاج کافی نہیں۔ فارمر کے پاس سرمایہ بھی ہونا چاہیے تاکہ وہ اپنے ریوڑ کو بہتر بنا سکے۔

اسی مقصد کے لیے لائیو سٹاک سیکٹر کی ترقی اور فارمرز کی معاشی معاونت کے لیے 10 ارب روپے کے بلاسود قرضے مختص کیے گئے ہیں۔ لائیو سٹاک کارڈ پروگرام کے تحت اب تک 4 لاکھ جانور مستفید ہو چکے ہیں جبکہ آئندہ دو برس میں مزید 6 لاکھ جانوروں کو پروگرام میں شامل کرنے کا ہدف ہے۔

یہ اقدامات اس بنیادی تصور کو مضبوط کرتے ہیں کہ فارمر کو صرف امداد کا مستحق نہیں بلکہ ایک معاشی شراکت دار اور کاروباری فرد سمجھا جائے۔

نوجوان اور جدید لائیو سٹاک

وزیراعلیٰ انٹرن شپ پروگرام کے تحت ایک ہزار انٹرنز کی تعیناتی اور ان کی خدمات سے 34 لاکھ جانوروں کا علاج ایک اور اہم پہلو ہے۔ اسی طرح 6,964 پیرا ویٹس کو موٹر سائیکلوں کی فراہمی فیلڈ سروس کو تیز اور مؤثر بنانے کی کوشش ہے۔

یہاں ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل ایک دوسرے کا متبادل نہیں بلکہ ساتھی بن کر سامنے آتے ہیں۔

اصل منزل — فارمر کی خوشحالی

بالآخر کسی بھی حکومتی پروگرام کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں کہ کتنی میٹنگز ہوئیں یا کتنی عمارتیں بنیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ فارمر کی آمدن میں کتنا اضافہ ہوا؟

اگر صحت مند جانور زیادہ دودھ دے، بہتر نسل کا بچھڑا پیدا کرے، بیماری سے محفوظ رہے، علاج اس کی دہلیز پر دستیاب ہو، ویکسین سستی ہو، جدید تشخیص چند کلومیٹر نہیں بلکہ چند قدم کے فاصلے پر ہو اور فارمر کو آسان مالی سہولت میسر آئے تو اس کا فائدہ صرف ایک گھرانے تک محدود نہیں رہتا۔

یہ فائدہ دودھ کی صنعت، گوشت کی پیداوار، روزگار، خوراک کے تحفظ اور قومی معیشت تک پہنچتا ہے۔

اسی لیے پنجاب میں لائیو سٹاک کی جدید سروس ڈیلیوری دراصل دیہی معیشت کی جدید کاری کا منصوبہ بھی ہے۔

ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مویشی پال کسان کا مضبوط ہونا پاکستان کے مضبوط ہونے سے جڑا ہوا ہے۔ ایک صحت مند گائے، ایک بہتر نسل کی بھینس، بیماری سے محفوظ ریوڑ اور زیادہ دودھ دینے والا جانور بظاہر ایک چھوٹا سا معاشی یونٹ نظر آتا ہے، مگر ایسے لاکھوں یونٹس مل کر قومی معیشت کا بڑا پہیہ چلاتے ہیں۔

پنجاب میں لائیو سٹاک کے شعبے میں جاری یہ تبدیلی اسی بڑے سفر کا حصہ ہے—روایتی سرکاری محکمے سے جدید سروس ڈیلیوری، علاج سے پیشگی تحفظ، درآمد سے مقامی پیداوار، اور محض مویشی پالنے سے باقاعدہ لائیو سٹاک اکانومی تک۔

اگر یہ سفر تسلسل، شفافیت اور فارمر مرکزیت کے ساتھ جاری رہا تو لائیو سٹاک صرف دیہی پنجاب کی خوشحالی کا ذریعہ نہیں رہے گا بلکہ ملکی معاشی ترقی، غذائی تحفظ اور خود انحصاری کا ایک مضبوط ستون بن سکتا ہے۔

اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ایک جانور کی صحت، ایک فارمر کی خوشحالی اور ایک ملک کی معاشی ترقی، تینوں ایک ہی کہانی کا حصہ بن جاتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے