ٹرمپ کی این بی سی صحافی کو ایف سی سی سے سزا دلوانے کی دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے این بی سی کی معروف صحافی کرسٹن ویلکر کو ان کی رپورٹنگ پر تنقید کرتے ہوئے فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن (ایف سی سی) سے کارروائی اور ممکنہ سزا دلوانے کی دھمکی دے دی۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کرسٹن ویلکر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ’میٹ دی پریس‘ کی غیر مقبول میزبان قرار دیا۔
ٹرمپ کو ویلکر کے اس تبصرے پر اعتراض تھا جس میں انہوں نے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکن پارٹی کے پرائمری انتخابات میں صدارتی توثیق کے حوالے سے ٹرمپ کے ’ملے جلے نتائج‘ کا ذکر کیا تھا۔
ویلکر نے اتوار کو ایک مقامی این بی سی سے گفتگو میں کہا تھا کہ وسط مدتی انتخابات میں ٹرمپ کا اثر نمایاں رہے گا، تاہم ان کی جانب سے حمایت یافتہ امیدواروں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ نتائج ملے جلے رہے ہیں، اگرچہ حالیہ طور پر سینیٹر ڈارلین گراہم کی کامیابی ٹرمپ کے لیے ایک مثبت نتیجہ ہے۔
ٹرمپ نے اپنے ردعمل میں ویلکر پر ’جان بوجھ کر غلط بیانی‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سرزنش یا سزا کے لیے ایف سی سی کو رپورٹ کیا جائے گا۔ انہوں نے امریکی میڈیا کے ایک حصے پر بھی الزام لگایا کہ وہ ٹرمپ سے متعلق خبروں کو مسخ اور ان کی تضحیک کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
این بی سی نیوز کے ترجمان نے ویلکر کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ صحافت کے شعبے کی بہترین شخصیات میں سے ایک ہیں اور ادارہ ان کے ساتھ کھڑا ہے۔
کرسٹن ویلکر ایک ایوارڈ یافتہ صحافی ہیں اور انہیں 2020 کے صدارتی مباحثے میں ٹرمپ اور جو بائیڈن کے درمیان مباحثے کی میزبانی پر دونوں جماعتوں کے حلقوں سے بھی پذیرائی ملی تھی۔
ٹرمپ اور امریکی میڈیا کے درمیان تعلقات گزشتہ کئی برس سے کشیدہ ہیں۔ صدر بننے کے بعد ٹرمپ نے متعدد میڈیا اداروں پر ’جعلی خبروں‘ کا الزام لگایا، بعض اخبارات کے خلاف مقدمات دائر کیے اور سرکاری میڈیا کے لیے وفاقی فنڈنگ میں کمی کی حمایت کی۔
ٹرمپ انتظامیہ پر صحافیوں کو دباؤ میں ڈالنے اور میڈیا اداروں پر پابندیاں عائد کرنے کی کوششوں کے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ متعدد نیوز اداروں نے ایف سی سی کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ حکومتی دباؤ سیاسی انتقام کے مترادف ہے اور امریکی آئین کی پہلی ترمیم سے متصادم ہے۔
ٹرمپ اور ویلکر کے درمیان کشیدگی اس وقت مزید نمایاں ہوئی تھی جب جون میں ایران کے خلاف جنگ سے متعلق سوالات پر ناراضی کے بعد صدر نے ان کا انٹرویو اچانک ختم کردیا تھا۔
دوسری جانب قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایف سی سی کو محض کسی صحافی یا نشریاتی ادارے کے نقطۂ نظر کی بنیاد پر سزا دینے کا اختیار حاصل نہیں۔ ییل جرنل آن ریگولیشن میں شائع ایک قانونی تجزیے کے مطابق امریکی سپریم کورٹ بھی اس بات کی توثیق کرچکی ہے کہ ایف سی سی کو متنازع یا ناپسندیدہ اظہارِ رائے پر پابندی عائد کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔