متروکہ وقف املاک بورڈ کی وفاقی حیثیت برقرار رکھی جائے، اقلیتی رہنماؤں کا مطالبہ
لاہور (شیخ طاہر علی) پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی اور پاکستان ہندو مندر مینجمنٹ کمیٹی کے ارکان نے سندھ حکومت کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز کو متروکہ وقف املاک کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنے کے اقدام پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق پردھان پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی سردار بشن سنگھ، سردار جسکرن سنگھ، ممبر پی ایس جی پی سی سردار پروفیسر ڈاکٹر ممپال سنگھ، سردار مہیش سنگھ، بابا ہر میت سنگھ، سردار سرجیت سنگھ کنول، سابق پردھان سردار امیر سنگھ، سردار بلونت سنگھ، سردار پریم سنگھ، سردار دیا سنگھ، ہندو مندر مینجمنٹ کمیٹی کے ممبر امر ناتھ رندھاوا، سکھ گرنتھی صاحبان، ہندو پجاری صاحبان اور دیگر اقلیتی نمائندوں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔
اقلیتی رہنماؤں نے کہا کہ متروکہ وقف املاک بورڈ وفاق کی علامت اور اقلیتی مذہبی مقامات کے انتظام کا وفاقی ادارہ ہے، جس کی خودمختاری بین الاقوامی معاہدوں، نہرو لیاقت پیکٹ 1950 اور پنتھ مرزا معاہدہ 1955 کے تناظر میں اہمیت رکھتی ہے۔ اس لیے بورڈ کی وفاقی حیثیت برقرار رکھتے ہوئے اسے صوبائیت کا رنگ نہ دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ متروکہ وقف املاک بورڈ کے زیر انتظام ٹرسٹ جائیدادیں بنیادی طور پر گوردواروں، مندروں اور دیگر مذہبی مقامات کی دیکھ بھال اور انتظام کے لیے مختص ہیں، جبکہ ٹرسٹ پول میں شامل متروکہ املاک قابلِ منتقلی یا قابلِ فروخت نہیں ہیں۔ ان کے بقول سندھ ایویکیو ٹرسٹ پراپرٹیز (مینجمنٹ اینڈ ڈسپوزل) ایکٹ 2019 آئینی دفعات کو نظرانداز کرتے ہوئے نافذ کیا گیا، جو صوبائی اسمبلی کے قانون سازی کے اختیار سے تجاوز اور وفاقی قانون سے متصادم ہے۔
رہنماؤں نے خدشہ ظاہر کیا کہ صوبائی سطح پر انتظامی مداخلت سے گوردواروں اور مندروں کے انتظامات متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کے مذہبی حقوق اور پاکستان کے مثبت تشخص پر بھی منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
سردار بشن سنگھ نے کہا کہ متروکہ وقف املاک بورڈ اقلیتی عبادت گاہوں کی حفاظت، دیکھ بھال، تزئین و آرائش، سکیورٹی اور یاتریوں کو سہولیات کی فراہمی کے لیے وفاقی سطح پر مربوط انتظامی نظام چلا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں متروکہ وقف املاک بورڈ صوبوں کو منتقل نہیں کیا گیا، جبکہ آرٹیکل 270AA کے تحت قائم عمل درآمد کمیٹی نے بھی اسے وفاقی معاملہ برقرار رکھا۔ 11 جنوری 2012 کے نوٹیفکیشن کے ذریعے بھی اسے وفاقی وزارت کے انتظامی اختیار میں رکھا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر، خصوصاً بھارت سے سکھ اور ہندو یاتری اپنے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے پاکستان آتے ہیں۔ متروکہ وقف املاک بورڈ کی شرائنز برانچ گوردواروں اور مندروں کی حفاظت، انتظام اور یاتریوں کو سہولیات کی فراہمی کے ذریعے پاکستان میں مذہبی ہم آہنگی کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
اقلیتی رہنماؤں نے صدر پاکستان آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، وفاقی حکومت اور وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سے مطالبہ کیا کہ سندھ حکومت کے اقدام کا فوری نوٹس لیا جائے اور متروکہ وقف املاک بورڈ کی وفاقی حیثیت اور قانونی و انتظامی اختیارات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔