World

لندن میں یہودی کمیونٹی کی ایمبولینسز جلانے والے 4 نوجوانوں کا اعتراف جرم

لندن: برطانیہ میں چار نوجوانوں نے لندن میں یہودی رضاکار ایمرجنسی سروس کی 4 ایمبولینسز نذر آتش کرنے کے مقدمے میں اپنے جرم کا اعتراف کرلیا۔

20 سالہ حمزہ اقبال، 19 سالہ ریحان خان، 18 سالہ جوڈیکس اتشاتشی اور 18 سالہ سیف علی نے لندن کی اولڈ بیلی عدالت میں پیش ہوکر ہتزیولا کی ایمبولینسز کو تباہ یا نقصان پہنچانے اور انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے سے متعلق الزامات میں جرم قبول کیا۔

یہ چاروں ایمبولینسز 23 مارچ کو ایک یہودی عبادت گاہ کے قریب کھڑی تھیں جب انہیں آگ لگا دی گئی۔ برطانوی حکام کے مطابق یہ واقعہ رواں سال لندن کی یہودی کمیونٹی کو نشانہ بنانے والے متعدد واقعات میں پہلا تھا۔

اپریل اور مئی میں بھی ایک یہودی عبادت گاہ، سابق عبادت گاہ، فارسی زبان کے میڈیا ادارے ایران انٹرنیشنل اور ایران میں ہلاک ہونے والے افراد کی یاد میں قائم ایک یادگاری دیوار کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

برطانوی پولیس نے ان واقعات میں ممکنہ ایرانی روابط کی تحقیقات کی تھیں، جبکہ ایران نواز گروپ حرکت اصحاب الیمین الاسلامیہ نے ایمبولینسز پر حملے سمیت بعض دیگر واقعات کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

پراسیکیوٹرز کے مطابق حمزہ اقبال کے موبائل فون سے گرفتاری کے بعد ’’ایمبولینس کی قیمت کتنی ہوتی ہے‘‘ اور ’’پولیس کو آتش زنی کی تحقیقات میں کتنا وقت لگتا ہے‘‘ جیسے الفاظ کی ویب سرچز بھی سامنے آئی تھیں۔

یہودی کمیونٹی کے لیے سکیورٹی فراہم کرنے والی تنظیم کمیونٹی سکیورٹی ٹرسٹ نے ملزمان کے اعتراف جرم کا خیرمقدم کرتے ہوئے حملے کو یہود مخالف اقدام قرار دیا۔

مقدمے میں پانچویں ملزم 18 سالہ سبحان احمد نے واقعے میں استعمال ہونے والی گاڑی ٹھکانے لگانے میں مدد دینے کے الزام سے انکار کیا ہے۔ اس کا ٹرائل آئندہ سال متوقع ہے۔

پراسیکیوٹرز کے مطابق ہتزیولا کی ایمبولینسز پر حملے سے تقریباً 10 لاکھ پاؤنڈ کا نقصان ہوا۔ یہ غیر منافع بخش رضاکار سروس برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے ساتھ کام کرتی ہے اور شمالی لندن کی آرتھوڈوکس یہودی کمیونٹی کو بنیادی طور پر ہنگامی طبی امداد فراہم کرتی ہے۔

جواب دیں