column and article

خدمت کا دوسرا نام ڈاکٹر عارف افتخار

میری بات/روہیل اکبر

سر گنگا رام ہسپتال لاہور صرف اینٹوں، پتھروں، وارڈز، آپریشن تھیٹروں اور مشینوں کا نام نہیں۔ یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہر روز ہزاروں امیدیں جنم لیتی ہیں، جہاں کسی ماں کی آنکھ اپنے بچے کی زندگی کے لیے دعا کرتی ہے، کسی باپ کی نظریں ڈاکٹر کے چہرے پر جواب تلاش کرتی ہیں اور کسی غریب مریض کے لیے سسٹرز کی ایک مسکراہٹ بھی دوا سے کم نہیں ہوتی۔ ایسے بڑے اور مصروف سرکاری ہسپتال کو چلانا بلاشبہ ایک مشکل ذمہ داری ہے اسی مشکل ذمہ داری کو نبھانے والوں میں ڈاکٹر عارف افتخار کا نام نمایاں ہے ڈاکٹر عارف افتخار کو جولائی 2025 میں سر گنگا رام ہسپتال لاہور کا میڈیکل سپرنٹنڈنٹ مقرر کیا گیا۔

اس سے پہلے وہ اسی ہسپتال میں پرنسپل میڈیکل آفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے یہ امر اس بات کا عکاس ہے کہ محکمہ صحت نے ان کے تجربے، صلاحیت اور ہسپتال کے انتظامی معاملات سے واقفیت کو اہمیت دی کسی بھی سرکاری ہسپتال کا ایم ایس ہونا کوئی آسان کام نہیں یہاں صرف مریض نہیں آتے، مسائل بھی ساتھ آتے ہیں کہیں ادویات کا معاملہ، کہیں صفائی کا مسئلہ، کہیں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف کی ضروریات، کہیں مریضوں کے لواحقین کی شکایات اور کہیں محدود وسائل میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے کا چیلنج۔

ایسے ماحول میں ایک منتظم کے لیے صرف ڈاکٹر ہونا کافی نہیں، اسے ایک اچھا منتظم، اچھا فیصلہ ساز اور سب سے بڑھ کر ایک حساس انسان بھی ہونا چاہیے۔ڈاکٹر عارف افتخار کے حوالے سے جو چیز قابلِ ذکر ہے وہ یہ ہے کہ وہ ہسپتال کے انتظامی معاملات کو محض دفتری فائلوں تک محدود رکھنے کے بجائے عملی سطح پر دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک بڑے سرکاری ہسپتال میں بہتری اسی وقت آتی ہے جب انتظامیہ مریض کو مرکزِ نگاہ بنائے۔

جنوری 2026 میں لاہور کے بڑے ٹیچنگ ہسپتالوں میں ادویات کی فراہمی کے حوالے سے محکمہ صحت کے اہم اجلاس میں بھی ڈاکٹر عارف افتخار نے سر گنگا رام ہسپتال کی نمائندگی کی یہ اس بات کی علامت ہے کہ بڑے ہسپتالوں کے انتظامی معاملات میں ان کی ذمہ داری اور شرکت مسلسل موجود ہے سرکاری ہسپتالوں کے بارے میں عمومی طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہاں مریض کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہ تاثر مکمل طور پر غلط بھی نہیں کیونکہ مریضوں کا دباؤ، محدود وسائل اور بڑھتی ہوئی ضروریات اپنی جگہ ایک حقیقت ہیں۔ لیکن اسی حقیقت کے درمیان اگر کوئی ڈاکٹر یا منتظم اپنے حصے کا کام دیانت داری اور ذمہ داری سے کرنے کی کوشش کرے تو اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے ہم اکثر اپنے معاشرے میں برائیوں کو تلاش کرنے میں بہت تیز ہوتے ہیں، لیکن اچھے کام کی تعریف کرنے میں بخل سے کام لیتے ہیں۔ کسی افسر یا ڈاکٹر کی تعریف اس لیے نہیں ہونی چاہیے کہ وہ طاقتور عہدے پر ہے بلکہ اس لیے ہونی چاہیے کہ وہ اپنے منصب کو عوامی خدمت کا ذریعہ بناتا ہے.

ڈاکٹر عارف افتخار کے لیے بھی اصل امتحان یہی ہے کہ وہ سر گنگا رام ہسپتال کو مریض دوست ادارہ بنانے کی کوششوں کو مزید آگے بڑھائیں ہسپتال میں آنے والا مریض کسی افسر سے ملاقات کا خواہش مند نہیں ہوتا، وہ علاج، توجہ، عزت اور بروقت سہولت چاہتا ہے۔ غریب مریض کے لیے یہ چاروں چیزیں کسی نعمت سے کم نہیں ایک اچھے ڈاکٹر کی پہچان صرف اس کی ڈگری نہیں بلکہ مریض کے ساتھ اس کا رویہ بھی ہے، اور ایک اچھے ہسپتال منتظم کی پہچان صرف اس کے دفتر کی فائلیں نہیں بلکہ ہسپتال میں آنے والے مریض کی آسانی ہے۔

سر گنگا رام ہسپتال لاہور ایک تاریخی اور اہم طبی ادارہ ہے۔ اس کے کندھوں پر لاہور اور پنجاب کے عوام کی ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ ایسے ادارے میں انتظامی قیادت کا کردار غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ڈاکٹر عارف افتخار کے لیے یہ موقع بھی ہے اور ذمہ داری بھی کہ وہ اپنے تجربے کو استعمال کرتے ہوئے ہسپتال میں نظم و ضبط، صفائی، ادویات کی دستیابی، مریضوں کی سہولت اور عملے کے بہتر انتظام کو مزید مضبوط کریں۔

ہمیں ایسے ڈاکٹرز اور منتظمین کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جو اپنے منصب کو اختیار نہیں بلکہ امانت سمجھتے ہیں۔ڈاکٹر عارف افتخار نے سر گنگا رام ہسپتال میں آنے والے ہر مریض کے لیے آسانیاں پیدا کی اور ہسپتال کی سب سے بڑی کامیابی نئی عمارت، نئی مشین یا بڑی فائل نہیں ہوتی بلکہ اصل کامیابی وہ لمحہ ہے جب ایک پریشان مریض ہسپتال سے صحت یاب ہو کر اپنے گھر واپس جائے اور اس کے چہرے پر شکرگزاری کی مسکراہٹ ہواور یہی مسکراہٹ کسی بھی ڈاکٹر اور ہسپتال منتظم کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے