sci&techWorld

برلن حکومت سے سائبر حملے کے بعد 20 لاکھ یورو تاوان کا مطالبہ

برلن: جرمنی کے دارالحکومت برلن کی شہری حکومت کو سائبر حملے اور مبینہ ڈیٹا چوری کے بعد بلیک میل کیا جا رہا ہے، تاہم میئر کائی ویگنر نے ہیکرز کو کسی بھی قسم کا تاوان دینے سے انکار کردیا ہے۔

جرمن ہفت روزہ جریدے ’’ڈیر اسپیگل‘‘ کے مطابق بلیک میلرز نے برلن حکومت سے 30 بٹ کوائنز کا مطالبہ کیا ہے، جن کی مالیت تقریباً 20 لاکھ یورو بنتی ہے۔ حکام کو شبہ ہے کہ حملے میں ’’رائسیڈا‘‘ نامی ہیکر گروپ ملوث ہے۔

برلن کے سبکدوش ہونے والے میئر کائی ویگنر نے کہا کہ شہر ایک سنگین جرم کا نشانہ بنا ہے، تاہم برلن بلیک میلنگ کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا۔ ان کے مطابق تاوان کا مطالبہ جمعرات کی شام موصول ہوا۔

4 اگست کو ہونے والے سائبر حملے کے باعث برلن کے متعدد انتظامی محکمے، بالخصوص ہاؤسنگ اور ماحولیات سے متعلق ادارے، تقریباً ایک ہفتے تک اپنے نیٹ ورک سے منقطع رہے۔ اس دوران ہاؤسنگ بینیفٹس اور دیگر ادائیگیوں سے متعلق درخواستوں پر کارروائی بھی متاثر ہوئی۔

حکام نے ابتدا میں کہا تھا کہ حساس ڈیٹا چوری نہیں ہوا، تاہم بعد میں اعتراف کیا گیا کہ شہریوں کا ذاتی ڈیٹا ممکنہ طور پر متاثر ہوا ہے۔

ڈیر اسپیگل کے مطابق ہیکر گروپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایک ہفتے کے اندر مطلوبہ رقم ادا نہ کی گئی تو مبینہ طور پر چوری کیا گیا ڈیٹا منظرعام پر لایا جائے گا۔

میئر کائی ویگنر کے مطابق جرمن سکیورٹی ادارے حملے میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں جبکہ یہ بھی معلوم کیا جا رہا ہے کہ کون سا ڈیٹا چوری ہوا۔

رائسیڈا گروپ اس سے قبل 2023 میں برٹش لائبریری پر ہونے والے رینسم ویئر حملے کی ذمہ داری بھی قبول کرچکا ہے۔ لائبریری کی جانب سے تاوان ادا کرنے سے انکار کے بعد گروپ نے ڈارک ویب پر لاکھوں فائلیں جاری کردی تھیں، جن میں صارفین اور عملے کا ذاتی ڈیٹا بھی شامل تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے