Sports

چینی ہیومنائیڈ روبوٹ نے یوسین بولٹ کا 100 میٹر ریکارڈ توڑ دیا

بیجنگ: چین میں تیار کیے گئے ہیومنائیڈ روبوٹ ’’تیان گونگ الٹرا‘‘ نے 100 میٹر دوڑ میں دنیا کے تیز ترین انسان یوسین بولٹ کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ روبوٹ نے یہ رفتار انسانی انداز میں دوڑ کر حاصل نہیں کی۔

تیان گونگ الٹرا نے اپنی تیز ترین دوڑ میں 100 میٹر کا فاصلہ صرف 8.64 سیکنڈ میں طے کیا، جبکہ یوسین بولٹ کا انسانی عالمی ریکارڈ 9.58 سیکنڈ ہے۔ روبوٹ کی اوسط رفتار تقریباً 42 کلومیٹر فی گھنٹہ رہی۔

جنوبی کوریا کی چنگنم نیشنل یونیورسٹی کے اسپورٹس سائنس کے پروفیسر جنگ مون ہون نے اسے روبوٹکس میں اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہیومنائیڈ روبوٹ اب ایسے توازن کے ساتھ دوڑنے کے قابل ہورہے ہیں جس کی رفتار انسانوں کے لیے حاصل کرنا مشکل ہے۔

تاہم ماہرین کے مطابق روبوٹ کی دوڑ اور بولٹ کی 2009 میں برلن میں قائم کی گئی ریکارڈ دوڑ میں نمایاں فرق موجود ہے۔ یوسین بولٹ نے اسٹارٹنگ بلاکس سے صرف 0.146 سیکنڈ میں ردعمل دیتے ہوئے دوڑ شروع کی، جبکہ تیان گونگ سیدھی کھڑی پوزیشن سے آغاز کرتا ہے اور اس کی ابتدائی رفتار نسبتاً سست ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر روبوٹ کو انسانوں کی طرح اسٹارٹنگ بلاکس استعمال کرنے کے قابل بنایا جائے تو اس کی رفتار مزید بڑھ سکتی ہے۔

روبوٹ کے ڈویلپرز نے اس کے دھڑ اور کمر کے ڈیزائن کو ہلکا کیا ہے، جبکہ موٹرز، حرکات کی رینج اور کنٹرول سافٹ ویئر میں بھی بہتری کی گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں روبوٹ نے بولٹ کے مقابلے میں زیادہ تعداد میں لیکن چھوٹے اور تیز قدم اٹھائے۔

ماہرین کے مطابق روبوٹ کی رفتار کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ اس میں انسانوں کی طرح عضلاتی تھکن کا مسئلہ نہیں ہوتا۔ جہاں عالمی معیار کے ایتھلیٹس دوڑ کے آخری حصے میں تھکن کے باعث رفتار کم کردیتے ہیں، تیان گونگ الٹرا اپنی تیز رفتار برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔

تاہم رفتار کے ساتھ رکنے اور سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت اب بھی بڑا چیلنج ہے۔ ریکارڈ توڑنے والی دوڑ کے اختتام پر روبوٹ حفاظتی دیوار سے ٹکرا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں صرف تیز رفتار روبوٹ بنانا کافی نہیں ہوگا بلکہ ایسے ہیومنائیڈ روبوٹس زیادہ اہم ہوں گے جو دوڑتے ہوئے سمت تبدیل کرسکیں، رکاوٹوں کو محسوس کریں، خود فیصلہ کریں اور ضرورت پڑنے پر فوری طور پر اپنی رفتار کم کرکے حادثے سے بچ سکیں۔

جواب دیں