پی آئی ایم ایس سانحہ: پاکستانی شوبز شخصیات کا غم و غصہ، جوابدہی کا مطالبہ
پی آئی ایم ایس میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت اور دیگر افسوسناک واقعات پر پاکستانی شوبز شخصیات نے سوشل میڈیا پر شدید غم، غصے اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔
اداکارہ سونیا حسین نے کراچی کے ناظم آباد میں ایک نجی اسپتال کے باہر احتجاج کرنے والے متاثرہ خاندان کی خبر شیئر کرتے ہوئے صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ انسانی اسمگلنگ کا ممکنہ کیس بھی ہو سکتا ہے اور پاکستان میں حالات ایک خوفناک حد تک پہنچ چکے ہیں۔
اداکارہ نائمل خاور نے بھی حالیہ واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر مزید کتنی ماؤں کو اپنے بچے کھونا ہوں گے اور کتنی بچیوں کو تکلیف برداشت کرنا پڑے گی؟ انہوں نے پی آئی ایم ایس میں جاں بحق نومولود بچوں کے خاندانوں اور دیگر متاثرہ خواتین و بچیوں سے اظہارِ یکجہتی کیا اور انصاف کی دعا کی۔
سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری نے پی آئی ایم ایس میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت پر ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے مبینہ غفلت پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے متاثرہ خاندانوں سے رویے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ غمزدہ والدین کو ڈانٹنے کے بجائے ان کی بات سننی چاہیے۔
درفشاں سلیم نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بیٹوں کی بہتر تربیت کریں۔ انہوں نے بالغ مردوں سے بھی اپنے کردار اور رویے کی ذمہ داری قبول کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خواتین کو اپنے اردگرد موجود مردوں کے کردار کو سمجھنے کی تلقین کی۔
اداکارہ ماہرہ خان نے بھی حالیہ سانحات کو مبینہ غفلت، اختیارات کے غلط استعمال، صنفی تعصب اور خاموشی سے جوڑتے ہوئے سوال کیا کہ آخر مزید کتنی جانیں ضائع ہوں گی۔ انہوں نے پی آئی ایم ایس میں جاں بحق ہونے والے 14 نومولود بچوں کے والدین سمیت دیگر متاثرہ خاندانوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ ذمہ داروں کا احتساب کب ہوگا۔
شوبز شخصیات کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات نے اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات، ادارہ جاتی غفلت اور کمزور طبقات کے تحفظ کے حوالے سے ایک بار پھر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
متاثرہ خاندانوں کا بنیادی مطالبہ یہی ہے کہ واقعات کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کا احتساب یقینی بنایا جائے تاکہ وقت گزرنے کے ساتھ یہ سانحات صرف خبروں کا حصہ بن کر نہ رہ جائیں۔