پاکستانی زرعی و غذائی برآمدات، سعودی مارکیٹ میں 3 ارب ڈالر کا ہدف

کراچی: پاکستان اور سعودی عرب نے آئندہ دو سال میں پاکستانی زرعی اور غذائی مصنوعات کی سعودی عرب کو برآمدات 3 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کرلیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان زرعی تعاون اور غذائی تحفظ کے فروغ کے لیے 26 سے 28 اگست کو سعودی وزیر ماحولیات، پانی و زراعت عبدالرحمن الفضلی کی قیادت میں وفد نے اسلام آباد کا دورہ کیا۔
مذاکرات میں چاول، سرخ گوشت، پھل اور فروٹ کنسنٹریٹس، سبز چارہ اور پانی کی بچت والی زرعی ٹیکنالوجیز کو ترجیحی شعبے قرار دیا گیا۔ سعودی عرب نے پاکستانی مصنوعات کی درآمد بڑھانے اور نجی شعبے کے درمیان سرمایہ کاری و کاروباری روابط مضبوط بنانے میں دلچسپی ظاہر کی۔
پاکستان نے 2025 میں سعودی عرب کو تقریباً ایک لاکھ 69 ہزار ٹن چاول، 16 کروڑ 30 لاکھ ڈالر مالیت کے برآمد کیے۔ رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق سعودی عرب سالانہ تقریباً 12 لاکھ ٹن باسمتی چاول درآمد کرتا ہے، جس میں پاکستان کا حصہ 9.6 فیصد ہے اور اسے 20 فیصد تک بڑھانے کا ہدف ہے۔ رواں مالی سال تقریباً 3 لاکھ 25 ہزار ٹن چاول سعودی عرب برآمد کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
سعودی عرب سالانہ تقریباً 30 ہزار ٹن پاکستانی سرخ گوشت بھی درآمد کرتا ہے، جس کی مالیت تقریباً 16 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ہے۔ سعودی فریق نے گوشت کی درآمد بتدریج دگنی کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
سبز چارے کی برآمد میں بھی امکانات
پاکستانی چارہ برآمد کنندگان نے بھی سعودی مارکیٹ میں وسیع مواقع کی نشاندہی کی ہے۔ گزشتہ مالی سال پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو 5 لاکھ 61 ہزار 272 ٹن جانوروں کا چارہ برآمد کیا، جبکہ سعودی عرب کو صرف ایک ہزار 370 ٹن برآمد ہوا۔
پاکستان ہی ایسوسی ایشن کے مطابق سعودی عرب الفالفا سمیت سبز چارے کی درآمد میں دلچسپی رکھتا ہے، تاہم زیادہ مال برداری کے اخراجات اور مارکیٹ کی تجارتی افادیت اس شعبے میں اہم عوامل ہوں گے۔
پھلوں اور فروٹ کنسنٹریٹس کی مارکیٹ میں بڑا خلا
پاکستانی پھل و سبزی پروسیسرز نے بھی سعودی مارکیٹ میں بڑی گنجائش کی نشاندہی کی ہے۔ سعودی عرب نے 2025 میں عالمی منڈی سے تقریباً 44 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے پھل و سبزی کنسنٹریٹس درآمد کیے، جبکہ پاکستان کی برآمدات صرف 5 لاکھ 25 ہزار ڈالر رہیں۔
پاکستان سالانہ تقریباً 68 لاکھ ٹن مختلف اہم پھل پیدا کرتا ہے، تاہم زیادہ ٹیرف، سعودی خریداروں سے براہ راست روابط کی کمی اور بین الاقوامی معیار کی سرٹیفکیشن کو تسلیم کرنے سے متعلق مسائل برآمدات میں رکاوٹ ہیں۔ دونوں ممالک نے کاروباری روابط بڑھانے اور معیار کی سرٹیفکیشن کے باہمی اعتراف کی جانب پیش رفت پر اتفاق کیا ہے۔
3 ارب ڈالر کا ہدف بڑا چیلنج
برآمد کنندگان کے مطابق سعودی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کو بھارت سمیت سخت عالمی مسابقت کا سامنا ہے، خصوصاً باسمتی چاول میں قیمت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 3 ارب ڈالر کا ہدف مثبت سمت میں قدم ہے، تاہم موجودہ برآمدی حجم کے مقابلے میں اسے حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔
حکام کے مطابق سعودی فوڈ شو 2026 اور فوڈ ایگ پاکستان 2026 سمیت آئندہ نمائشیں پاکستانی برآمد کنندگان اور سعودی خریداروں کو قریب لانے اور کاروباری معاہدوں میں تبدیل کرنے کے لیے اہم پلیٹ فارم ثابت ہوں گی۔