health & Food

آسٹریلیا میں دیوہیکل کٹل فش کی تعداد میں ریکارڈ 97 فیصد کمی

آسٹریلیا کے جنوبی ساحل پر ہر سال ہونے والی دنیا کی سب سے بڑی دیوہیکل کٹل فش (Giant Cuttlefish) کی افزائشِ نسل کی سرگرمی میں اس سال ریکارڈ کمی سامنے آئی ہے، جس نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔

جنوبی آسٹریلیا کے ’کٹل فش کوسٹ‘ پر اس سال افزائشِ نسل کے لیے صرف 1,811 کٹل فش دیکھی گئیں، جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد تقریباً 63 ہزار تھی، یعنی ایک سال کے دوران تعداد میں 97 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

حکام کے مطابق جنوبی آسٹریلیا کے ساحلی علاقوں کو 18 ماہ سے متاثر کرنے والی زہریلی الجی (Toxic Algal Bloom) اس غیر معمولی کمی کی ممکنہ وجہ ہوسکتی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی یہ حتمی طور پر ثابت نہیں ہوا کہ کمی کی واحد وجہ یہی الجی ہے۔

ماہرین کے لیے سب سے زیادہ تشویشناک بات افزائشِ نسل کے دوران انڈوں کی انتہائی کم تعداد ہے۔ عام طور پر اس 8 کلومیٹر طویل ساحلی علاقے میں لاکھوں انڈے موجود ہوتے ہیں، تاہم رواں سال غوطہ خوروں نے صرف 440 انڈے شمار کیے۔

جنوبی آسٹریلیا کے محکمہ ماحولیات و پانی کی نگرانی میں غوطہ خور مینی کاٹز اور ان کی ٹیم نے جولائی میں دو روز کے دوران 8 مرتبہ ایک، ایک گھنٹے کے غوطے لگائے اور چٹانی چٹانوں کے نیچے موجود انڈوں کا جائزہ لیا۔

مینی کاٹز کے مطابق عام حالات میں اس علاقے میں لاکھوں انڈے ہوتے ہیں، لیکن ٹیم نے تقریباً ہر ممکن چٹان کے نیچے تلاش کرنے کے باوجود صرف 440 انڈے دیکھے۔

دیوہیکل کٹل فش کی عمر عموماً 12 سے 18 ماہ ہوتی ہے اور بالغ کٹل فش افزائشِ نسل کے بعد مر جاتی ہیں، اس لیے ہر سال کا افزائشی موسم آئندہ نسل کے لیے انتہائی اہم ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق زہریلی الجی کی افزائش سمندر کے گرم ہونے، سمندری ہیٹ ویوز اور غذائی آلودگی سے متاثر ہوتی ہے، جبکہ موسمیاتی تبدیلی ان عوامل کو مزید بڑھا رہی ہے۔

مینی کاٹز کا کہنا ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران جنوبی آسٹریلیا کے سمندری مسکن شدید متاثر ہوئے ہیں اور کٹل فش کی تعداد میں غیر معمولی کمی اس بات کی علامت ہوسکتی ہے کہ سمندری ماحولیاتی نظام سنگین مشکلات سے دوچار ہے۔

ان کے مطابق اس سال غوطہ خوری کے دوران جتنی کٹل فش نظر آئیں، وہ بھی معمول سے مختلف رویہ اختیار کیے ہوئے تھیں اور چٹانوں کے نیچے چھپ رہی تھیں۔

گریٹ سدرن ریف فاؤنڈیشن کے شریک بانی اسٹیفن اینڈریوز نے دیوہیکل آسٹریلوی کٹل فش کو خطرے سے دوچار انواع میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ زہریلی الجی کا پھیلاؤ اس کمی کی ایک مضبوط ممکنہ وجہ دکھائی دیتا ہے، تاہم دستیاب شواہد سے یہ حتمی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ پوری کمی اسی کے باعث ہوئی۔

دوسری جانب جنوبی آسٹریلیا کے محکمہ پرائمری انڈسٹریز اینڈ ریجنز کے مطابق کٹل فش کی آبادی ماحولیاتی حالات کے تحت قدرتی طور پر اتار چڑھاؤ کا شکار ہوتی ہے۔

حکام کے مطابق ماضی میں بھی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ 2013 میں صرف 13,500 کٹل فش ریکارڈ ہوئی تھیں، تاہم 2020 میں یہ تعداد 247,000 تک پہنچ گئی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ 2013 کی کم تعداد کے صرف دو سال بعد آبادی ایک لاکھ سے تجاوز کرگئی تھی۔

جنوبی آسٹریلیا ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر مائیک اسٹیئر نے رواں سال کی انتہائی کم تعداد کو افسوسناک قرار دیا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ ماضی کے تجربات سے معلوم ہوتا ہے کہ سازگار ماحولیاتی حالات میں کٹل فش کی آبادی دوبارہ بحال ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بالغ کٹل فش اب بھی انڈے دے رہی ہیں، جو ایک مثبت علامت ہے، اور ممکن ہے کہ آنے والے برسوں میں آبادی دوبارہ بحال ہوجائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے