column and article

بھیڑ اور بھیڑ چال

میری بات/ روہیل اکبر

اللہ تعالیٰ نے دنیا میں بے شمار جانور پیدا کیے اور ہر جانور کو اپنی اپنی خصوصیات سے نوازا کوئی شیر کی طرح بہادر، کوئی لومڑی کی طرح ہوشیار اور چالاک، کوئی گدھے کی طرح سیدھا سادا اور بوجھ اٹھانے میں مصروف رہتا ہے اور کوئی بلی کی طرح موقع شناس لیکن ان سب میں بھیڑ ایک ایسی مخلوق ہے جس کی اپنی ہی ایک دلچسپ دنیا ہے بھیڑ بظاہر شریف النفس، معصوم اور قدرے ڈرپوک جانور ہے مگر اس کی ایک عجیب خوبی بھی ہے اگر ایک بھیڑ کسی سمت چل پڑے تو باقی بھیڑیں بھی عموماً اسی کے پیچھے چل پڑتی ہیں نہ کوئی نقشہ دیکھتی ہیں نہ منزل پوچھتی ہیں اور نہ یہ معلوم کرنے کی زحمت کرتی ہیں کہ آگے جا کر راستہ ختم بھی ہوتا ہے یا نہیں اسی رویے کو ہم انسانوں کی دنیا میں "بھیڑ چال” کہتے ہیں یعنی ایک شخص نے قدم اٹھایا باقی سب نے بھی اس کے پیچھے چلنا شروع کردیا نہ سوچ، نہ سوال اور نہ ہی تحقیق بس یہ اطمینان کہ سب جا رہے ہیں ہم بھی چلتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں بھی جانوروں کی بعض خصوصیات سے مشابہت رکھنے والے انسان کثرت سے پائے جاتے ہیں کچھ شیر کی طرح بہادر، کچھ لومڑی کی طرح ذہین اور کچھ ایسے بھی جو ہر معاملے میں بھیڑ چال کا حصہ بننے کو ہی محفوظ راستہ سمجھتے ہیں اور پھر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بھیڑ چال کو دیکھ کر اس پر تبصرہ بھی کرتے ہیں مگر خود بھیڑوں کے درمیان رہتے رہتے کبھی کبھار اسی قافلے کا حصہ بن جاتے ہیں ہمارے ایک دوست بھی بھیڑوں کے اسی دلچسپ فلسفے سے کسی نہ کسی حد تک واقف ہیں جو پڑھے لکھے، ذہین اور قابل انسان ہیں حال ہی میں ایک سرکاری محکمے کے اعلیٰ عہدے سے ریٹائر ہوئے ملازمت کے دوران اپنے کام کے حوالے سے خاصے متحرک اور پُرجوش رہے ان کا انداز یہ تھا کہ کسی معاملے پر رائے قائم کرلیں تو اسے دلائل کے ساتھ بیان کرنے میں دیر نہیں لگاتے تھے دفتر ہو یا دوستوں کی محفل، گفتگو میں ان کا جوش نمایاں رہتا کبھی کبھی محسوس ہوتا کہ سامنے کوئی عام دوست نہیں بلکہ ایک مکمل ٹی وی ٹاک شو موجود ہے۔
سوال بھی خود۔
جواب بھی خود۔
وضاحت بھی خود۔
اور نتیجہ بھی خود!

دوستوں کی محفل میں بھی ان کا یہی انداز تھا کسی موضوع پر گفتگو شروع ہوتی تو وہ پورے جوش سے اپنا مؤقف بیان کرتے اور بعض اوقات دوسروں کو اپنی بات مکمل کرنے کے لئے انتظار بھی کرنا پڑتا دوست بھی آخر دوست ہوتے ہیں جنہوں نے بھی ایک راستہ نکال رکھا تھا اگر بحث بہت لمبی ہونے لگتی تو کوئی چائے کا کپ اٹھا لیتا، کوئی موبائل دیکھنے لگتا اور کوئی اچانک یاد کرتا کہ مجھے تو ایک ضروری کام ہےحالانکہ ضروری کام گھر جانے کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا تھا۔ہمارے دوست کی شخصیت کا ایک خوبصورت پہلو بھی تھاکہ ان کا دسترخوان خاصا وسیع تھا دوستوں کو کھانے پر بلانا، گھر سے کھانا لانا اور محفل میں سب کے ساتھ بانٹ کر کھانا ان کی عادات میں شامل تھا

مذہب کے موضوع پر بھی ان کی گفتگو خاصی دلچسپ اور مدلل ہوتی وقت یوں ہی گزرتا رہافائلیں بدلتی رہیں حکومتیں آتی جاتی رہیں افسران آتے رہے اور ریٹائر ہوتے رہے اور بالآخر ہمارے دوست بھی ساٹھ برس کی عمر میں سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوگئے لیکن انہوں نے ریٹائرمنٹ کو آرام کا نام دینے کے بجائے اسے مصروفیت کا نیا موقع سمجھا انہوں نے کاروبار شروع کرلیااور کاروبار بھی ایسا کہ جس نے ان کی شخصیت اور ماضی کے درمیان ایک دلچسپ پل بنا دیاانہوں نے بھیڑیں پالنا شروع کردی ہیں یہ خبر دوستوں تک پہنچی تو سب نے اپنے اپنے انداز میں تبصرہ کیا کسی نے کہا یہ بہترین کاروبار ہے کسی نے کہا ریٹائرمنٹ کے بعد مصروف رہنے کا اچھا طریقہ ہے اور کسی نے زیرلب کہا آخرکار صاحب کو اپنی پسند کا شعبہ مل ہی گیا۔

ایک روز چند دوست ان کے فارم ہاؤس پہنچے تو میرے دوست نے حسب معمول خندہ پیشانی سے استقبال کیا فارم پر بھیڑیں ادھر ادھر گھوم رہی تھیں۔ کوئی گھاس کھا رہی تھی، کوئی آرام کررہی تھی اور کچھ ایسی بھی تھیں جو ایک دوسرے کے پیچھے چل رہی تھیں ایک دوست نے میرے دوست سے کہا یہ تو بالکل ہمارے معاشرے جیسا منظر ہے ایک چل رہی ہے اور باقی سب اس کے پیچھے انہوں نے مسکرا کر کہایہ بھیڑ چال ہے فرق صرف اتنا ہے کہ انسانوں میں بھیڑ چال کبھی فائلوں میں نظر آتی ہے اور کبھی اجلاسوں میں ۔بھیڑ چال پر مجھے انکا سابق محکمہ بھی یاد آگیا میرے دوست جس محکمے سے وابستہ رہے اس کے بارے میں اکثر یہ تاثر سامنے آتا رہا ہے کہ وہاں بعض معاملات میں بھیڑ چال کا عنصر کچھ زیادہ ہی نمایاں ہے ایک طرف فیصلے ہوتے ہیں اور دوسری طرف بہت سے لوگ ان فیصلوں کو سوال اٹھائے بغیر آگے بڑھاتے چلے جاتے ہیں حالانکہ ایک اچھے انتظام میں ضروری ہے کہ افسران صرف احکامات پر عمل کرنے والے نہ ہوں بلکہ اپنی پیشہ ورانہ رائے بھی دیں سوال اٹھائیں متبادل تجویز کریں اور اگر کسی فیصلے میں بہتری کی گنجائش ہو تو اسے سامنے لائیں بعض دوسرے صوبوں میں اسی متعلقہ محکمہ کے انتظامی ڈھانچے میں یہ روایت زیادہ واضح نظر آتی ہے کہ محکمے کا سربراہ اسی شعبے کے تجربہ کار افسران میں سے لیا جاتا ہے جس سے محکمانہ تسلسل، فنی تجربہ اور ادارہ جاتی سمجھ بوجھ برقرار رہتی ہے ہمارے ہاں کبھی کبھی صورتِ حال کچھ مختلف دکھائی دیتی ہے ایک محکمے کا کام کچھ اور جبکہ سربراہ کا تجربہ کسی اور شعبے کا اور پھر ماتحت افسران کا کام یہ رہ جاتا ہے کہ وہ نئے سربراہ کو محکمہ سمجھاتے سمجھاتے اپنی مدتِ ملازمت پوری کرلیں یوں لگتا ہے جیسے بھیڑوں کا ریوڑ ہو اور چرواہا پہلی مرتبہ وہاں آیا ہو بھیڑیں اسے دیکھ رہی ہوں اور چرواہا بھیڑوں کو ایسے میں سب سے بڑا سوال یہی ذہن۔میں آتا ہے کہ آخر راستہ کس کو معلوم ہے؟ یہاں بھیڑ چال کا ایک اور پہلو سامنے آتا ہے اگر ایک افسر کہہ دے کہ یہ کام یوں ہوگا تو باقی سب کہتے ہیں جی بالکل دوسرا کہے گا یہی بہتر ہے تیسرا کہے گا ہم تو پہلے ہی یہی کہہ رہے تھے اور کچھ دیر بعد وہ فیصلہ اتنا مقدس ہوجاتا ہے کہ کسی کو یہ یاد نہیں رہتا کہ پہلی بار یہ خیال آیا کس کے ذہن میں تھا یہی بھیڑ چال ہے لیکن یہ بھی انصاف کی بات ہے کہ ہر محکمے میں تمام لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے اور نہ ہی ہر فیصلہ غلط ہوتا ہے اصل مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں سوال کرنے، اختلاف کرنے اور بہتر راستہ تجویز کرنے کی روایت کمزور پڑ جائے اپنے دوست کے فارم پر واپس آتے ہیں جہاں ایک عجیب منظر تھا بھیڑیں خاموشی سے گھوم رہی تھیں ایک آگے بڑھتی تو دو تین اس کے پیچھے چل پڑتیں ملاقات کے لیے آئے ہوئے ایک دوست نے کہا کہ کاروبار تو اچھا شروع کیا ہے مگر ایک خطرہ ہے انہوں نے پوچھا وہ کیا؟ دوست نے کہا کہیں یہ بھیڑیں آپ سے بھیڑ چال نہ سیکھ جائیںاگر ایک بھیڑ نے آپ کے پیچھے چلنا شروع کیا اور باقی پورا ریوڑ بھی اسی کے پیچھے چل پڑا تو آپ کو معلوم ہی نہیں ہوگا کہ آپ فارم میں ہیں یا کسی سرکاری اجلاس۔ویسے ریٹائرمنٹ کے بعد بھیڑیں پالنے کا فیصلہ بہت اچھا لگا۔زندگی کے اس مرحلے پر مصروف رہنا اپنی توانائی مثبت کام میں لگانا کچھ آمدن پیدا کرنا اور اپنی پسند کا کاروبار کرنا یقیناً قابلِ تعریف ہے ریٹائرمنٹ کا مطلب یہ نہیں کہ انسان زندگی سے ریٹائر ہوجائے اصل ریٹائرمنٹ تو اس وقت ہوتی ہے جب انسان کے پاس کرنے کو کچھ نہ رہے ہمارے دوست نے کم از کم یہ ثابت کردیا کہ سرکاری فائلیں بند ہوسکتی ہیں مگر زندگی کی فائل بند نہیں ہونی چاہئےاور اب ان کے پاس فائلوں کی جگہ بھیڑیں ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے فائلیں ان کے سامنے خاموش پڑی رہتی تھیں اور اب بھیڑیں خاموشی سے گھاس کھاتی ہیں پہلے کسی معاملے پر اعتراض آئے تو نوٹ لکھا جاتا تھا اب کوئی بھیڑ اعتراض کرے تو شاید صرف”میں میں!”سنائی دیتا ہے پہلے کسی افسر سے اختلاف ہو تو طویل گفتگو ہوتی تھی اب بھیڑ سے اختلاف ہو تو وہ سر ہلا کر آگے بڑھ جاتی ہے اور شاید یہی سکون ہے دوستوں نے میرے دوست سے آخر میں صرف ایک مشورہ دیا کہ بھیڑیں پالیں خوب پالیں اللہ برکت دے مگر ان سے بحث نہ کریں کیونکہ اگر بھیڑوں نے بھی آپ کی پرانی بحث والی عادتیں سیکھ لیں تو پھر مسئلہ ہوگا کل کو ایک بھیڑ سینگ آگے کرکے کھڑی ہوگئی تو آپ کیا کریں گے؟اسے سمجھائیں گے؟اسے دلیل سے قائل کریں گے؟ یا پھر مسکرا کر کہیں گےچلیں یار چھوڑیں آپ بھی کیا یاد کریں گی ویسے ایک بات طے ہے بھیڑ چال صرف بھیڑوں میں نہیں ہوتی انسانوں میں بھی ہوتی ہےفرق صرف یہ ہے کہ بھیڑیں ایک دوسرے کے پیچھے چلتی ہیں اور انسان کبھی کبھی ایک دوسرے کے فیصلوں کے پیچھے۔بھیڑ کم از کم گھاس تک پہنچ جاتی ہےانسانی بھیڑ چال بعض اوقات وہاں پہنچاتی ہے جہاں نہ گھاس ہوتی ہے، نہ سایہ اور نہ ہی راستہ اس لئے ہمیں بھیڑوں سے ایک سبق ضرور سیکھنا چاہئے ریوڑ میں رہیں مگر عقل کو ریوڑ سے باہر نہ نکالیں دوست کے لئے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے فارم میں برکت دے بھیڑوں کی تعداد بڑھائے، کاروبار کوترقی دے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کی بھیڑیں ہمیشہ صحت مند اور خوش رہیں کیونکہ اگر کبھی پورا ریوڑ ایک ساتھ سینگ نیچے کرکے ان کے سامنے کھڑا ہوگیا تو پھر صورتحال خاصی دلچسپ ہوگی کہ ایک طرف مالک دوسری طرف بھیڑیں اور درمیان میں وہی پرانا سوال کہ پہلے سینگ کون پھنسائے گا اور آخر میں ہاتھ کون ملائے گا؟لیکن مجھے یقین ہے کہ ہمارے دوست اب اتنے تجربہ کار ہوچکے ہیں کہ وہ اس مرتبہ بحث کا آغاز نہیں کریں گے وہ خاموشی سے گھاس کی طرف اشارہ کریں گے اور کہیں گے بھئی آپ کھانا کھائیں ہم اپنی زندگی گزارتے ہیں اور شاید یہی زندگی کا بہترین سبق ہے ہر جگہ اپنی بات منوانا ضروری نہیں بعض اوقات سکون سے اپنی راہ چلتے رہنا ہی سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہےخاص طور پر اس وقت جب سامنے بھیڑیں ہوں سینگ اصلی ہوں اور بحث کا کوئی فائدہ نہ ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے