مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد پر برطانیہ کا سخت ردعمل، اسرائیل کی جوابی کارروائی کی دھمکی
لندن: برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد کو ’’انتہائی افسوسناک‘‘ قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دینے کا اعلان کیا ہے، جبکہ اسرائیل نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے پابندیاں عائد کیے جانے کی صورت میں وہ جوابی کارروائی کرے گا۔
برطانوی وزیر خارجہ نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا نے اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے ’’افسوسناک آبادکار دہشت گردی‘‘ اور فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیے جانے کے واقعات دیکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ اپنی پالیسی میں جامع تبدیلی لائے گا اور آنے والے ہفتوں میں اقدامات کا اعلان کیا جائے گا۔
ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ برطانیہ دو ریاستی حل کی تباہی کو قبول نہیں کرے گا اور اسرائیلی آبادکاری کے معاملے پر عملی اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سار نے برطانیہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر لندن نے اسرائیل کے خلاف کارروائی کی تو اسرائیل بھی برطانیہ کے خلاف اقدام کرے گا۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اسرائیل ممکنہ طور پر کس نوعیت کی جوابی کارروائی کرے گا۔
گیڈون سار نے برطانیہ پر اسرائیل کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ اسرائیل کے خلاف کارروائی کا دور ختم ہوچکا ہے۔
برطانوی حکومت نے مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری کے منصوبوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایڈ ملی بینڈ نے اسرائیل کے ’’E1‘‘ آبادکاری منصوبے کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ مغربی کنارے کے قلب سے گزرتا ہے اور اس سے فلسطینی ریاست کا قیام ناقابلِ عمل ہونے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ برطانیہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے ساتھ اپنے وسیع تر معاشی تعلقات کا بھی جائزہ لے رہا ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ برطانوی کمپنیاں نئی اسرائیلی بستیوں کی مالی معاونت، تعمیر یا تشہیر میں شامل ہوں۔
برطانوی حکومت اس سے قبل بھی آبادکاروں کے تشدد میں ملوث افراد اور اداروں کے خلاف پابندیاں عائد کرچکی ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف حملوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ آبادکاروں پر فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضے، فصلیں تباہ کرنے اور گھروں و مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔
تازہ واقعے میں اسرائیلی آبادکاروں نے مغربی کنارے کے شمالی علاقے میں ایک مسجد کو آگ لگانے کی کوشش کی۔ فلسطینی وزارت مذہبی امور کے مطابق رواں سال کسی مسجد کو نشانہ بنانے کا یہ 13واں واقعہ ہے۔
مغربی کنارے میں اس وقت 5 لاکھ سے زائد اسرائیلی آبادکار مقیم ہیں، جبکہ تقریباً 30 لاکھ فلسطینی بھی اسی علاقے میں رہتے ہیں۔
اسرائیلی آبادکاری کے معاملے پر عالمی سطح پر بھی شدید تنقید جاری ہے، جبکہ اسرائیل اور اس کے اتحادی ممالک کے درمیان سفارتی اختلافات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔