کھاد کی بوری 700 روپے تک مہنگی ہونے کا امکان
اسلام آباد: گیس انفرااسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (GIDC) قانون میں مجوزہ ترمیم کے باعث کھاد کی ایک بوری کی قیمت میں 700 روپے تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کا اجلاس سینیٹر سید مصطفیٰ محمود کی زیرصدارت ہوا، جس میں نیچرل گیس ڈویلپمنٹ سرچارج اور GIDC ترمیمی بلز پر غور کیا گیا۔
وزارت پٹرولیم کے حکام نے بتایا کہ مجوزہ ترمیم کے تحت GIDC سے حاصل ہونے والی رقم کو گیس کے شعبے میں مختلف انفراسٹرکچر منصوبوں پر خرچ کرنے کی اجازت ہوگی۔ حکام کے مطابق کھاد کے کارخانوں کو مری گیس کی فراہمی کے لیے 50 کروڑ ڈالر کی لاگت سے نئی پائپ لائنیں بچھائی جا رہی ہیں، جس کا خرچ سیس کے ذریعے صارفین سے وصول کیا جا سکتا ہے۔
حکام نے بتایا کہ اس مد میں کھاد کی بوری کی قیمت میں 700 روپے تک اضافہ ممکن ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا بوجھ بالآخر عوام اور کسانوں پر پڑے گا۔
پیپلز پارٹی کے قانون سازی میں حصہ نہ لینے کے فیصلے کے باعث قائمہ کمیٹی نے دونوں بلز مؤخر کر دیے۔