پی سی بی کے حالیہ فیصلوں پر سابق کرکٹرز کی کڑی تنقید، آفریدی، آرتھر اور پیٹرسن حیران

لاہور(خان حسن) دورہ انگلینڈ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی مسلسل ناقص کارکردگی اور اس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے بڑے پیمانے پر تبدیلیوں پر سابق کرکٹرز نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انگلینڈ نے دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان کو 194 رنز سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز میں 2-0 کی فیصلہ کن برتری حاصل کرلی۔
سابق کپتان شاہد آفریدی نے پی سی بی کے فیصلوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انگلینڈ میں ٹیسٹ میچ کے لیے ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کے کھلاڑیوں کو شامل کرنا حیران کن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم میں تبدیلیاں ضرور کی جانی چاہئیں، تاہم فیصلوں کے پیچھے واضح سوچ اور حکمت عملی بھی نظر آنی چاہیے۔
سابق ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے بھی پی سی بی کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ مسلسل تبدیلیاں کرتا رہتا ہے اور ٹیم میں استحکام نظر نہیں آتا۔
سابق قومی کپتان شعیب ملک نے کہا کہ احتساب اور تبدیلیوں کا عمل دورہ مکمل ہونے کے بعد ہونا چاہیے تاکہ ٹیم کی کارکردگی کا مجموعی جائزہ لے کر فیصلے کیے جائیں۔
دوسری جانب انگلینڈ کے سابق کپتان کیون پیٹرسن بھی پاکستان ٹیم میں اچانک ہونے والی تبدیلیوں پر حیران دکھائی دیے۔ انہوں نے کھلاڑیوں کو واپس بھیجنے سمیت بڑے پیمانے پر تبدیلیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا واقعی یہ سب کچھ ہوا ہے؟
واضح رہے کہ لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد پی سی بی نے پاکستان کے ٹیسٹ اسکواڈ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرتے ہوئے 7 کھلاڑیوں کو ریلیز کیا، جبکہ کوچنگ اسٹاف میں بھی تبدیلیاں کی گئیں۔