Business

زیتون کی کاشت میں تیزی، پاکستان کا 4 ارب ڈالر کا درآمدی بل کم کرنے کا منصوبہ

اسلام آباد: پاکستان نے خوردنی تیل کی درآمدات کم کرنے اور زیتون کے تیل کی مقامی پیداوار و برآمدات بڑھانے کے لیے زیتون کی کاشت میں تیزی کردی ہے۔ ملک میں زیتون کے درختوں کی تعداد 2016 کے تقریباً 5 لاکھ سے بڑھ کر 70 لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے۔

حکام کے مطابق پوٹھوہار، شمال مغربی علاقوں اور بلوچستان کے بعض حصوں میں زمین اور موسمی حالات زیتون کی کاشت کے لیے موزوں ہیں۔ اس وقت تقریباً 60 ہزار ایکڑ رقبے پر زیتون کاشت کیا جا رہا ہے جبکہ آئندہ تین برس میں مزید 15 ہزار ایکڑ رقبے پر کاشت کا منصوبہ ہے۔

زیتون کی تجارتی کاشت کے منصوبے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد طارق کے مطابق حکومتی اقدامات کے نتیجے میں گزشتہ چار سے پانچ برس کے دوران زیتون کے تیل کی درآمد تقریباً نصف رہ گئی ہے، جو 4 لاکھ ٹن سے کم ہو کر تقریباً 2 لاکھ ٹن ہوگئی۔ مالی سال 2024-25 میں درآمدی اخراجات بھی 1 کروڑ 40 لاکھ ڈالر سے کم ہو کر تقریباً 90 لاکھ ڈالر رہ گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ رفتار برقرار رہی تو آئندہ تین سے چار برس میں مقامی پیداوار زیتون کے تیل کی درآمدات کا بڑا حصہ تبدیل کرسکتی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ ماہ نیشنل اولیو ویلیو چین پالیسی کا اجرا کیا، جس کا مقصد زیتون کی کاشت سے لے کر پروسیسنگ، معیار، برانڈنگ اور برآمدات تک پوری صنعت کو فروغ دینا ہے۔ حکومت نے 100 نوجوان زرعی گریجویٹس کو اٹلی بھیج کر زیتون کی کاشت، پروسیسنگ، معیار اور مارکیٹنگ کی جدید تربیت دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں زیتون کی تجارتی کاشت کی تاریخ دو دہائیوں سے زیادہ پرانی ہے، تاہم حالیہ برسوں میں سرکاری شجرکاری پروگراموں کے باعث اس میں نمایاں تیزی آئی ہے۔ پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر اور سندھ کے پہاڑی علاقوں میں جنگلی زیتون کے درخت پہلے سے موجود ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان صرف درآمدی بل کم کرنے تک محدود رہنے کے بجائے عالمی زیتون کے تیل کی منڈی میں بھی نمایاں مقام حاصل کرسکتا ہے۔ صنعت سے وابستہ افراد کے مطابق ملک میں زیتون کے درختوں کی تعداد کو کروڑوں تک بڑھانے اور وسیع دستیاب رقبے کو استعمال کرنے سے اربوں ڈالر کی عالمی مارکیٹ میں پاکستان کا حصہ بڑھایا جاسکتا ہے۔

پاکستانی ماہرین کے مطابق مقامی طور پر تیار ہونے والا ایکسٹرا ورجن اولیو آئل معیار، کم تیزابیت اور پولی فینول کی مقدار کے لحاظ سے عالمی مارکیٹ میں مسابقت کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے مستقبل میں برآمدی صنعت کے فروغ کے امکانات روشن ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے