World

مکہ دفاعی اتحاد کا پہلا سربراہ پاکستان سے ہوگا، سیکرٹریٹ سعودی عرب میں قائم کرنے کا فیصلہ

استنبول: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے پہلے اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق مکہ دفاعی معاہدے کی تنظیم کا پہلا سربراہ پاکستان سے ہوگا، جبکہ معاہدے کا سیکرٹریٹ سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا۔ سیکرٹریٹ کی سربراہی ابتدائی طور پر پاکستان سے تعلق رکھنے والے سیکرٹری جنرل کریں گے، جن کی مدت تین سال ہوگی۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کی کمیٹی کا افتتاحی اجلاس پیر کو استنبول میں ہوا، جس میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور عسکری قیادت نے شرکت کی۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تینوں ممالک مشترکہ سرگرمیوں کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیتوں اور مسلح افواج کے درمیان باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنائیں گے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے نے دفاعی صنعت میں تعاون، مشترکہ ٹیکنالوجی کی تیاری اور پیداوار بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔

تینوں ممالک نے مکہ دفاعی معاہدے کے تحت تعاون کو مزید ادارہ جاتی شکل دینے پر اتفاق کرتے ہوئے اجتماعی دفاع اور ڈیٹرنس کی ساکھ و مؤثریت بڑھانے کے لیے اقدامات جاری رکھنے کا عزم کیا۔

مشترکہ اعلامیے کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے نے بحرانوں کے پرامن حل کے لیے کشیدگی میں کمی اور تحمل پر مبنی کوششوں کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

اجلاس میں بڑھتی ہوئی علاقائی اور عالمی کشیدگی کے تناظر میں مشترکہ ذمہ داریوں کے تعین، عالمی و علاقائی سلامتی کی صورتحال اور تینوں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے پر غور کیا گیا۔

اجلاس کے ایجنڈے میں تینوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے، دفاعی صنعت میں مشترکہ پیداوار، تحقیق و ترقی کے شعبوں میں تعاون اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کو مزید مؤثر بنانے کے امور بھی شامل تھے۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا مقصد سلامتی، امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینا، مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا اور اجتماعی ڈیٹرنس کو مؤثر بنانا ہے۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا کہ اجلاس کا مقصد علاقائی امن اور استحکام کو فروغ دینا ہے۔

حاقان فیدان نے کہا کہ اجلاس میں اتحاد کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام کے لیے مختلف اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا اور اجلاس میں کیے گئے فیصلے نتیجہ خیز ثابت ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان، ترکیے اور سعودی عرب کا اتحاد بین الاقوامی قانون پر مبنی ہے اور یہ کسی مخصوص ریاست کے خلاف نہیں۔ ان کے مطابق تینوں ممالک نے اتحاد کا ڈھانچہ قائم کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔

ترک وزیر خارجہ نے بتایا کہ مزید ممالک کو معاہدے میں شامل کرنے کے لیے روڈ میپ تیار کرنے پر بھی کام جاری ہے۔

حاقان فیدان نے کہا کہ تین ملکی معاہدے کو ’مکہ دفاعی اتحاد‘ کہا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے