Pakistan

لاہور ہائیکورٹ میں مقدمات کی سماعت، فیصلے اور تقریبات

رپورٹ: مبشرحسن

لاہور ہائیکورٹ بار میں وکلاء رہنماؤں کی مشترکہ پریس کانفرنس، سربراہ پروفیشنل گروپ سینیٹر حامد خان نے کہا عدالتی نظام مکمل تباہ کرکے رکھ دیا گیا ہے،آئینی نظام فیل نہیں ہوا بلکہ جعلی نظام ناکام ہوا ہے،فارم 47 کی حکومت مکمل ناکام ہو چکی ہے،ملک کو تجربہ گاہ بنا دیا ہے پاکستان سے یہ کھلواڑ برداشت نہیں،ضرورت اس امر کی ہے ملک میں فوری نئے الیکشن کروائے جائیں،ہم وکلاء نے حق سچ کا جھنڈا بلند کیا ہوا ہے،وکلا آئین ،عدلیہ کی ازادی اور رول آف لا کے لئے کام کرتے ہیں،ملک صوبوں کی فیڈریشن ہے جس بنا پر ملک کا قیام عمل میں لایا گیا،صوبے نہ ہوتے تو پاکستان کا قیام عمل میں نہ اتا،آئین کے تحت صرف صوبوں کی حدود تبدیل ہو سکتی ہے،حکمران صوبوں کو توڑنے کی سازش کر رہے ہیں،صوبوں کی اپنی پہچان آور تاریخ ہے جسکو حکمران ختم کرنا چاہتے ہیں،انڈین آئین کے تحت صوبے بن سکتے ہیںلیکن پاکستان کے آئین میں اسکی کوئی گنجائش نہیں،صوبوں کی تقسیم سے فیڈریشن کا وجود ختم ہو جائے گا،

صدر لاہور بار ایسوسی ایشن عرفان حیات باجوہ نے کہا کہ پاکستان پر مسلط حکمرانوں نے اپنے مقاصد کے لئے آئین میں 26 ویں اور 27 ویں ترامیم کیں، موجودہ حکمرانوں کو آئین میں ترامیم کا کوئی اختیار نہیں،یہ حکومت فارم 47 کی پیداوار ہیں،اس حکومت کو صوبے بنانے کا بھی قانونی آئینی اختیار نہیں، 26 کروڑ عوام نے ان خود ساختہ ترامیم کو مسترد کر دیا،ملک کی سالمیت کے لئے ہونے والی ترامیم کو ماننے کو تیار ہیں،ضرورت اس امر کی کہ صوبوں کو فعال کرنے لئے اقدامات کئے جائیں، المیہ یہ ہے ممبران اسمبلی کو لالچ دے کر خود ساختہ ترامیم کی گئیں،حکومت من پسند ترامیم نہ کرے یہ نہ ہو عوام خانہ جنگی کے لئے اٹھ کھڑے ہوں، صوبوں کی تقسیم ملک توڑنے کے مترادف ہوگا،

ممبران پنجاب بار کونسل شہزاد احمد کاکڑ اور اویس نے کہا ملک میں غیر آئینی ترامیم لائی جا رہی ہیں،پنجاب بارکونسل حکمران ٹولے کی مزید صوبے بنانے کی قرارداد کو تسلیم نہیں کرتی ہے،ہم مزید صوبے بنانے کی سپورٹ نہیں کرتے،ملک کے عوام نے صوبے بنانے کے اقدام کو مسترد کر دیا،ہم وکلا کی ایکشن کمیٹی بنا کر اگلا لائحہ عمل تیار کریں گے،وکلا ءصوبوں کی تقسیم مسترد کرتے ہیں،حکمرانوں کو چاہئے تھا کہ وہ پہلے دیکھتے کہ گڈ گورنس کر رہی ہے،صوبوں میں اختیارات کی تقسیم کی بجائے گڈ گورنس کا سوچنا چاہئے،عوام کو نچلی سطح پر حقوق دینا ہوں گے،
صوبوں کی تقسیم ملک کے مسائل کا منصفانہ حل نہیں، صوبے بنانے کی بجائے ضلعوں اور ڈویژنز کو منصفانہ اختیارات دیں۔

لاہورہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے پلاٹ کا قبضہ نہ ملنے کیخلاف ملازم واپڈا کوآپریٹو ہاوسنگ سوسائٹی کی درخواست پررجسٹرار کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹیز کو اپنے فیصلے پر عملدرآمد کروانے کا حکم دیدیا،عدالت نے حکومت پنجاب کے وکیل پیش نہ ہونے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ بظاہر لگتا ہے کہ حکومت سو رہی ہے،پلاٹ لینا ملازم کا قانونی حق ہے ،درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ واپڈا میٹریل ٹیسٹنگ ایجنسی نے میرے پلاٹ پر قبضہ کرلیا ہے ۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد امجد پرویز نے کینیڈا امیگریشن کیلئے رقم ہڑپ کرنے والےملزم عبدالرشید کی درخواست ضمانت خارج کردی، عدالت نے ملزم کے کم عمر بیٹے امیر حمزہ کی ضمانت منظور کرلی، ملزمان کے خلاف بیرون ملک کینیڈا بھجوانے کا جھانسہ دے کر پینتیس لاکھ روپے بٹورنے کا مقدمہ درج ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس منور اقبال دوگل نےعمرہ پر جانے والے نوجوان کو آف لوڈ کرنے کے خلاف درخواست پر ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے کو تین روز میں درخواست پر فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا ، سرکاری وکیل نے موقف اپنایا کہ درخواست گزار کے پاس سعودی عرب میں رہائش کی دستاویزات نہیں ہیں، رہائش کی تصدیق نہ ہونے پر آف لوڈ کیا، درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ درخواست گزار کے چچا زاد بھائی کا سعودی اقامہ دستاویزات کے ساتھ منسلک ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس منور اقبال دوگل نے تعلیم کیلئے بیرون ملک جانے والے طالبعلم کو آف لوڈ کرنے کیخلاف درخواست پر ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے کو تین روز میں فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا ، درخواست گزار فیضان ریاض نے موقف اپنایا کہ یونیورسٹی قوانین کے مطابق دس سال تک تعلیم کے لیے جایا جا سکتا ہے،وکیل ایف آئی اے نےموقف اپنایا کہ چھ سال تاخیر سےملائیشیا یونیورسٹی میں جانے پر آف لوڈ کیا گیا ۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس تنویر احمد شیخ نے تین ایم پی او کے تحت تیس روزہ نظر بندی کے خلاف درخواست پر ڈپٹی کمشنر فیصل آباد سے جواب طلب کرلیا، درخواست گزار معین الدین کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ڈپٹی کمشنر نے بارہ ربیع الاول میں نقص امن کو وجہ بنا نظر بندی کے غلط احکامات جاری کئے، استدعا ہے کہ عدالت نظر بندی کے احکامات کالعدم قرار دے کر رہا کرنے کا حکم دے۔

لاہور ہائیکورٹ میں دو پوتیوں کی بازیابی سےمتعلق درخواست پر سماعت، جسٹس تنویراحمد شیخ نے بازیاب بچی کا طبی معائنہ کرانے کا حکم دے دیا جبکہ دوسری 12سالہ بچی فروا کو بازیاب کراکے 3 ستمبر کو عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کردی، درخواستگزار نوشیرخان نے موقف اپنایا کہ پوتی فرزانہ کواس کی سوتیلی ماں ماجدہ نےمبینہ طور پردولاکھ روپے کے عوض شفیق نامی شخص کےحوالے کردیا، فرزانہ پر تشدد کیا گیا، اس کے بال بھی کاٹے گئے جبکہ دوسری پوتی 12 سالہ فروا بھی مبینہ طور پر ملزمان کے پاس ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امیر عجم ملک نے بچے کو باپ سے لیکر ماں کے حوالے کردیا ، بچے نے ماں کے ساتھ جانے سے انکار کرتے ہوئے رونا شروع کردیا ،ماموں روتے ہوئے بچے کو گود میں اٹھا کر روانہ ہوگیا۔

جوڈیشل مجسٹریٹ ماڈل ٹاؤن کچہری نے پولیس افسر آفس کے باہر ٹک ٹاکرز کے جھگڑے کے کیس میں ملزمان کو ضمانت پر رہا کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا ، عدالت نےپچاس ہزار کے ضمانتی مچلکے جمع کروانیکا حکم دیدیا۔

مسلم لیگ ( ن) لائرز فورم پنجاب کے زیر اہتمام رانا مشہود احمد خان ایڈووکیٹ کی سالگرہ کا کیک کاٹا گیا ، تقریب میں صدر مسلم لیگ ن لائرز فورم پنجاب رانا ظفر اقبال ایڈووکیٹ،سینیٹر نائب صدر پنجاب ناصر چوھان ایڈووکیٹ اور ترجمان مسلم لیگ ن لائرز فورم پنجاب فائزہ عباسی ایڈووکیٹ اور خواتین وکلاء کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور رانا مشہود احمد خان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ان کی درازی عمر کے لئے دعا کی،فائزہ عباسی ایڈووکیٹ نے کہا کہ رانا مشہود احمد خان پارٹی کا اثاثہ ھیں اور پاکستان کی یوتھ اور خصوصی طور پر وکلاء کے لئے ان کی گراں قدر خدمات ہیں،رانا مشہود احمد خان نے وکلاء کو سرکاری محکموں میں لیگل ایڈوائزری اور پینل میں شامل کروانے کے لئے خصوصی کاوشیں کی ہیں اور وکلاء کمیونٹی ان کے ان اقدامات پر ان کا شکر یہ ادا کرتی ہے اور قائد مسلم لیگ (ن) میاں نواز شریف اور وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف کی بھی شکر گزار ہے کہ انہوں نے رانا مشہود احمد خان کو کوآرڈینیٹر وزیراعظم پاکستان یوتھ پروگرام بنایا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے