گوگل، مائیکروسافٹ اور اوپن اے آئی سمیت 100 کمپنیوں کا سائبر سکیورٹی مضبوط بنانے پر زور

گوگل، مائیکروسافٹ، اینتھروپک اور اوپن اے آئی سمیت 100 بڑی کمپنیوں نے دنیا بھر کی حکومتوں اور اداروں پر زور دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت مزید طاقتور ہونے سے پہلے سائبر دفاع کو فوری طور پر مضبوط بنایا جائے۔
کمپنیوں نے ایک مشترکہ کھلے خط میں خبردار کیا ہے کہ اے آئی کی تیز رفتار ترقی کے باعث اے آئی سے ہونے والے سائبر حملے آنے والے چند ماہ میں زیادہ عام اور پیچیدہ ہوسکتے ہیں، جبکہ موجودہ سکیورٹی اقدامات ان خطرات سے نمٹنے کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔
خط میں اہم تنصیبات، خصوصاً اسپتالوں اور پانی کی فراہمی کے اداروں کو جدید اور دفاعی نوعیت کی اے آئی ٹیکنالوجی اور اس کی جانچ کی سہولت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ٹیکنالوجی کمپنیوں سے بھی ان اداروں کو فنڈنگ، تربیت اور عملی معاونت فراہم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
اس خط پر کیپیٹل ون، ماسٹرکارڈ، ویزا، ایڈوب، اوریکل، آئی بی ایم اور ہگنگ فیس سمیت متعدد بڑی کمپنیاں بھی دستخط کرچکی ہیں۔
یہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ مہینوں کے دوران سائبر حملوں اور اے آئی سے متعلق سکیورٹی واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی محکمہ انصاف کے مطابق رواں ہفتے چینی ہیکرز نے امریکی سینیٹ، ناسا، فیڈرل ریزرو اور محکمہ انصاف سے متعلق ٹیکنالوجی کو نشانہ بنایا۔
رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی، اینتھروپک اور میٹا نے بھی حالیہ عرصے میں ایسے واقعات کی نشاندہی کی ہے جن میں اے آئی ٹولز نے سکیورٹی رکاوٹوں کو عبور کرنے کے لیے غیر متوقع طریقے اختیار کیے۔
جولائی میں اوپن اے آئی کے سیکڑوں اے آئی ایجنٹس کی آزمائش کے دوران انہوں نے ایک دوسرے سے رابطے کے لیے خفیہ پیغام رسانی کے فورمز قائم کیے اور مل کر ہگنگ فیس کے نظام پر کامیاب حملہ کیا۔ اسے دنیا کا پہلا اے آئی سے فعال سائبر حملہ بھی قرار دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اینتھروپک کا تیار کردہ ’مائتھوس‘ نامی اے آئی ٹول چند سیکنڈ میں ایسے سکیورٹی نقائص تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو انسانی ہیکرز سے برسوں تک پوشیدہ رہے۔ تاہم کمپنی نے اس تک رسائی محدود کر رکھی ہے کیونکہ اسے غلط ہاتھوں میں جانے کی صورت میں خطرناک سمجھا جاتا ہے۔
خط میں فرنٹیئر اے آئی کمپنیوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اہم انفرااسٹرکچر کے محدود وسائل رکھنے والے اداروں کو ذمہ دارانہ ماڈل رسائی، نمایاں فنڈنگ، تربیت اور عملی مدد فراہم کریں۔
اے آئی تحقیق کے ماہر اینڈریو یون نے خبردار کیا کہ دنیا اے آئی سے ہونے والی غیر معمولی سائبر سرگرمیوں کی ایک نئی لہر کی جانب بڑھ رہی ہے۔ تاہم ان کے مطابق خط میں اے آئی کی ہیکنگ صلاحیتوں کی ترقی کو سست کرنے کے لیے کوئی اقدام تجویز نہیں کیا گیا۔
ادھر امریکا میں سینیٹرز نے ’کِل سوئچ ایکٹ‘ کے نام سے ایک قانون بھی تجویز کیا ہے، جس کے تحت حکام کو خطرناک یا بے قابو اے آئی ماڈلز کو بند کرنے کا اختیار دینے کی تجویز ہے۔
مصنوعی ذہانت کے معروف ماہر اور نوبیل انعام یافتہ جیفری ہنٹن نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر اے آئی انسانوں سے زیادہ ذہین ہونے کی سطح تک پہنچ گئی تو معاشرہ سنگین مشکلات سے دوچار ہوسکتا ہے۔