ذیابیطس کے باعث پاؤں یا ٹانگ کٹنے کے بعد اموات کی شرح بعض کینسرز سے بھی زیادہ، ماہرین

کراچی: ذیابیطس اور اس کی پیچیدگیوں سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ذیابیطس کے باعث پاؤں میں ہونے والے زخم اور اس کے نتیجے میں پاؤں یا ٹانگ کاٹنے کی نوبت صرف معذوری کا مسئلہ نہیں بلکہ جان لیوا بھی ہوسکتی ہے۔
کراچی میں منعقدہ ’انٹرنیشنل کانفرنس آن ڈائبیٹیز اینڈ ڈائبیٹک فُٹ‘ میں ماہرین نے ذیابیطس کے باعث پاؤں کے زخم، اعصابی پیچیدگیوں، خون کی شریانوں کی بیماریوں اور ایمپیوٹیشن سے متعلق تشویشناک اعدادوشمار پیش کیے۔




معروف اینڈوواسکولر ماہر ڈاکٹر فہد طارق نے بتایا کہ ذیابیطس کے باعث پاؤں کے زخم کا شکار مریضوں میں پانچ سال کے اندر اموات کی شرح بعض کینسرز، بشمول بریسٹ کینسر، کے مقابلے میں بھی زیادہ ہے۔
ان کے مطابق معمولی سطح پر پاؤں کا کچھ حصہ کاٹے جانے کے بعد پانچ سال میں اموات کی شرح 40 فیصد سے تجاوز کر جاتی ہے، جبکہ بڑی سطح پر پاؤں یا ٹانگ کاٹنے کے بعد نصف سے زائد مریض پانچ سال کے اندر انتقال کر جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس بلند شرح اموات کی وجہ صرف پاؤں کا زخم یا انفیکشن نہیں بلکہ ایسے مریضوں میں پیریفرل آرٹیریل ڈیزیز (PAD)، امراض قلب اور خون کی شریانوں کی دیگر سنگین بیماریاں بھی عام ہوتی ہیں، جو ہارٹ اٹیک، فالج اور قبل از وقت موت کے خطرے کو بڑھاتی ہیں۔
بقائی انسٹی ٹیوٹ آف ڈائبیٹالوجی اینڈ اینڈوکرائنولوجی (BIDE) کے پروفیسر زاہد میاں نے بتایا کہ پاکستان میں ذیابیطس کی پیچیدگیوں کے باعث سالانہ تقریباً 3 لاکھ افراد کے پاؤں یا ٹانگیں کاٹنے کی نوبت آتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں اوسطاً ہر گھنٹے 34 افراد ذیابیطس کے باعث اپنے پاؤں یا ٹانگ سے محروم ہو رہے ہیں۔
پروفیسر زاہد میاں کے مطابق پاؤں یا ٹانگ گنوانے والے تقریباً 50 فیصد مریض تین سال جبکہ 70 فیصد مریض پانچ سال کے اندر انتقال کر جاتے ہیں۔
کانفرنس میں پیش کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں 20 سے 79 سال کی عمر کے افراد میں ذیابیطس کی شرح 31.4 فیصد ہے، جبکہ ذیابیطس کے مریضوں میں پاؤں کے زخموں کی شرح تقریباً 18 فیصد ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں ذیابیطس کے 43.2 فیصد مریض ڈائبیٹک پیریفرل نیوروپیتھی کا شکار ہیں۔ نئے تشخیص شدہ مریضوں میں یہ شرح 26.5 فیصد جبکہ پانچ سال سے زائد عرصے سے ذیابیطس کے شکار افراد میں 56.8 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق پیریفرل نیوروپیتھی کے باعث پاؤں کی حس کم یا ختم ہوسکتی ہے، جس کی وجہ سے مریض کو چوٹ، چھالے یا زخم کا بروقت احساس نہیں ہوتا۔
اگر ایسے مریض کو پیریفرل آرٹیریل ڈیزیز بھی لاحق ہو تو پاؤں میں خون کی ناکافی فراہمی کے باعث زخم مندمل ہونے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ نتیجتاً انفیکشن، گینگرین اور بالآخر پاؤں یا ٹانگ کاٹنے کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔
پروفیسر زاہد میاں نے بتایا کہ پاکستان میں 30 لاکھ سے زائد افراد ذیابیطس کے باعث ہونے والے پاؤں کے زخموں کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق بروقت تشخیص، پاؤں کی باقاعدہ دیکھ بھال، انفیکشن کا فوری علاج اور خون کی شریانوں میں روانی بحال کرکے بڑی تعداد میں مریضوں کو ایمپیوٹیشن سے بچایا جا سکتا ہے۔
پروفیسر زاہد میاں نے ذیابیطس کے باعث پاؤں کے زخموں میں مبتلا مریضوں کے لیے 24 گھنٹے ہیلپ لائن 03306666774 شروع کرنے کا اعلان بھی کیا۔
انہوں نے بتایا کہ پاؤں میں زخم، السر یا انفیکشن کی صورت میں مریض فوری طبی رہنمائی حاصل کرسکیں گے تاکہ علاج میں تاخیر کے باعث پاؤں یا ٹانگ کاٹنے کی نوبت نہ آئے۔
انہوں نے ذیابیطس کے باعث پاؤں کے زخموں کی روک تھام اور علاج کے لیے ملک کا پہلا دو سالہ پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ شروع کرنے کا بھی اعلان کیا، جس کا پہلا بیچ جنوری 2027 میں شروع ہوگا۔
پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن کے بانی صدر پروفیسر جاوید اکرم نے کہا کہ پاکستان کو ذیابیطس کے علاج کے ساتھ ساتھ اس کی پیچیدگیوں کی روک تھام پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ ان کے مطابق بے قابو ذیابیطس امراض قلب، گردوں کی ناکامی، نابینا پن، ہارٹ اٹیک، فالج اور پاؤں یا ٹانگ کاٹنے سمیت متعدد سنگین پیچیدگیوں کا سبب بن رہی ہے۔
کانفرنس کی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر محمد سیف الحق نے کہا کہ ذیابیطس کے مریض کے پاؤں پر بظاہر معمولی زخم بھی بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں شدید انفیکشن اور گینگرین میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مریضوں میں آگاہی، بروقت علاج اور مختلف شعبوں کے ماہرین پر مشتمل مشترکہ طبی نظام کے ذریعے ہزاروں پاؤں اور زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔