Showbiz

آمنہ الیاس اور ژالے سرحدی کی خواتین مخالف تنقید پر سخت ردعمل

کراچی: پاکستانی اداکاراؤں آمنہ الیاس اور ژالے سرحدی نے سوشل میڈیا پر خواتین کو تنقید کا نشانہ بنانے اور ان کے خلاف نفرت انگیز رویوں کو فروغ دینے والے افراد کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

آمنہ الیاس نے منگل کو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں ان کی ایک ڈانس پرفارمنس پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مثبت اور منفی دونوں طرح کے تبصرے سامنے آئے۔

اداکارہ کے مطابق ایک شخص، جو خود کو ’’ناقد‘‘ قرار دیتا ہے، نے انہیں ’’سستی‘‘ کہا۔ آمنہ الیاس کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے اس شخص کی حیثیت اور کام کے بارے میں جاننے کی کوشش کی تو انہیں معلوم ہوا کہ وہ ایسے شخص ہیں جو اپنی ویڈیوز میں ان خواتین کے کردار اور طرزِ زندگی پر سوال اٹھاتے ہیں جنہیں وہ پسند نہیں کرتے۔

آمنہ الیاس نے خواتین کی زندگیوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرنے والے مردوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صرف مائیکروفون اور پلیٹ فارم مل جانے کا مطلب یہ نہیں کہ کسی کو خواتین کے خلاف نفرت یا تشدد کو ہوا دینے کا حق حاصل ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ خوش قسمت ہیں کہ ایسے ناقدین کی رائے کو نظر انداز کرسکتی ہیں، لیکن بہت سی خواتین ایسی ہیں جو اس نوعیت کے رویوں سے براہِ راست متاثر ہوتی ہیں۔

آمنہ الیاس کے مطابق جب یہ سوچ فروغ دی جاتی ہے کہ خواتین کو اپنی زندگی مردوں کی مرضی کے مطابق گزارنی چاہیے تو اس سے ان خواتین کے خلاف موجود تشدد اور پابندیوں کو تقویت ملتی ہے جو پہلے ہی معاشرتی اور گھریلو مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔

دوسری جانب ژالے سرحدی نے بھی سوشل میڈیا پر خواتین کے خلاف ہونے والی تنقید پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسے افراد ناقد نہیں بلکہ محض منفی سوچ رکھنے والے اور خواتین مخالف لوگ ہیں۔

انہوں نے ایک ایسے ڈاکٹر کا حوالہ دیا، جس کا نام لیے بغیر ان کا کہنا تھا کہ وہ شخص تقریباً ہر معاملے پر تبصرہ کرتا ہے اور اس کے رویے سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اس کی ڈگری ’’خواتین مخالف سوچ‘‘ میں ہو۔

ژالے سرحدی نے سوال اٹھایا کہ کیا ایسے ناقدین کو اندازہ ہے کہ ان کے مواد کا اثر ان خواتین پر کیا ہوتا ہے جو پہلے ہی اپنے گھروں، معاشرے اور مردوں کی جانب سے پابندیوں اور تمسخر کا سامنا کر رہی ہیں۔

اداکارہ نے کہا کہ انٹرنیٹ پر مراعات یافتہ خواتین کو نشانہ بنا کر دراصل تمام خواتین، خصوصاً کم مراعات یافتہ خواتین، کو پیچھے دھکیلا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس طرح ان مردوں کو مزید حوصلہ ملتا ہے جن کی سوچ کو تبدیل کرنے اور خواتین کو ایک انسان کی حیثیت سے تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔

ژالے سرحدی نے کہا کہ لوگ اکثر حقوقِ نسواں کی تحریک کو نفرت سے جوڑتے ہیں، حالانکہ اس کا بنیادی تصور کسی جنس سے نفرت نہیں بلکہ ’’فکری مساوات‘‘ ہے۔

انہوں نے خواتین کے خلاف اس قسم کے رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آمنہ الیاس سمیت بہت سی خواتین کو جس قسم کی خواتین مخالف سوچ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، وہ قابلِ مذمت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے