واشنگٹن میں ووٹنگ رائٹس کے دفاع کے لیے ہزاروں افراد کا مارچ
واشنگٹن: مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کی جانب سے لنکن میموریل کی سیڑھیوں پر تاریخی تقریر کے چھ دہائیوں سے زائد عرصے بعد ہزاروں افراد نے جمع ہوکر خبردار کیا ہے کہ ووٹ دینے کا حق اور دیگر شہری آزادیاں ایک بار پھر خطرے میں ہیں۔
شہری حقوق کے رہنماؤں نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مساوات اور انصاف کے لیے وہ جدوجہد ابھی مکمل نہیں ہوئی جس کا مطالبہ مارٹن لوتھر کنگ جونیئر نے اپنی تاریخی تقریر میں کیا تھا۔
”مارچ آن واشنگٹن 2026: ڈیفینڈ دی ووٹ“ کے نام سے ہونے والے مظاہرے میں نیشنل مال پر ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ شرکا میں یونین کے ارکان، طلبہ، بلیک یونانی حروف پر مبنی تنظیموں کے ارکان اور مختلف عمر کے افراد شامل تھے، جو ملک کے مختلف حصوں سے واشنگٹن پہنچے۔
مارچ ایسے وقت میں ہوا ہے جب رواں سال امریکی سپریم کورٹ نے ووٹنگ رائٹس ایکٹ کی ایک اہم شق کو کمزور کردیا، جس کے بعد جنوبی ریاستوں میں انتخابی حلقہ بندیوں سے متعلق تنازعات میں اضافہ ہوا ہے۔
ری پبلکن پارٹی کے زیر انتظام ریاستی حکومتوں نے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل کانگریس کے انتخابی نقشوں کو دوبارہ ترتیب دینے کے لیے تیزی سے اقدامات شروع کردیے ہیں، بعض ریاستوں میں یہ عمل محض چند دنوں کے اندر شروع کیا گیا۔
مظاہرین اور شہری حقوق کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ووٹ کے حق اور مساوی سیاسی نمائندگی کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھنا ضروری ہے۔